عظمیٰ مانیٹرنگ ڈیسک
ماسکو//روس کی جانب سے اپنے پرائیوٹ یا کرائے کے سیکورٹی گروہ ویگنر پر ’مسلح بغاوت‘ کے الزامات اور جمعے کی رات سے روسی فوجیوں اور ویگنر جنگجوؤں میں کشیدگی کے بعد صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ روس کو تقسیم کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی۔انھوں نے سنیچر کو اپنے مختصر ٹی وی خطاب میں اس بات پر بھی زور دیا کہ روس کے دفاع کا عہد کرتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے تمام ’ضروری احکامات‘ دے دیے گئے ہیں۔صدر پوتن کا کہنا ہے کہ روس کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے، انھوں نے باغیوں کی کارروائیوں کو پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
ویگنر گروپ کے سربراہ یوگینی پریگوزین کا ذکر کیے بغیر صدر پوتن کا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں کے ’عزائم‘ ’غداری‘ کا باعث بنے ہیں۔اپنے خطاب میں پوتن نے باغی ویگنر جنگجوؤں کا ذکر کیے بغیر کہا کہ کچھ روسیوں کو ’مجرمانہ مہم جوئی میں پھنسایا گیا‘۔تاہم انھوں نے ویگنر گروہ کے جنگجوؤں کا ذکر کرتے ہوئے روس کے دفاع کے لیے لڑنے میں ان کی تعریف کی ہے۔واضح رہے روس کی فوج اور اس کی کرائے کی ویگنر فورس کے جنگجوؤں کے درمیان لڑائی میں ڈرامائی طور پر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جس کے بعد جمعے کی رات سے روس میں سکیورٹی سخت کر دی گئی، انٹرنیٹ پر پابندی لگا دی گئی اور ماسکو کی سڑکوں پر فوجی ٹرک دیکھے گئے ہیں۔جبکہ روس کی پرائیوٹ آرمی یا کرائے کے لڑاکا گروپ ویگنر کے سربراہ نے روس کی فوجی قیادت کو ’ہر طرح سے گرانے‘ کا عزم کیا ہے۔ انھوں نے یہ اعلان کریملن کی جانب سے اس پر ‘مسلح بغاوت’ کا الزام لگانے کے چند گھنٹے بعد کیا تھا۔صدر پوتن نے اپنے خطاب میں کہا کہ اب دارالحکومت ماسکو اور کئی دوسرے خطوں میں انسداد دہشت گردی کی حکومت قائم ہے۔ادھر مقامی خبر رساں ادارے فونٹنکا نے رپورٹ کیا ہے کہ ’ایسا لگتا ہے کہ روسی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سینٹ پیٹرزبرگ میں ویگنر کے دفتر پر چھاپہ مارا ہے۔مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ’قانون نافذ کرنے والے سینٹ پیٹرزبرگ کی زولنیا سٹریٹ پر واقع پی ایم سی ویگنر سینٹر میں داخل ہو گئے ہیں۔‘رپورٹ کے مطابق رائٹس پولیس اور نیشنل گارڈز کے ساتھ دو بسیں عمارت میں پہنچی ہیں، جو سادہ لباس میں لوگوں کے ساتھ داخل ہو رہی ہیں۔فونٹنکا نے ہفتے کے روز اپنے ٹیلیگرام چینل پر چھاپے کے بارے میں پوسٹ کیا۔