پچھلے تین مہینے سے ملک کے کسان احتجاج پر ہیں۔شاید ہی کوئی ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقہ رہاہو جہاں کسان مرکزی سرکار کی طرف سے پاس کئے گئے تین زرعی قوانین کے خلاف سڑکوں پر نہ نکلے ہوں۔دیکھاجائے تو 1947کے بعد ایسا پہلی بار ہورہاہے۔اس احتجاج کو سرکار کی طرف سے پنجاب تک ہی محدود رکھنے کی ہر کوشش ناکام ہورہی ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ اس احتجاج نے عوام کے ہر طبقہ کی ہمدردیاں حاصل کرکے ایک ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کی ہے۔سرکار کی طرف سے خالصتانی ،پاکستانی یا قوم دشمنی کا کوئی بھی الزام اس بار عوام کے گلے نہیں اترسکا۔26جنوری 2021کو لال قلعہ پرایک مخصوص فرقے کاجھنڈالہرانے کی مذموم سازش سے بھی احتجاجی کسانوں کی صفوں کو کمزور نہیں کیاجاسکا،نہ ہی ان کی دیش بھگتی پر کوئی آنچ آسکی۔6فروری 2021کے چکہ جام پروگرام نے سرکار کے سخت رویہ کو اتنا کمزور کیاکہ اس کو راجدھانی دہلی جانے والی بیشتر سڑکوں کو کھڈوں میں تبدیل کرناپڑااور کسان تحریک کے دبائو کا مقابلہ کرنے کیلئے سڑکوں پر کنکریٹ اور لوہے کی ناقابل عبور رکاوٹیں کھڑاکرناپڑیں۔دہلی کے اردگرد کا علاقہ جیسے کسی دشمن ملک کی سرحد لگ رہاتھامگر کسان پیچھے ہٹنے پر راضی نہیں ہوئے۔ان کی زبان پر صرف ایک نعرہ تھاکہ گھر واپسی تب تک نہیں ہوگی جب تک کہ تین زرعی قوانین واپس نہیں لئے جائینگے۔اور ایم ایس پی کو قانونی ضمانت کے ساتھ ساتھ سرکاری ایجنسیاں بھی زرعی پیداوار خریدنے کے لئے سامنے نہیں آجاتی ہیں۔کسانوں کی اس تاریخی جدوجہد کو جھٹلانے کی ہر ممکن کوشش کے باوجود یہ تحریک روز بروز قومی اور بین الاقوامی ہمدردیاں حاصل کرتی جارہی ہے جس سے مرکزی سرکار بے حد پریشان ہے۔پارلیمنٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی صدرکی تقریر پر ہوئی بحث کے جواب میں بولتے ہوئے احتجاجی کسانوں کے تئیں تبصرے سے یہ بات صاف چھلکتی ہے۔
اس صورتحال کی شروعات اس وقت ہوئی جب 2020میں کورونا، جس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیاتھا ،سے بچائو کیلئے سرکار نے باقی ضروری اور لازمی اقدامات اٹھانے کی بجائے لاک ڈاون اور تھالیاں بجانے پر ہی اکتفاکیا اور ملک کے عوام کو گھروں میں قید کیاگیا۔اس کے علاوہ کروڑوں لوگوں کو بے یارو مددگار ،بھوکے اور ننگے پائوں تپتی سڑکوں پر چل کر اپنے گھروں کو پہنچنے کیلئے مجبور کیاگیا۔ا ن میں کئی لوگ اپنی قیمتی جان بھی گنوابیٹھے۔ان حالات پر توجہ دینے کے بجائے سرکارمختلف عوام دشمن آرڈیننس نافذ کرنے کے ساتھ مست رہی۔ان میں زراعت میں ریفارم کے نام پر کسانوں کے مفاد کے خلاف وہ زرعی آرڈیننس بھی تھا جسے جون 2020میں ایک بل کی شکل میں پارلیمنٹ میں پیش کیاگیا اور اپنی اکثریت کا فائدہ اٹھاکر پاس کرایاگیا۔اسی بل پر بحث کے دوران راجیہ سبھا میں تمام پارلیمانی اقدار کی بھی دھجیاں اڑائی گئیں۔اس طرح تین زرعی ایکٹ وجود میں لائے گئے جسے ملک کے راشٹر پتی نے حسب توقع تصدیق کرکے اپنی منظوری بھی دے دی۔
