جموں//بھارت رکھشامنچ نے آسام کے بعد ریاست جموںوکشمیرمیں قومی شہریت سرٹیفکیٹ کی رجسٹریشن کو باقاعدہ عمل اورطریقہ کار بنانے کیلئے سرکار سے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کے لیڈر روہت بجرنگی نے نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ تواریخی مقام ہے کہ بھارت سرکار نے قومی شہریت رجسٹریشن کاآغاز کیاہے جو قابل تعریف قدم ہے ۔انہوںنے پوچھے گئے سوال کے جواب میں بتایاہے کہ ملک کے اندر اس وقت بھاری تعداد میںدراندازی کرکے پہلے سے ہی داخل ہوچکے ہیں جن کی شناخت یقینی طورپر اس طرح کے پہل سے آسان ہوجائے گی۔ انہوںنے دکھ کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ کسی بھی ایجنسی کے پاس دراندازوںکا ڈاٹا موجود ہے اورنہ ہی اب تک سرکار کے پاس دستیاب ہے جس کے پیش نظر غیرریاستی باشندوںکی شناخت بہت مشکل سی ہوچکی ہے ۔انہوںنے دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کے پاس مردم شماری کارپورٹ موجود ہے جس سے معلوم ہوچکاہے کہ غیرریاستی باشندے بھاری تعداد میں ریاست جموںوکشمیرمیں داخل ہوچکے ہیں اورغیر آئینی طور پر کئی سالوں سے رہ رہے ہیں۔ روہت بجرنگی نے اپنے جاری بیان میں واضح کردیاہے کہ سپریم کورٹ نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست آ سام میں غیرریاستی شہریوں کی فہرست کو جاری کیا جائے تاکہ ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں قومی شہریت سرٹیفکیٹ اجراء کرنے سے بنگلہ دیشیوں اورروہنگیوں کی کل تعداد آبادی کی جانکاری فورطورپرمل جانے کی توقع کی جاسکتی ہے لہذا آسام کے بعد جموں وکشمیرمیں بھی قومی شہریت سرٹیفکیٹ اجراء کرنے پرزوردیاجائے.۔