عظمیٰ نیوز سروس
ممبئی، 6فروری:جمعہ کے روز بھارتی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 36پیسے کی گراوٹ کے ساتھ 90.70 (عبوری) پر بند ہوا۔ امریکی ایران مذاکرات سے متعلق جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیز اضافے نے روپے پر دبا ڈالا۔فاریکس تاجروں کے مطابق، ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے اہم شرحِ سود میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کیے جانے کے بعد سیشن کے ابتدائی حصے میں روپے کو سہارا ملا، تاہم غیر ملکی سرمایہ کاروں کے مسلسل اخراج کے باعث مقامی کرنسی دبا میں آگئی۔انٹربینک فارن ایکسچینج مارکیٹ میں روپیہ 90.28 پر کھلا اور دن کے دوران 90.18 کی بلند ترین سطح اور 90.83 کی کم ترین سطح کے درمیان اتار چڑھا کا شکار رہا۔ آخرکار یہ 36 پیسے کی کمی کے ساتھ 90.70 پر بند ہوا۔جمعرات کو روپیہ 13 پیسے مضبوط ہو کر 90.34 پر بند ہوا تھا۔میراے ایسٹ شیئرکھان کے ریسرچ اینالسٹ انوج چودھری نے کہا کہ ریزرو بینک کی جانب سے ریپو ریٹ کو 5.25 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد روپے میں ابتدائی تیزی دیکھی گئی، تاہم امریکی۔ایران مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث یہ برتری برقرار نہ رہ سکی۔انہوں نے مزید کہا کہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی عالمی منڈیوں میں رسک سے بچا کے رجحان کو فروغ دے سکتی ہے۔تاہم بھارت۔امریکہ تجارتی معاہدے سے متعلق امیدیں اور غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاری (FII) کی ممکنہ آمد نچلی سطح پر روپے کو سہارا دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق USD-INR اسپاٹ ریٹ 90.40 سے 91.20 کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ادھر، چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی مضبوطی ناپنے والا ڈالر انڈیکس 0.01 فیصد کمی کے ساتھ 97.81 پر رہا۔عالمی سطح پر برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 1.38 فیصد اضافے کے ساتھ 68.48 امریکی ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہی تھی۔ملکی شیئر بازار میں سینسیکس 266.47پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 83,580.40 پر بند ہوا، جبکہ نفٹی 50.90پوائنٹس بڑھ کر 25,693.70 پر پہنچ گیا۔ایکسچینج کے اعداد و شمار کے مطابق، غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کار دو دن کی خریداری کے بعد جمعرات کو خالص فروخت کنندہ بن گئے اور 2,150.51 کروڑ روپے مالیت کے شیئرز فروخت کیے۔