جموں//نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی سرکار اور ریاستی سرکار ،جس میں بی جے پی بھی ایک شریک تھی، کی جانب سے لوگوں کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگاتے ہوئے شیڈولڈ کاسٹ ،شیڈولڈ ٹرائب ،و دیگ رپسماندہ طبقہ کے لیڈروں بشمول سماجی۔ مذہبی تنظیموں ، سماجی کارکنوں ،تعلیم یافتہ بیروزگاروں نے آنے والے پارلیمانی انتخابات میںبی جے پی کے خلاف ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔منگل کے روز یہاں منعقدہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان طبقوں کے لیڈروں نے لوگوں سے بی جے پی کو الگ تھلگ کرنے کیلئے پارٹی کے خلاف ووٹ دینے کی اپیل کی۔ان لیڈروں نے کہا کہ بی جے پی کے پانچ سالہ دور میں ریزروڈ طبقہ کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔گورو روی داس سبھا کے جنرل سیکرٹری ایم ایل بنالیا نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گُذشتہ پانچ سال ریزروڈ کٹیگری کے لوگوں کے لئے کافی پریشانیوں کے سال رہے ہیںکیونکہ ایس سی ،ایس ٹی و او بی سی طبقہ کے آئینی حقوق کی جان بوجھ کر پامالی کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ان طبقوں پر ایک یا دوسرا بہانہ بنا کر مظالم ڈھائے گئے۔آل جے اینڈ کے بھگت مہا سبھا کے صدر مہندر سنگھ نے کہا کہ ریاست میں مخلوط سرکار نے بی جے پی کی سرگرام شراکت سے طبقہ کے مسائل میں اضافہ کردیا ہے۔انہوںنے حالیہ لوک سبھا انتخاب میں طبقہ کے ممبروں کو سیکولر طاقتوں کو مستحکم بنانے کی اپیل کی۔ پریس کانرنس میں ایم ا ٓر بنگوترہ، جی ایل لکھوترہ، ڈاکٹر ہردیال، ڈاکٹر سی آر منڈے، پروفیسر جی ایل تھاپا، ٹی سی بووریہ، جی ایل راہی، سرداری لعل، رومیش کمار ،نگہت شفیق، اور منوج کمار بھی شامل تھے۔