عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//سابق وزیر اور بی جے پی کے ریاستی نائب صدر چوہدری ذوالفقار علی نے ضلع راجوری کے مختلف دیہات میں بجلی کی فراہمی منقطع کئے جانے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس اقدام کو افسوسناک، غیر منصفانہ اور عوام دشمن قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آمدِ رمضان المبارک سے قبل اس طرح کی کارروائی عوام کے لئے شدید مشکلات کا باعث بن رہی ہے اور متعلقہ حکام کو فوری طور پر اس فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ایک بیان میں چوہدری ذوالفقار علی نے محکمہ بجلی، خصوصاً جموں و کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (جے کے پی ڈی سی ایل) راجوری کی کارروائی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محض ریونیو وصولی کے نام پر پورے پورے دیہات کی بجلی منقطع کرنا کسی صورت درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بجلی بنیادی سہولیات میں شامل ہے اور رمضان المبارک کے دوران اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ گھریلو سطح پر سحری اور افطار کی تیاریوں کے لئے مسلسل بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ چند افراد کی بقایا جات کی وجہ سے پورے گاؤں کو سزا دینا اجتماعی ناانصافی ہے، جس کا خمیازہ بے گناہ اور غریب خاندانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ قانون کے مطابق صرف نادہندگان کے خلاف کارروائی کرے، نہ کہ عام شہریوں کو مشکلات میں ڈالے۔چوہدری ذوالفقار علی نے ضلع انتظامیہ اور متعلقہ محکمہ سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر بجلی بحال کی جائے تاکہ عوام کو مزید پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی مسائل کو نظر انداز کرنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں اور حکام کو زمینی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر محکمہ نے جلد از جلد صورتحال کو درست نہ کیا تو وہ جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے اور ذمہ دار افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی درخواست دائر کریں گے۔ادھر مقامی باشندوں میں بھی بجلی منقطع کیے جانے کے فیصلے پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک قریب ہے اور ایسے وقت میں بجلی کی عدم دستیابی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر رہی ہے۔ شہریوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ مسئلہ فوری حل کر کے بجلی کی فراہمی بحال کی جائے تاکہ لوگ سکون کے ساتھ مقدس مہینے کی تیاری کر سکیں۔