کیف// روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے اور دونوں حریف میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ دریں اثنا، یوکرین کی جانب سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شہر ماریوپول کو روسی حملوں کے بعد شدید انسانی بحران کا سامنا ہے۔ ماریوپول میں ہر طرف تباہی کے مناظر ہیں۔رپورٹ کے مطابق یکم مارچ کو ماریوپول پر روسی ناکہ بندی کے آغاز کے بعد سے تقریباً 5000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ مزید 170000 شہری محصور ہیں۔ دریں اثنا، 150,000 افراد کو یوکرین کے اس بندرگاہی شہر سے نکال لیا گیا ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے پانچ ہزار افراد میں 210 بچے شامل ہیں۔جنگ کے دوران جاری محاصرہ شروع ہونے سے پہلے 140000 رہائشیوں نے ساحلی شہر چھوڑ دیا۔ جبکہ روسی فوجیوں نے 30000 افراد کو ملک بدر کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق انہیں زبردستی یوکرین یا روس کے مشرق میں مقبوضہ علاقوں میں لے جایا گیا ہے۔دریں اثنا، ماریوپول کی 90 فیصد اونچی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے، جن میں سے 1560 (60 فیصد) براہ راست روسی میزائلوں، بموں یا توپ کا نشانہ بنیں اور 1040 (40 فیصد) مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔کم از کم 61,200 نجی رہائش گاہوں کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ مجموعی طور پر سات اسپتال بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اندازوں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ دو مینوفیکچرنگ پلانٹس، ایک بندرگاہ اور 3057 فوجی اڈوں کو بھی نقصان پہنچا۔تعلیمی اداروں میں ان میں سے 90 فیصد کو نقصان پہنچا ہے، جن میں 23 اسکول اور 28 کنڈرگارٹن شامل ہیں جو مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ پیر کے روز ماریوپول کے میئر وادیم بایچنکو نے شہر کو مکمل طور پر خالی کرنے کی اپیل کی، کیونکہ وہاں پانی، بجلی یا مواصلات کے ذرائع موجود نہیں ہیں۔ادھر، روس اور یوکرین کے درمیان پیر کے روز مذاکرات دوبارہ شروع ہو گئے۔ روس نے صدر یوتن نے یوکرینی ہم منصب زیلنسکی سے ملاقات کی تجویز مسترد کر دی۔ یوکرینی حکومت کا کہنا ہے۔