کابینہ میں توسیع مشاورت سے ہوگی،ریزر ویشن پر اگلی کابینہ میٹنگ میں حتمی فیصلہ لیا جائیگا:وزیر اعلیٰ
اعجاز میر
سرینگر// نیشنل کانفرنس نے دہلی دھماکہ کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہا کہ مہذب سماج میں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کے دور روزہ اجلاس کے اختتام پر سات قراردادیں منظور کی گئیں جن میں خصوصی حیثیت کی بحالی اور ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ کرنے کے علاوہ دہلی دھماکہ کی مذمت کی گئی تاہم ایک اور قرارداد میں دھماکہ کے بعد ملک بھر میں کشمیر یوں کی ہراسانی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس طرح کے رجحان پر قدغن لگانے پر زور دیا گیا ۔ایک اور قرارداد میں نوگام دھماکہ کی اعلیٰ تحقیقات اور متاثرین کو مناسب معائوضہ دینے کا مطالبہ کرنے کے علاوہ نیشنل کانفرنس کے چنائو منشور پر مکمل عملدرآمد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا جبکہ عمر عبداللہ حکومت کی مکمل حمایت کا بھی اعلان کیاگیا۔اجلاس کے بعد ایک پر ہجوس پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں انہدامی مہم سے اپنی حکومت کو دور کرتے ہوئے کہا کہ یہ مہم منتخب حکومت کی رضامندی کے بغیر چلائی گئی ہے اور منتخب حکومت کے کام کاج میں مداخلت کرکے اس کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ریاستی درجہ بحالی پر زور دیتے ہوئے انہوںنے سوال کیا کہ آخر اس میں کونسی رکاوٹ حائل ہے جبکہ حدبندی اور الیکشن کا عمل پہلے ہی مکمل ہوچکا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وزارتی کونسل میں توسیع کا معاملہ پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر چھوڑا گیا ہے اور وہ پارٹی لیڈروں کے ساتھ مشاورت کر کے اس کا تعین کریں گے اور انکی جو بھی ہدایت ہوگی اس پر عمل کیا جائیگا۔وزیر اعلیٰ نے ریزر ویشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں کابینہ سب کمیٹی کی سفارشات مرتب کی گئیں ہیں اوراب الیکشن کے ساتھ کوڈ آف کنڈکٹ بھی ختم ہوگیا ہے،اسلئے کابینہ کی اگلی میٹنگ میں متعلقہ وزیراسے پیش کریں گے جس کے دوران اس پرحتمی مشاورت ہوگی۔
ریاستی درجہ بحالی
وزیر اعلیٰ نےکہاکہ منتخب حکومت کے ہوتے ہوئے کیا کبھی پہلگام جیسا واقعہ ہوا، بالکل نہیں۔ انکا کہنا تھا کہ وہ چھ سال تک وزیر اعلیٰ رہے لیکن کبھی دلی جیسی سیکورٹی کی ناکامی نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ایک بار تو ذمہ داری دیجئے، اس طرح کا حملہ ہوا تو سٹیٹ واپس لیجئے، پارلیمنٹ آپ کے پاس ہے۔وزیر اعلیٰ نےسوال کیا کہ آخر ریاستی درجہ بحالی میں کونسی رکاوٹ ہے جبکہ مرکزی سرکار نے پارلیمنٹ میں پورے ملک کے عوام سے وعدہ کیا ہے کہ جموں کشمیر کو ریاستی درجہ واپس دیا جائیگا اور اسکے لئے حد بندی اور الیکشن شرائط رکھیں لیکن اسکے باوجود بھی وعدوں پر عملدر آمد نہیں کیا جارہا ہے۔انہوں نے مرکز سے مخاطب ہوکر کہا’’ یا تو آپ اپنے وعدے پورے کریں یا پھر یہ کہیں کہ جب تک یہاں بے جے پی کی حکومت نہیں ہوتی، ریاستی درجہ نہیں ملے گا‘‘۔
تنظیم نو ایکٹ
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مرکزی سرکار نے ابھی تک تنظیم نو ایکٹ پر بھی عملدر آمد نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے اختیارات میں کنفیوژن پیدا ہورہا ہے۔انکا کہنا تھا کہ یا تو تنظیم نو ایکٹ پر من و عن عمل کریں جو نہیں کیا جارہا ہے،ہم اپنے دائرے سے باہر نہیں نکل رہے ہیں، لیکن ہمارے دائرے میں مداخلت کی جارہی ہے، اور جموں بلڈوزر اسکی تازہ مثال ہے۔
کام کاج میں مداخلت
وزیر اعلیٰ نے اس بات کا گلہ کیا کہ ان کے کام کاج میں مداخلت کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں میںبلڈوزر کا استعمال منتخب حکومت کو “بدنام” کرنے کی “سازش” کا حصہ ہے۔عبداللہ نے کہا کہ، راج بھون کے تعینات افسران منتخب حکومت کی اجازت کے بغیر اور متعلقہ وزیر سے مشورہ کیے بغیر آزادانہ طور پر بلڈوزر کا استعمال کررہے ہیں۔ یہ منتخب حکومت کی شبیہ کو خراب کرنے کی واضح سازش کی نشاندہی کرتا ہے۔وزیراعلی نے اس بات پر زور دیا کہ یہی وجہ ہے کہ ان کی حکومت اپنے محکموں میں فیلڈ سٹاف کو تفویض کرنے کا اختیار رکھنے کی ضرورت پر زور دے رہی ہے۔