عظمیٰ نیوز سروس
حکومتِ ہند نے ملک بھر میں گھریلو ایندھن کی دستیابی برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کیے ہیں، وہیں کشمیر میں بعض گیس ایجنسیوں کے خلاف مبینہ بدعنوانی اور بلیک مارکیٹنگ کی شکایات سامنے آنے لگی ہیں۔ صارفین نے گیس ایجنسی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہاں بکنگ سسٹم میں مبینہ طور پر ہیرا پھیری کر کے ایل پی جی سلنڈر بلیک میں فروخت کیے جا رہے ہیں۔مرکزی وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس کے مطابق عالمی صورتحال کے پیش نظر ریاستوں کو اضافی 40 ہزار کلو لیٹر مٹی کا تیل (کروسین) فراہم کیا گیا ہے تاکہ اگر ایل پی جی کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو تو گھریلو صارفین کو متبادل ایندھن دستیاب رہے۔ وزارت کی جوائنٹ سیکریٹری سجاتا شرما نے کہا ہے کہ ملک میں اس وقت ایل پی جی کی کوئی قلت نہیں ہے، تاہم عالمی کشیدگی کے باعث صارفین میں خوف کے سبب بکنگ میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