آیئے ان کارپوریٹ موافق اور کسان مخالف زرعی قوانین کو سرکار کی لفاظی ایک طرف چھوڑ کر مختصراًواضح کرنے کی کوشش کریں۔ 2014کے پارلیمانی الیکشن کے دوران بی جے پی نے زرعی سیکٹر کو بحرانی کیفیت سے باہر نکالنے اور کھیتی کو منافع بخش بنانے کیلئے سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشات کو من وعن لاگو کرنے کا وعدہ دیکر ہی کسان اکثریت کا ووٹ حاصل کیا جس میں باقی باتوں کے علاوہ تمام زرعی پیداوار کو ایم ایس پی کے دائرے میں لاکر 50+C2 فارمولہ کے تحت ڈیڑھ گنا بھائوفراہم کرنے اور زرعی قرضہ جات کو یکسر معاف کرنا شامل تھا جس کی آل انڈیا کسان سبھااور باقی کسان تنظیمیں لمبے عرصہ سے مانگ کررہی تھیں۔مگر نئی نویلی مودی سرکا رنے وجود میں آنے کے فوراًبعد ہی فصل کا ڈیڑھ گنا بھائو فراہم کرنے کے سلسلے میں یکسر منہ موڑ دیا اور اس وعدے کو بھی الیکشن جملہ قرار دیا۔اس کو لیکر 2018کے دوران سارے ملک میں ایک زوردار کسان احتجاج پھوٹ پڑی جس کے دبائو میںآکر سرکار نے ایک نئی فارمولہ A2+FLکے تحت زرعی پیداوار کو ڈیڑھ گنابھا ئو فراہم ہوجانے کا دعویٰ کیا جو کہ سراسر غلط ہے کیونکہ اسی فارمولہ کے تحت دھان کا بھائو1550روپے سے بڑھاکر 1700روپے کیاگیا جس سے فی کوئنٹل صرف 150روپے کا اضافہ ہوجاتاہے جبکہ ڈیڑھ گنا مان کر سرکار کے اندازہ کے مطابق بھی یہ 2300روپے ہوجاناچاہئے تھامگر ایسا نہیں ہوا۔اس لئے اس دعوے کو کسانوں اور ان کی ساری تنظیموں نے مسترد کردیا۔
ادھر 2019کے الیکشن میں دوبارہ چنے جانے کے بعد موجودہ سرکار نے زرعی اصلاحات کے نام پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پارلیمانی اقدار کا ذرا بھی خیال کئے بغیر تین فارم بلیں پاس کراکر فارم ایکٹ کے نام پر موجودہ کسان دشمن قانون وجود میں لائے جو مختصراًکچھ اس طرح سے ہیں:۔
ضروری اشیاء سٹور کرنے کا ترمیمی قانون
اے پی ایم سی ترمیمی قانون
کنٹریکٹ فارمنگ
۱۔ ضروری اشیاء ترمیمی قانون کے مطابق کسی بھی شخص ،بیوپار ی یا کمپنی کو یہ اختیار دیاگیاکہ وہ رجسٹرڈ منڈی سے باہر بھی بغیر کسی رکاوٹ کے ہر طرح کی زرعی پیداوارکسانوں سے خرید سکتاہے یا سٹور کرسکتاہے۔ذخیرہ کرنے کی اس کھلی چھوٹ سے نہ صرف کسان بلکہ سارے صارفین کا متاثر ہونا یقینی ہے اور مارکیٹ کھلی چھوٹ کے نام پر ملک کے غریب عوام اور کسانوں کو آگے بڑھنے کی ضمانت فراہم رکھنا صرف مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔بہار کے کسانوں کو اسی قانون کی وجہ سے غربت کے دلدل میں ہچکولے کھانے پڑتے ہیں اور یہ بات ملک کے کسانوں کی نظروں سے بعید نہیں ہے۔