انہوں نے کہا”یہ ٹھیک ہے کہ آپ پرنسپل سیکرٹریز، کمشنر سیکرٹریز اور ایڈیشنل چیف سیکرٹریز وغیرہ کی پوسٹنگ کرتے ہیں لیکن ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کے سی ای اوز وغیرہ کو منتخب حکومت کی طرف سے تعینات کیا جانا چاہئے، ریونیو سٹاف کو ہماری اجازت سے تعینات کیا جانا چاہئے، افسوس کی بات ہے کہ افسران کو ان عہدوں پر بغیر کسی بحث کے تعینات کر دیا جاتا ہے، پھر وہ افسران کہیں سے ڈکٹیشن لیتے ہیں، اور کہیں سے کارروائی شروع کر دیتے ہیں۔”وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری یا اسلامک یونیورسٹی اونتی پورہ واپس نہیں دیئے گئے ہیں۔پاور ڈیولپمنٹ اورسکمز ادارے کو واپس نہیں کیا گیا ہے، حتیٰ کہ انفارمیشن محکمہ بھی منتخب سرکار کو نہیں دیا گیا ہے جہاں کے ڈائریکٹر کا عہدہ کے اے ایس افسر کا ہے۔انہوں نے پوچھا ایسی کیا وجہ ہے کہ یہاں آئی اے ایس افسر کو بٹھایا گیا ہے۔
جموں بلڈوزر
عبداللہ نے الزام لگایا کہ ایک سازش ہو رہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ کارروائیاں ایک مخصوص کیمونٹی کو نشانہ بنا رہی ہیں۔”کیا جموں میں صرف یہی ایک جگہ ہے جہاں تجاوزات کے الزامات لگائے گئے ہیں؟ میں نے محکمہ سے کہا ہے کہ وہ جے ڈی اے کی مکمل فہرست پیش کرے جہاں بھی جے ڈی اے کی اراضی پر ناجائز تجاوزات ہیں، میں یہ بھی دیکھنا چاہتا ہوں کہ اس واحد شخص کو حکام نے کیوں نشانہ بنایا اور کیا اس کی وجہ اس کا مذہب ہے، کیوں کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ جے ڈی اے کی تمام اراضی پر صرف ایک ہی قبضہ ہو”۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے پہلے کے ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے کہ منتخب حکومت کے کام میں کوئی مداخلت نہیں ہے، وزیر اعلیٰ نے کہا، “یہ مداخلت کا ایک واضح معاملہ ہے، کوئی مجھے ایک فائل دکھائے جس سے یہ ظاہر ہو کہ متعلقہ وزیر کو مطلع کیا گیا تھا یا ہمارے ساتھ کوئی بات چیت ہوئی تھی۔” وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگرچہ کوئی بھی سرکاری اراضی پر ناجائز تجاوزات کی حمایت نہیں کرتا، “یہ لوگ جو منتخب حکومت کو بدنام کرنے کے لیے بلڈوزر کا استعمال کرتے ہیں، انہیں اپنے طریقے درست کرنے کی ضرورت ہے”۔انہوں نے کہا کہ وہ اس میں ملوث افسر کے خلاف کارروائی کرتے اگر اس افسر کو منتخب حکومت نے تعینات کیا ہوتا۔انہوں نے مزید کہا کہ “آپ وزیر کی اجازت کے بغیر اتنا بڑا قدم اٹھا سکتے ہیں؟ مجھے یہاں کہیں سے سازش کی بو آرہی ہے، اگر ایسا صرف ایک بار ہوا ہوتا تو میں اسے سمجھ سکتا ہوں، لیکن یہ منتخب حکومت کو بدنام کرنے کے لیے ایک جاری انداز ہے کیونکہ یہ لوگ انتخابی نتائج کو ہضم نہیں کر سکتے،” ۔انہوں نے جے ڈی اے کے سی ای او کو چیلنج کیا کہ وہ اخبارات میں ناجائز تجاوزات کی فہرست شائع کریں۔عبداللہ نے کہا، “اسے جموں میں تجاوزات کرنے والوں کے نام شائع کرنے دیں، پھر ہم دیکھیں گے کہ وہاں کون ہے،صرف مذہب یا مقام کی بنیاد پر افراد کو نشانہ بنانا ایک سیاسی سازش کے سوا کچھ نہیں ہے،” ۔
ایک سال کی کارکردگی
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایک سال کی کارکردگی کا دو روز کے دوران مکمل احاطہ کیا گیا۔ اراکین اسمبلی سے فیڈ بیک لیا گیا، تنظیمی امور پر سیر حاصل بحث کی گئی اور کچھ تجاویز کے علاوہ 7اہم قراردادیں منظور کی گئیں۔انہوں نے کہاکہ بڈگام حلقے میں پیش آئی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔بڈگام اور نگروٹہ کے نتائج کا بھی جائزہ لیا گیا اور آنے والے دنوں میں اس بارے میں ضروری فیصلے لئے جائیں گے۔
پاور
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بجلی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک لوگ بجلی، میٹر کے حساب سے استعمال نہیں کریں گے، فیس کی زیادہ وصولی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ200یونٹ مفت بجلی کا وعدہ وہ اس وجہ سے پورا نہیں کر پارہے ہیں کیونکہ میٹرنگ کی شرح 50فیصد سے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ سمارٹ میٹرنگ مکمل ہونے کے بعد بجلی کا مسئلہ حل ہوجائیگا۔
ڈیلی ویجر
انہوںنے کہا کہ 2014میں انہیں دھوکہ دیا گیا۔ہم وعدے پورے کریں گے۔ ایک ایک کر کے مطالبے حل کئے جائیں گے۔انکا کہنا ہے کہ پانچ سال کیلئے منڈیٹ ملا ہے، وقت لگے گا لیکن وعدے پورے کئے جائیں گے۔