ولادت باسعادت پوری عالم انسانیت کےلئے فیض برکت اور مقدس ترین دن ہے ۔پیغمبر آخر الزمان ؐنے اخوت ومحبت کا ایسا معاشرہ قائم کیا جو چشم فلک نے کبھی نہ دیکھا تھا ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام خدا کے حکم سے مرکز توحید یعنی خانہ کعبہ تعمیر کر رہے تھے تو اس وقت حضرت ابراہیم ؑکے دل سے یہ دعا بے ساختہ نکلی: اے خدا ہماری نسل سے امت مسلم کو اٹھا ،تو اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو شرف قبولیت بخشا اور ڈھائی ہزار سال کے بعد 12ربیع الاول (20اپریل 570عیسوی)بروز سوموار کی وہ مبارک صبح تھی، جب رحمت ِالٰہی کے فیصلے کے مطابق اس باسعادت ہستی یعنی پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں جلوہ افروز ہوئے ۔تقریباً ساٹھ پشتوں کے واسطے سے آپ کا حسب و نسب حضرت اسماعیل بن حضرت ابراہیم علیہما السلام سے مل جاتا ہے۔اس نورِ نبوت نے جب اُجالا شروع کیا ہے تو دنیا طرح طرح کی تاریکیوں اور گہرے اندھیرو ںمیں اَٹی ہوئی تھی۔ جہالت نے ایک خدا کی خدائی میں کتنوں کو ساجھے دار بنا دیا تھا،ا سکا شمار نہیں۔ خاتم النبیینؐ نے اپنی عظیم الشان اصلاحات کا سنگ بنیاد عقیدہ ٔتوحید پر رکھا۔ آپؐ نے بندہ اور اس کے خالق کے درمیان براہ راست رابطہ قائم کر دیا اور درمیانی واسطوں کو مٹایا۔انسانیت کبریٰ کے سردار معظم کی پیدائش سے ایک ہزار سال قبل شہر یمن کا بادشاہ تبع حمیری تھا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں دو جگہ شاہ تبع اور اس کی زورآور قوم کا ذکر فرمایا ہے۔ جب بادشاہ تبع حمیری مشرقی ممالک کی سیاحت پر یمن سے روانہ ہوا تو علما، فوج اور اراکین سلطنت کی ایک کثیر تعداد اس کے ساتھ تھی، جب مکہ مکرمہ میں پہنچا تو بیت اللہ شریف کی زیارت کی،مکہ معظمہ کی شرافت و عظمت کا حال اپنے ہم سفر علماءکی زبانی سنا تو کعبہ شریف کا طواف کیا اور اس پر از راہ عقیدت غلاف چڑھایا۔ مفسرین نے تصریح فرمائی ہے کہ سب سے اول جو غلاف بیت اللہ شریف پر چڑھایاگیا، وہ یہی تھا ۔ تبع حمیری مکہ مکرمہ سے روانہ ہوا تو سیدھا مدینہ منورہ پہنچا۔ چند روزہ قیام کے بعد وہاں سے رخت سفر باندھنے لگا تو اس کے ساتھ جو علماءتھے، انہوں نے آگے جانے سے انکار کیا۔ اس بات کی خبر بادشاہ کو معلوم ہوئی تو اُس نے علماءسے کہا تمہارے یہاں بیٹھنے میں کیا راز ہے۔ علماءنے جواب دیا کہ ہم نے اپنی کتابوں میں پڑھا ہے کہ نبی آخر الزمان ؐ جب دنیا میں تشریف لائیں گے تو اپنے آبائی وطن مکہ سے ہجرت فرما کر اِسی شہر یعنی مدینہ میں تشریف فرما ہوں گے اور یہیں اُن کا قیام رہے گا۔لہٰذا ہم اسی اُمید پر یہاں بیٹھ گئے ہیں کہ شاید ہم ان کی زیارت کر سکیں ، اُن کی خدمت کا ہمیں گراں قدر موقع میسر ہو۔ یہ جواب سن کر بادشاہ یمن نے اپنا سفر ملتوی کر دیا اور حکم دیا کہ ان علماءکی رہائش کے لئے مکانات تعمیر کئے جائیں۔ مکانات تعمیر کرنے کے بعد بادشاہ یمن نے چار سو لونڈیاں خریدیں ، اُن کو آزاد کر کے اِنہی چار سو علماءکے ساتھ نکاح کروا دیا اور حکم دیا تم ہمیشہ کے لئے یہاں ہی سکونت رکھو۔ اُس نے علماءکو کافی مالی امداد سے بھی نوازا ، اُن کو معاشی فکر سے بے نیاز کر دیا۔ اس کے علاوہ بادشاہِ یمن تبع حمیری نے الگ سے ایک دو منزلہ مکان تعمیر کروادیا۔ سب سے بڑے عالم کو ایک خط لکھ کر دیا اور کہا کہ میرا یہ خط اس پیغمبر آخر الزماںؐ کی خدمتِ اقدس میںپیش کرنا، اگر زندگی بھر تجھے نبی آخر الزمانؐ کی زیارت کا موقعہ نہ ملے تو اولاد کو وصیت کر دینا کہ نسلاً بعد نسل میرا یہ خط محفوظ رکھیں، جب تک یہ خط نبی آخر الزمانؐ کی خدمت میں پیش کیا جائے۔ یہ خط فی الحقیقت پیغمبر آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں ایک ہزار سال کے بعد پیش ہوا۔ خط میں لکھا تھا : ترجمہ ’’تبع اوّل کی طرف سے یہ خط پیغمبر آخر الزمانؐ کی خدمت میں جو اللہ کے نبی و رسول ہیں، خاتم النبیین ہیں، پروردگار دو جہاں کے رسول ہیں، اُن پر درود و سلام ہو۔بعد ازاں واضح ہو کہ یقینا ًمیں آپؐ پر ایمان لایا ہوں، میں آپ ؐکے دین و طریقہ پر ہوں، آپؐ کے رب، جو ہر چیز کا خالق ہے پر ایمان لایا ہوں اور اسلام کے جمیع احکام جو آپؐ کے ربّ کی طرف سے آپ ؐکو پہنچے ہیں، اُن پر بھی ایمان لایا ہوں، اگر مجھے آپؐ کی زیارت کا شرف مل گیا تو بہت اچھا اور اگر میں آپؐ کی زیارت نہ کر سکا تو میری سفارش فرمائیے اور قیامت کے روز مجھے بھول نہ جائیے، میں آپؐ کی پہلی اُمت میں سے ہوں، میں آپ کے ساتھ آپؐ کی آمد سے پہلے بیعت کرتا ہوں اور آپؐ کے جدامجد سیدناابراہیم علیہ السلام کے طریقہ پر ہوں، میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں اور شہادت دیتا ہوں کہ حضرت محمدؐ اللہ کے رسول ہیں، اگر میری عمر لمبی ہو جاتی تو میں آپ کا وزیر ہوتا اور جان نثاری میں پیش پیش رہتا‘‘ ۔یہ تھا تبع کا خط جس میں لفظ لفظ عظمت ِمصطفیؐ کا اعتراف ہے۔ خط نسلاً بعد نسل سے محفوظ چلا آیا یہاں تک کہ ایک ہزار سال کا عرصہ گزر گیا اور یہ خط مع وصیت حضرت ابوایوب انصاریؓ کے پاس پہنچا اور آپؓ نے اسے اپنے غلام خاص ابو لیلیٰ کی تحویل میں رکھا۔یہ خط پیغمبر آخر الزمان ؐکی خدمت اقدس میں یوں پیش ہوا۔ جب رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ معظمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے تو مدینہ کے خوش نصیب لوگ محبوبِ خدا کے استقبال کرنے کو جوق در جوق آرہے تھے۔ کوئی اپنے مکان کو سجارہا تھا، کوئی سڑکوں کی صفائی میں لگا تھا، کوئی دعوت کا انتظار کر رہا تھا،ادھر غلامان نبوت اصرار کر رہے تھے کہ حضور ہمارے گھر تشریف فرمائیں۔ آپ ؐ نے فرمایا کہ میری اونٹنی کی نکیل چھوڑ دو ،جس گھر میں یہ ٹھہرے گی میرا قیام گاہ وہی ہوگا۔ جو مکان بادشاہ تبع نے حضورؐ کے لئے ایک ہزار سال قبل تعمیر کیا تھا، جس میں حضرت ابو ایوب انصاریؓ رہتے تھے، اسی میں رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی جاکر ٹھہری تو لوگوں نے ابو لیلیٰ کو وہاں بھیجا کہ شاہ یمن کا وہ خط آپ کو پیش کرو۔ جب ابو لیلیٰ حاضر خدمت ہوا، رسول رحمت ؐنے اس کو دیکھتے ہی فرمایا تو یہ ابو لیلیٰ ہے۔ یہ سُن کر ابولیلیٰ حیران ہوگیا اور رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پہچان سکا اور پوچھنے لگا آپ کون ہیں، تو آپ نے فرمایا میں محمد ہوں، وہ خط لے آؤ۔ چنانچہ ابو لیلیٰ نے خط پیش کر دیا۔ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا تو فرمایا:’’ صالح بھائی تبع کو آفرین و شاباش ہے‘‘۔ اس جملہ کو آپ نے تین دفعہ دہرایا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی و خدمت کے لئے ایک ہزار سا ل پہلے چارسو صالح علماءکی نسل سے ایک کثیر تعداد غلاموں کی جمعیت پیدا فرما دی، جنہوں نے مہاجر مسلمانوں کی مخلصانہ خدمات انجام دیں اور انصار کہلائے اور حضرت محمد ؐ کی ہم رکابی میں دشمنانِ اسلام کا مقابلہ کیا اور دنیا کے کونے کونے میں اسلام کا ڈنکا بجایا۔ رسول رحمت ؐ ابھی عالم شہود میں نہیں آئے تھے اور پیدائش سے ایک ہزار سال قبل تبع کی غائبانہ بیعت کرتا ہے اور اس بیعت کی توثیق فرمادی تو پتہ چلا کہ حضرت سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم اوّلین و آخرین امتوں کے ایمان کا شاہد ہیں۔ جب یہ رہبر اعظم ؐ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو آپ نے دنیا کے ہاتھ میں ایک مکمل ہدایت اور جامع و مفصل دستور العمل قرآن کریم کی صورت میںعطا کیا۔ آپ ؐان سب کی مشق سالہا سال تک اپنے سامنے کرا کر گئے اور اپنے پیچھے اپنے شاگردوں کی ایک کثیر جماعت صالحین چھوڑی اور دس لاکھ مربع میل پر آپ ؐنے اپنی عادلانہ حکومت کا نقش قائم کر دیا۔ آپؐ نے چودہ سو سال پہلے جو کچھ فرمایا آج ہم وہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں مثلاً جب قاتل کو یہ علم نہ ہوگا کہ میں نے کیوں قتل کیا اور مقتول کو یہ علم نہ ہوگا کہ مجھے کیوں قتل کیاگیا۔ جب کام نا اہلوں کے سپرد کر دیئے جائیں گے۔فاسق و فاجر لوگ قوم کے سردار بنیں گے، آدمی کے شر کے خوف سے اس کی عزت کی جائےگی، مسلمانوں پر قافیہ حیات تنگ ہوگا، دُنیا میں اہل ایمان کا جینا دوبھر ہوگا۔ یہ سب آج کے دور کی ٹھوس حقیقتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رسول رحمت ﷺکے اسوة حسنہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے اور عبادات میں خلوص پیدا کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے اورکشمیر سمیت پوری دنیا امن امان میں رکھے۔ آمین
(اومپورہ بڈگام 9419500008)