۲۔جہاں تک اے پی ایم سی ترمیمی ایکٹ کا تعلق ہے یہ تو کسانوں کی اس مانگ کی کہ تمام زرعی پیداوار کو ایم ایس پی قانون کے دائرے میں لایاجاناچاہئے، سرکاری ایجنسیاں بھی زرعی پیداوار خریدنے (procure) کے لئے منڈیوں میں اپنا دخل بڑھا ئیں اور زمینی سطح پر اسے یقینی بناناچاہئے، کے بالکل الٹ ہے۔اسی قانون کے اطلاق سے دستیاب 7000منڈیوں کا خاتمہ بھی یقینی ہے۔ اور سوامی ناتھن کمیشن کی سفارش کے مطابق ہر پانچ کلو میٹر کے دائرے میں ایک رجسٹرڈ منڈی قائم کرنے سے منڈیوں کی تعداد 42000ہونی چاہئے،کی دھجیاں اڑجاتی ہیں۔سرکار یہ قانون منڈیوں میں کورپشن اور بد انتظامی دور کرنے کے نام پر کررہی ہے۔حالانکہ ملک کی تمام کسان تنظیمیں بشمول سنیکت کسان مورچہ(SKM) منڈیوں میں اصلاحات اور سدھار کرکے ریگولیٹڈ منڈیوں کے پھیلائو کی مانگ کررہی ہیں۔اسی وجہ سے دہلی کے اردگرد ریاستیں پنجاب،ہریانہ ،راجستھان اور اتر پردیش وغیرہ موجودہ کسان احتجاج کی اگلی صفوں میں شامل ہیں کیونکہ یہی وہ ریاستیں ہیں جنہوں نے ملک کیلئے نہ صرف اناج اگایا بلکہ اناج اگانے والے ان داتا کو بھی ترقی کی جانب بڑھ جانے کا موقع فراہم کیا جوکہ بہار جیسے علاقے میں نہیں ہوسکاکیونکہ وہاں نہ تو ایم ایس پی قانون لاگو ہے اور نہ ہی سرکار ی منڈیاں دستیاب ہیں۔
۳۔کنٹریکٹ فارمنگ۔یہ قانون کچھ اس طرح سے ترتیب دیاگیاہے جس سے کسان طبقے کے75فیصدحصے کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ حالانکہ ملک کے آئین کے تحت سرکار کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ زراعت اوراس کے ساتھ جڑے کسانوں کو آگے بڑھنے اور ملک کیلئے زیادہ سے زیادہ اناج اگانے کیلئے ہر ممکن سہولیت فراہم کرے۔چاہے وہ آبپاشی ہو،نئے قسم کے بیج ہوں،نئی ٹیکنالوجی ہویا زرعی قرضہ جات ،یہ سب سرکار کی ذمہ داری طے کی گئی ہے مگر کنٹریکٹ فارمنگ قانون کی موجودہ ہیئت کو مد نظر رکھ کر سرکار اپنی ذمہ داری سے ہٹ کر یہ سارا کام کمپنیوں کو سونپ دیناچاہتی ہے۔چنانچہ کمپنیاں محض نفع کمانے کیلئے کام کرتی ہیں وہ زرعی ڈھانچے کی ترقی یا کسانوں کی بھلائی کیوں چاہیں۔ماہرین کا مانناہے کہ اس قانون کے ذریعہ سرکار دھیرے دھیرے کسانوں کو زمین سے جدا کرناچاہتی ہے تاکہ وہ کمپنیوں کیلئے سستی مزدوری پر جگہ جگہ دستیاب رہیں۔اسی طرح بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کا غلبہ ملک کے 62لاکھ کروڑ خوردنی مارکیٹ پر قائم ہوجائے گا۔اس کا واضح ثبوت لاک ڈائون کے دوران بھی ملا جب چند بڑے کارپوریٹ گھرانوں نے کروڑوں بھوکے اور ننگے عوام کی مجبوریوں کافائدہ اٹھاکر اپنے منافع میں 35فیصد کا اضافہ کیا۔
موجودہ سرکار ملک کے کسان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرانے کے نام پر انہیں بھی غربت کی بھٹی میں جھونک دیناچاہتی ہے اور باربار احتجاجی کسان لیڈروں کو تو بات چیت کیلئے دعوتیں دے رہی ہے مگر جب پارلیمنٹ میں اس پر بحث کرنے کی گنجائش اور ضرورت تھی اس وقت تمام جمہوری اقدار کو بالائے طاق رکھ کر یہ قانون جلدی میں پاس کروائے گئے۔ان تمام دلائل سے یہ واضح ہوجاتاہے کہ یہ تینوں قوانین کسان اور باقی غریب عوام کے مفاد کے خلاف ہیں ،اس لئے ان کے خلاف آواز بلند کرناہم سب کی ذمہ داری ہے اور فرض بھی۔
(کالم نگار جموں کشمیر کسان تحریک کے جنرل سیکریٹری ہیں)
������