نئی دہلی//یواین آئی// وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو تین زرعی قوانین کو 'سب کے مفاد میں ، سب کی خوشی میں' کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پرانی سوچ سے کسانوں اور کاشتکاری کا کوئی بھلا نہیں ہوگا اور ناکامی کے خوف سے تبدیلی کو روکا نہیں جاسکتا ہے ۔مودی نے یہاں لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر 14 گھنٹوں سے زیادہ عرصہ سے چلے بحث کا جواب دیتے ہوئے زرعی اصلاحات کے قوانین کا زبردست طریقے سے دفاع کیا۔ اپوزیشن کے زبردست خلل ڈالنے کی کوشش اور مخالفت کے دوران وزیراعظم نے اپوزیشن پر بھی تیکھے حملے کئے اور کہا کہ ‘‘حکومت تحریک چلارہے سبھی کسان بھائیوں کی عزت کرتی ہے اور ہمیشہ کرے گے ۔ حکومت کے سینئر لیڈر مسلسل باعزت طریقے سے بات چیت کررہے ہیں۔کسانوں کے خدشات کو ختم کرنے کی سنجیدگی سے کوشش کررہے ہیں۔ اگر کوئی کمی ہوگی اور اس سے کسانوں کو نقصان ہورہا ہوگا تو حکومت اسے تبدیل کرنے کے لئے تیار ہے ۔مسٹر مودی نے کہا کہ قوانین کو تبدیل کرنے میں کیا جاتا ہے ۔ یہ ملک اس کے شہریوں کا ملک ہے ۔ اگر لوگ اس سے اتفاق نہیں کرتے ہیں تو حکومت اسے تبدیل کردے گی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی قوانین کے 'کلر' پر ایوان میں صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بہت بحث ہوئی۔ اچھا ہوتا اگر 'مشمولات' اور 'ارادے ' پر بات ہوتی تو تحریک چلارہے کسانوں کو سمت ملتی۔ احتجاج کرنے والوں کے درمیان جو غلط فہمی اور افواہیں پھیلائی گئیں ہیں اس کا جواب مل پاتا۔وزیر اعظم کے اتنا کہتے ہی کانگریس کے رہنما ادھیر رنجن چودھری کھڑے ہوگئے۔