اچھی برف باری کی اُمید،سیاحوںکا باربار آناہیسیاحت کی کامیابی: وزیر اعلیٰ
گلمرگ//جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتے کے روز کہا کہ مرکز اس وقت تک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں حالات معمول پر لانے کا دعویٰ نہیں کر سکتا جب تک کہ اس سال کے شروع میں پہلگام حملے کے بعد بندکئے گئے سیاحتی مقامات کو دوبارہ نہیں کھولا جاتا۔انہوں نے حملے کے بعد کئی سیاحتی مقامات کو بند کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ بھی کیا۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کو گلمرگ میں ایشیا کی سب سے طویل سکی ڈریگ لفٹ کا افتتاح کیا۔ انہوں نے افروٹ علاقے میں دنیا کے بلند ترین گھومنے والے کثیر مقصدی ہال کا بھی افتتاح کیا، جس میں ایک ریستوران بھی ہے۔عبداللہ نے کہا کہ گلمرگ کے کونگڈوری میں سکی ڈریگ لفٹ، سکینگ کے بنیادی ڈھانچے کو نمایاں طور پر بڑھا دے گی اور بین الاقوامی سرمائی کھیلوں کے نقشے پر اس کی حیثیت کو مضبوط کرے گی۔
بند سیاحتی مقامات
تقریب کے حاشئے پرنامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا ’’ منتخب حکومت صرف جموں و کشمیر میں سیاحت سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی تعمیر یا بہتری کر سکتی ہے، اور سیاحتی مقامات کو بند کرنے کا فیصلہ ہمارا نہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے جب وہ بند ہوتے ہیں تو ہم سے کوئی مشاورت نہیں ہوتی، اگر میں وہاں بیٹھا ہوتا تو اب تک سب کچھ کھول چکا ہوتا۔انہوں نے کہا کہ جب کہ ان میں سے چند کوسیاحوں کے لیے مرحلہ وار کھول دیا گیا تھا، بہت سے مزید بند ہیں۔عمرعبداللہ نے کہا کہ یونین ٹریٹری نے پہلے بھی بدتر حالات دیکھے ہیں، لیکن سیاحتی مقامات کو کبھی بند نہیں کیا گیا۔ان کاکہناتھا کہ جب 1996کے بعد سیاحت دوبارہ شروع ہوئی، اور جموں و کشمیر میں اس وقت اور اب کے حالات میں بہت فرق ہے، ہم نے اس وقت کسی سیاحتی مقام کو کبھی بند نہیں کیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ مرکز مددگار رہا ہے، لیکن “مسئلہ” کئی مقامات کے بند ہونے میں ہے۔انہوں نے کہا کہ صورت حال کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے، چاہے اسمبلی کی سطح پر ہو یا مرکز کی سطح پر، لیکن کسی کو فیصلہ کرنے اور اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔اس طرح کے مقامات کو بند رکھنے کی ضرورت پر سوال اٹھاتے ہوئے، عبداللہ نے کہا کہ یہ سیاحوں میں ’’الجھن پھیلا رہا ہے‘‘۔انہوںنےکہا’’آپ ان مقامات کو کب تک بند رکھیں گے؟ ایک طرف، آپ دنیا کو بتاتے ہیں کہ ہم نے جموں و کشمیر کو معمول پر لایا ہے، دوسری طرف، آدھا گلمرگ بند ہے، آدھا پہلگام اور دودھ پتھری بند ہے ۔جب تک آپ ان مقامات کو نہیں کھولتے، آپ کیسے نارملسی کا دعویٰ کر سکتے ہیں؟ ‘‘
سال مشکل رہا
اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے ایڈونچر ٹور آپریٹرز ایسوسی ایشن آف انڈیا کے 17ویں سالانہ کنونشن میںشرکت کی۔اس موقعہ پر عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کو بیرونی فنڈ سے چلنے والے ایک پروجیکٹ کے تحت سیاحت کے شعبے میں تقریباً 5.5بلین روپے کی سرمایہ کاری حاصل ہونے والی ہے اور اجتماعی کوششوں کے ساتھ مل کرعلاقے کو ایک بار پھر ہندوستان کے اہم ایڈونچر سیاحتی مقام کے طور پر قائم کرنے میں مدد ملے گی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بے پناہ قدرتی صلاحیت ہے اور اگر پیشہ ورانہ تجربے اور مربوط کام کو صحیح طریقے سے ملایا جائے تو ایڈونچر ٹورازم میں اپنی ماضی کی پوزیشن کو بحال کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔عمر نے کہا کہ انہوں نے پہلے بھی یہ نکتہ ابھارا ہے کہ سیاحت کی کامیابی کو سیاحوں کو ایک بار کشمیر لانے سے نہیں ماپا جانا چاہئے بلکہ حقیقی کامیابی اسی وقت حاصل ہوگی جب سیاح سال بہ سال بار بار واپس آنے کی تحریک محسوس کریں۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور سیاحت کے شعبے کا نقطہ نظر ہمیشہ سیاحوں کے ساتھ طویل المدتی مصروفیات پر مرکوز ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ سیاح کہیں اور نہیں جائیں اور صرف اپنی چھٹیاں منانے کشمیر آئیں گے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایسا مقصد صرف اس صورت میں حاصل کیا جا سکتا ہے جب تمام تعلق دارمل کر کام کریں۔ رواں سال کا ذکر کرتے ہوئے، عمر نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لیے یہ انتہائی مشکل تھا، تقریبا ًہر ماہ مختلف مقامات سے دھچکے اور پریشان کن واقعات سامنے آتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے خطہ بار بار ایک یا دوسری طرف سے ٹکرایا جا رہا ہے۔
سیاحتی ڈھانچہ کا فروغ
عبداللہ نے کہا کہ پہلگام حملے، سیلاب، دہلی دھماکے اور نوگام میں حادثاتی دھماکے کے باوجود حکومت نے سیاحت کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کیں۔انہوں نے کہا ’’آج گلمرگ یا پہلگام جیسے مقامات نہ صرف ملک کے اندر بلکہ پوری دنیا کے مقامات سے مقابلہ کرتے ہیں‘‘۔انکاکہناتھا کہ ہندوستانی سیاح پوری دنیا کا سفر کرتے ہیں،ایسے حالات میں اپنے انفراسٹرکچر کو بہتر کرتے رہنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ پروجیکٹوں کا افتتاح کیا گیا جبکہ گلمرگ میں کچھ دیگر کے لیے سنگ بنیاد رکھا گیا، اور یہ عمل دیگر سیاحتی مقامات پر بھی جاری رہے گا۔
برف باری
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ حالات اچھے رہیں گے اور سیاح دوبارہ کشمیر آنے کو ترجیح دیں گے۔اس موسم سرما میں اب تک برف باری نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ ہر کوئی برف باری کا انتظار کر رہا ہے۔انکاکہناتھا’’ہر کوئی پوچھ رہا ہے، کیا برف پڑی ہے؟ ہم کہتے ہیں ابھی نہیں، سب کہتے ہیں، ہمیں بتا نا جب برف پڑے گی‘‘۔جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے بارے میں کسی مثبت خبر کے بارے میں پوچھے جانے پر، وزیر اعلیٰ نے کہا’’پہلے برف پڑنے دو، پھر ہم ریاست کے بارے میں بات کریں گے‘‘۔عمر نے کہا کہ سردیوں کے دوران کچھ راحت کی امید بھی پوری نہیں ہوئی کیونکہ موسم زیادہ تر خشک رہاہے، جس نے سیاحت اور اس پر انحصار کرنے والوں کو مزید متاثر کیا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ لوگوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ موسم سرما کی سیاحت کو بحال کرنے کے لیے برف باری کے لیے دعا کریں، لیکن اس بات پر زور دیا کہ اسے قابل برداشت حدوں کے اندر ہونا چاہیے۔سابقہ موسمی نمونوں کو یاد کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ جب خطہ پہلے بارش کی دعا کرتا تھا، تو ضرورت سے زیادہ بارش کی وجہ سے قابل انتظام سطح سے زیادہ مسائل پیدا ہوئے۔عمر نے کہا کہ اس بار بھی برف باری کے لیے دعائیں کی جائیں گی، لیکن صرف اس حد تک کہ جس کی ضرورت ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اونچائی پر پانچ سے چھ فٹ برف سیاحوں کو راغب کرنے اور سیاحت کے شعبے میں زندگی کو بحال کرنے کے لیے کافی ہوگی۔عمر نے کہا کہ سیاح واپس آئیں گے، کمائی بڑھے گی اور جموں و کشمیر کا مجموعی ماحول پھر سے ہم آہنگ ہو جائے گا۔
بجلی کٹوتی
سردیوں کے موسم میں بجلی کی کٹوتی کے بارے میں پوچھے جانے پروزیراعلیٰ نے کہا کہ بعض اوقات انہیں مرمت کی ضرورت پڑ جاتی ہے اور لوگوں سے کہا کہ وہ عقلمندی سے بجلی کا استعمال کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ سسٹم کی خرابی ان علاقوں میں ہو رہی ہے جہاں صحیح کھپت کی پیمائش نہیں کی گئی ہے اور بجلی کے میٹر نصب نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ باقاعدہ لوڈ شیڈنگ ایک مجبوری ہے کیونکہ حکومت بجلی کی مطلوبہ طلب کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔عمرعبداللہ نے کہا’’اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں جو بجلی فراہم کی جاتی ہے اس سے ہمیں ریونیو نہیں ملتا۔ ہم خسارے میں چلتے ہیں‘‘۔انکاکہناتھا کہ بجلی کی بندش کی ایک اور وجہ مرمت بھی ہے۔