جموں/رہبرتعلیم اساتذہ کے حق میںساتویں تنخواہ کمیشن کے نفاذ کی مانگ کولے کرآرای ٹی ٹیچروں نے آرای ٹی ٹیچرس فورم کی کال پر دوروزہ قلم چھوڑہڑتال شروع کردی ہے اورمانگ پوری نہ ہونے کی صورت میں28اگست سے پریس کلب جموں میں پرامن دھرنے کااعلان کیاہے۔ ایک پریس بیان کے مطابق ریاست کے 41ہزار مستقل شدہ رہبر تعلیم اساتذہ کے حق میں سرکار کی طرف سے نامعلوم وجوہات کی بنا پر ابھی تک ساتویں تنخواہ کمیشن کولاگونہیں کیاگیاہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پانچ سال کی تسلی بخش سروس انجام دینے کے بعد ریاست کے مستقل ملازم ہے اور باضابطہ طور پر سرکاری حکم کے تحت وہ مستقل کئے گئے ہیں جبکہ چھٹے پے کمیشن کے علاوہ دیگر تمام مرعات بھی آج تک نہیں دی گئی لیکن ساتویں پے کمشن کے اطلاق کے بعد ابھی تک ان کے حق میں اسے واگذار نہ کیا گیا ہے – آرای ٹی ٹیچرس فورم ترجمان کے مطابق اْنہوں نے اس سلسلے میں عید الاضحی کے موقعہ پر سرینگر کی پرتاب پارک میں نماز ادا بطور احتجاج ایک ساتھ ادا کر نے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اْن پر پولیس کی مدت سے طاقت کا استعمال کیا گیا اور درجنوں کو گرفتار کر کے نماز ادا ایک ساتھ ادا کر نے نہ دی گئی ۔پریس بیان کے مطابق فورم کے ریاستی چیرمین فاروق احمد تانترے کی قیادت میں فورم لیڈران نے اپنی جدو جہد کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے -اْنہوں نے کہا کہ جمعہ اور سنیچر کو قلم چھوڑ ہڑتال کے بعد اگر ریاستی انتظامیہ نے اس بارے میں مثبت رویہ اختیار نہ کیا تو اْنہوں نے 28 اگست سے ریاست کی دونوں سرمائی اور گرمائی راجدھانی میں پانچ روز دھرنے پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے – فورم لیڈران نے ریاست کے تمام ضلعی اور زونل صدور سے کہا ہے کہ وہ فورم کی ہڑتالی کال اور اپنے حقوق کی بازیابی کی لئے اپنا کردار ادا کریں ۔