دمشق//روسی طیاروں کی شام میں بمباری کے نتیجے میں 200 افراد ہلاک ہوگئے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شام کے شہر پالمیرا میں روسی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں 200 افراد ہلاک ہوگئے۔روس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فضائی حملے میں دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں 200 کے قریب دہشت گرد مارے گئے جب کہ 24 گاڑیاں اور 500 کلو کے قریب دھماکا خیز مواد کو بھی تباہ کردیا گیا۔روس کے مطابق حملہ کی جگہ سے دہشت گرد شام کے مختلف شہروں میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے تھے اور اسلحہ سمیت دیگر بارودی مواد بھی بنایا جاتا تھا جب کہ آئندہ صدارتی انتخابات سے قبل شام میں عدم استحکام پیدا کرنے کی منصوبہ بندی یہاں کی جارہی تھی۔دوسری جانب شام میں برطانوی انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق روسی فضائیہ نے 220 کے قریب حملے کیے جس کے نتیجے میں صرف 26 دہشت گرد مارے گئے۔روسی فوج کا کہنا تھا کہ یہ نشانہ ایک "عارضی اڈہ" تھا جہاں "دہشت گرد گروہوں" کو شام میں کارروائی کرنے اور دھماکہ خیز مواد تیار کرنے کی تربیت دی گئی تھی۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ غیر قانونی مسلح تنظیموں" نے شام میں عوامی عمارتوں پر حملے کرنے کا منصوبہ بنایا تاکہ آئندہ 26 مئی کو شیڈول کے مطابق ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل صورت حال کو غیر مستحکم کیا جائے۔
ڈنمارک کاشامی مہاجرین کی ملک بدری کا حکم
کوپن ہیگن //ڈنمارک کی حکومت ملک کو پناہ کے متلاشیوں سے پاک کرنے کے ہدف کی جانب گامزن ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسی کے تحت ڈینش حکومت نے تمام شامی مہاجرین کو واپس شام بھیجنے کا حکم دے دیا ہے۔ ابو ظاہر نے ڈنمارک کے شہر نیبرگ سے ابھی حال ہی میں ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کی اور وہ جون میں اپنے دوستوں کے ساتھ اس کی خوشی منانے کی تیاریاں کر رہا تھا کہ اسے حکام کی جانب سے ایک ای میل موصول ہوئی، جس سے اس کے سارے خواب چکنا چور ہو کر رہ گئے۔ ای میل اس شامی طالبعلم اور اس کے والدین کو لکھی گئی، جس میں یہ درج تھا کہ ان سب کا رہایشی اجازت نامے کی مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔ 20 سالہ ابو ظاہر کا کہنا ہے کہ میں بہت افسردہ تھا، میں خود کو غیر ملکی محسوس کرنے لگا۔ مجھے ایسا لگا کہ ڈنمارک میں مجھ سے ہر چیز چھین لی گئی۔ میں بس بیٹھ کر روتا رہا۔ میں سو بھی نہیں سکتا تھا۔ میرے ایک دوست نے اپنی گاڑی سے مجھے میری فیملی کے پاس پہنچایا۔ دمشق کے بہت سے شامی مہاجرین کو ایسی ہی میل موصول ہوئی۔ جب ڈنمارک حکام نے گزشتہ موسم گرما میں شامی دارالحکومت کو محفوظ شہروں کی فہرست شامل کیا تھا، تب سے ڈنمارک میں سیکڑوں شامی باشندوں کے رہایشی اجازت نامے منسوخ کر دیے گئے ہیں اور یا ان کی توسیع نہیں کی گئی۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں جیسے کہ ڈینش مہاجرین کونسل اور ایمنسٹی انٹر نیشنل کے ساتھ ساتھ ڈنمارک کی بائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے بھی ڈینش حکام کے اس رویے کی مخالفت کی جا رہی ہے۔