سرینگر// عمر عبداللہ نے بدھ کو کہا کہ دفعہ370کی منسوخی کے بعد ابتدائی طور پر’’گہری ناراضگی‘‘کے بعد انہیں احساس ہوا کہ بطور سیاستدان انہیں یہ حق نہیں ہے کہ دیر تک "ماتم" کیا جائے ور اپنے بنیادی آئینی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے لوگوں کو مایوس کیا جائے۔آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کی دوسری سالگرہ کے موقع پر ، سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو کچھ 5 اگست کو کیا گیا تھ، زیادہ تر لوگوں کے لئے ایک جھٹکا ہے جو ’’اچانک ، غیر متوقع اور غیر آئینی دھچکے‘‘سے متاثر ہوئے۔ عمرعبداللہ نے کہا’’میں ایک انتہائی مایوس فرد تھا، مجھے موجودہ حالات میں ممکنہ بنیادی سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے اپنے آپ کو متحرک کرنا مشکل محسوس ہوا،مگر یہ کہاوت ہے کہ اگر آپ قوس قزح چاہتے ہیں تو آپ کو بارش برداشت کرنی پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے کارکنوں اورلیڈروںنے جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں،ہمارے سینکڑوں کارکن اور لیڈر جنگجوئوں کی گولیوں کی زد میں آچکے ہیں، میں نے یہ سب کچھ اس وقت سوچا ،جب میری قید کے دوران میرے اندر ایک خاص روشنی ماند پڑ رہی تھی، میں نے محسوس کیا کہ میں دور نہیں جا سکتا۔‘‘ نیشنل کانفرنس نائب صدر نے کہا ’’مجھے سپریم کورٹ پر امید اور یقین ہے جس نے کہا تھا کہ وہ میرٹ کے مطابق گھڑی (کی سوئیوں کو)پلٹ سکتے ہیں، مجھے یقین ہے کہ کسی دن جموں ، کشمیر اور لداخ کے لوگوں کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔‘‘24 جون کو جموں و کشمیر کے مرکزی دھارے کے رہنماؤں کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کی ملاقات کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ معنی خیز نتائج پیدا کرنے کے لیے اس اقدام کو زمین پر اپنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا ’’وزیر اعظم نے واضح طور پر دہلی اور جموں و کشمیر کے درمیان جسمانی اور ذہنی دونوں’’فاصلوں کو کم کرنے کی بات کی، اب ہم اس میٹنگ کی تکمیل کے آغاز کا انتظار کر رہے ہیں‘‘۔نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا ’’ ترقی کی بہت زیادہ باتیں ہو رہی ہیں، ہم اس کا خیرمقدم کریں گے اگر یہ واقعی ہو۔ انتظامیہ کو ان منصوبوں کے افتتاح سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے جن کیلئے منتخب حکومتوں کے دور میں کام شروع ہو چکا تھا‘‘۔امن و امان کی صورت حال میں خاطر خواہ بہتری کے دعووں کے بارے میں۔ انہوں نے کہا’’آپ لوگوں کو چکمہ نہیں دے سکتے اور پھر دعویٰ کرتے ہیں کہ سب ٹھیک ہے۔ پچھلے دو سالوں میں لوگوں کو پرامن احتجاج کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ ایک طرف صورتحال کی ایک روشن تصویر تیار کی گئی ہے اور دوسری طرف مرکز پارلیمنٹ سے کہتا ہے کہ جب حالات معمول پر آئیں گے تو ریاست کی حیثیت بحال ہو جائے گی۔ عمرعبداللہ نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی صورت میں عوام اب ایک منتخب حکومت سے آزاد اور منصفانہ انتخابات کے ذریعے محروم نہیں رہ سکتے۔ عمرعبداللہ نے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ مستقبل قریب میں الیکشن نہیں لڑیں گے لیکن یہ واضح کر دیا کہ’’میں اپنے لوگوں کے ساتھ رہوں گا اور ان کی خدمت کروں گا چاہے میں اسمبلی میں نہ ہوں‘‘۔