بانڈی پورہ//ڈی ڈی سی انتخابات کے دوران قابل اعتراض تقریر کرنے کے الزام میں پولیس نے نیشنل کانفرنس ممبر پارلیمان محمد اکبر لون کے گرفتاربیٹے ہلال اکبر پرغیرقانونی سرگرمیوں سے متعلق ایکٹ (یو اے پی اے) کا اطلاق کردیا ہے۔ہلال اکبر کوچیف جوڈیشل مجسٹریٹ بانڈی پورہ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہیں دس روز ہ پولیس ریمانڈ میں دیدیا گیا۔ نائد کھے علاقہ میں ڈی ڈی سی انتخابات کے دوران قابل اعتراض تقریر کرنے کا الزام میں ہلال اکبر لون کو 25 دسمبر کو گرفتار کر کے ایم ایل اے ہاسٹل میںبند کر رکھا تھا۔پولیس سٹیشن حاجن میں اسکے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث سے متعلق کیس زیر نمبر02/2021 زیر دفعات153A/181,505اور آئی پی سی 13کے تحت کیس درج کیا گیا ہے جس کے بعد حاجن پولیس نے ان کی باضابطہ طور پرگرفتاری عمل میں لائی اور سی جے ایم کورٹ بانڈی پورہ میں انہیں پیش کر کے انکی 10روزہ پولیس ریمانڈ حاصل کی گئی۔محبوبہ مفتی نے ہلال لون کی گرفتاری پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔محبوبہ نے کشمیر میں سیاسی رہنماؤں کو حراست میں لینے پر مرکزی حکومت پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔محبوبہ مفتی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا’’ مرکزی حکومت شرمناک انداز میں جموں و کشمیر کے بھارت نواز سیاسی رہنماؤں کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت’نفرت انگیز تقریر‘کیلئے حراست میں لے ر ہی ہے، سچ تو یہ ہے کہ اگر ان (بی جے پی) کے اپنے وزراء، قانون سازوں اور آئی ٹی سیل کی فرقہ وارانہ تقاریر دیکھی جائیں تو ملک کے جیلوں میں انہیں قید رکھنے کی جگہ کم پڑ جائے گی‘‘۔ دریں اثناء نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ جب بھاجپا کے لیڈروں کے نفرت آمیز تقاریر کی بات آجاتی ہے تو مختلف پیمانہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا’’ وہ ہاتھوں کی کاٹنے، لوگوں کو قتل کرنے کی بات کرریں گے،وہ کوئی غلط بات نہیں‘‘۔ہلال لون نے مخالف تقریر کی تو دہشت گردی قانون کا اطلاق کیا گیا۔