جموں//کمپٹورل اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا نے جموں کشمیرمیں مختلف محکموں میں متعدد پروگراموں کی عمل آوری میںخامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے یوٹی انتظامیہ پرزوردیا ہے کہ وہ نظام کودرست کرکے آڈٹ مشاہدوں پر معینہ مدت میں مناسب کارروائی کو یقینی بنائیں۔سماجی،عمومی اور اقتصادی ( نان پبلک سیکٹرانڈرٹیکنگس) شعبے کی 31 مارچ 2019 کوختم ہوئے سال کی رپورٹ میں آڈیٹرجنرل ،نے کہا کہ کثیر تعدادمیں پیراگرافوں کوزیرغورلانے سے اس بات کااظہار ہوتا ہے کہ سرکاری محکموں کے آڈٹ کے بارے میں ناکافی ردعمل ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ گزشتہ کئی برس کے دوران مخصوص محکموں میں پروگراموں کی عمل آوری میںخامیاں تھیں جن کی وجہ سے پروگراموں کی کامیابی پر اور محکموں کے کام کاج پرمنفی اثرات مرتب ہوئے۔اس میں کہاگیا ہے کہ حکومت کو اس معاملے کو دیکھنا چاہیے اور نظام کودرست کرکے معینہ مدت میں آڈٹ مشاہدوں پر کارروائی کو یقینی بنانا چاہیے۔سی اے جی نے کہا کہ سال2018-19کے دوران 727ڈرائینگ اینڈڈسبرسنگ افسروں اور25خودمختاراداروں کے74اکائیوں کاآڈٹ پرنسپل اکائونٹنٹ جنرل(آڈٹ) جموں کشمیر نے کیا تھا۔اس نے مزید کہا کہ اس دوران مخصوص پروگراموں اور اسکیموں کے آڈٹ پر توجہ مرکوز تھی تاکہ انتظامیہ کو مناسب کارروائی کرنے کی سفارشات کی جائیں اور شہریوں کو بہترخدمات کی سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا،’’23پیراگراف متعلقہ محکموں کے پرنسپل سیکریٹریوں اور سیکریٹریوں کو بھیجے گئے۔اس رپورٹ میں نوپیراگرافوں کاجواب(ستمبر2020تک)موصول نہیں ہوا۔کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل نے کہا کہ متعددپیراگرافوں پر غور کرنے کے بعدظاہر ہوتا ہے کہ سرکاری محکموں نے آڈٹ کامناسب جواب نہیں دیا ہے۔کے علاوہ 2018-19کے دوران آڈٹ کمیٹیوں کی صرف دومیٹنگیں ہوئیں جن میں 28آڈٹ پیراگرافوں کوحل کیا گیاجو مارچ2019تک زیرالتواء اعتراضات کا0.06فیصد ہے۔رپورٹ میں متعلقہ محکموں پرزوردیاگیا کہ وہ آڈٹ کمیٹیوں کو تشکیل دیں اور پیراگرافوں میں اُبھارے گئے نکتوںکوحل کرنے کی پیش رفت کی نگرانی کریں ۔متعددآڈٹ رپورٹوں میں اُبھارے گئے معاملوں میں نمٹنے والے اہلکاروں کو جوابدہ بنانے کیلئے حکومت(محکمہ خزانہ)نے جون1997میںانتظامی محکموں کو ہدایات جاری کیں کہ وہ آڈٹ رپورٹ میں تمام پیراگرافوں پر ازخود کارروائی کرنے (ایکشن ٹیکن رپورٹ)کی رپورٹ کوپبلک اکائونٹس کمیٹی یاکمیٹی برائے بلک انڈر ٹیکنگس کو پیش کریں۔ ان کمیٹیوں کی طرف سے داخل کی گئی ان ایکشن ٹیکن رپورٹوں پرپرنسپل اکائونٹنٹ جنرل (آڈٹ ) ریاستی قانون سازیہ میں ان کے پیش کئے جانے کی تاریخ کے بعدسے تین ماہ کے اندرکارروائی کرتا،تاہم 2000-10سے2015-16تک ایکشن ٹیکن رپورٹ 495آڈٹ پیراگرافوں میں سے 146پیراگرافوں کے ستمبر2020تک موصول نہیں ہوئے اور ،سول چپٹرس کی آڈٹ رپورٹوں کے
صرف245آڈٹ پیراگرافوں پرمارچ31،2020تک ،پبلک اکائونٹس کمیٹی نے تبادلہ خیال کیا۔223آڈٹ پیراگرافوں پرپی اے سی سفارشات پیش کی ہیں تاہم جموں کشمیر اور لداخ کے مرکزی زیرانتظام خطوں کی حکومتوں کی طرف سے کمیٹیوں کی سفارشات پر165پیراگرافوں کی ایکشن ٹیکن رپورٹ آناباقی ہے۔