راجہ یوسف
’’ ہے سنو سنو ۔۔۔ ہے ے ے تم لوگوں سے کہہ رہی ہوں ۔۔۔ رک جائو نا‘‘
’’ کیوں چلا رہی ہو ۔ کیا بات ہے۔‘‘
لڑکی دوڑ کر ہمارے قریب پہنچ گئی اور اپنی اترتی چڑھتی سانسوں پر قابو پانے کے بعد کہنے لگی۔
’’ میں روز تم لوگوں کو سکول جاتے ہوئے دیکھتی ہوں۔ ارے ہا ںمیں بتانا بھول ہی گئی۔میرا نام رجوہے روزی۔ میں پوشون گائوں سے آئی ہوں، یہاں اپنے نانا کی مدد کرنے کے لئے۔ میرا نانایہاں کا گوالا ہے۔ یہاں کے گائوں والوں کی گائیں چراتا ہے۔‘‘
’’ تو ؟؟؟ ۔۔۔ ہمیں کیوں روکا۔ کچھ بولنا ہے کیا ؟ ۔‘‘
’’ اور کیا ۔۔۔ بولنا ہے نا ۔ میں دن بھر یہاں اکیلی ہوتی ہوں۔ تمہیں روز آتے جاتے دیکھتی ہوں۔ تم لوگ ہنستے کھیلتے باتیں کرتے یہاں سے گزر جاتے ہو تو سوچا کیوں نہ میں بھی تم لوگوں کے ساتھ باتیں کروں۔‘‘
’’ اے ے ے اپنا کام کر۔ اتنا ٹائم نہیں ہے اپنے پاس۔ چلو بھائی ۔ بڑی آئی یہ گوالن۔‘‘
’’ اچھا یہ تو بتائو کس کلاس میں پڑھتے ہو۔‘‘
’’ دو میٹرک Metric ۔ دو 12th یعنی دسویں اور بارہویں ۔ ‘ ‘
’’ ارے بھائی چلو دیر ہورہی ہے۔ کہاں پھنس گئے۔‘‘
’’ اچھا چلو چلو ۔۔۔ ‘‘
لڑکی کا نام روزی تھا لیکن یہ خود کو رجو بولتی تھی اور ہم اپنی یار برادری میں اسے’’ رجو گوالن ‘‘ کہتے ۔ ہم اسی راستے سے روزانہ اسکول آتے جاتے تھے ۔ ہمارے گاؤں سے ہائیرسکنڈری سکول تک دو کلو میٹر کا فاصلہ تھا۔ راستے میں دو اور گاؤں آتے تھے، یہ وسیع و عریض میدان ان دو گائوں کے بیچ آتا تھا۔ میدا ن سر سبز گھاس سے بھرا پڑا تھا۔اس کے چاروں اور ہریالی تھی ۔ یہاں چنار، کیکر اور اخروٹ کے بڑے بڑے پیڑ تھے۔ ہمارے اور دوسرے گاؤں کے مویشی یہاں ہی چرا کرتے تھے۔ جن کی نگرانی کے لیے ایک بوڑھا اور کمزور چرواہا رکھا گیا تھا، جو زیادہ تر چنار کی ٹھنڈی چھاؤں تلے بیٹھا رہتالیکن اصل بوجھ اس کی تیرہ، چودہ سالہ نواسی، روزی ’’رجو گوالن‘‘ کے نازک کندھوں پر تھا۔ وہ بھاگتی، پھرتی اور مسکراتی جانوروں کے پیچھے دوڑتی رہتی اور ان کو قابو میں رکھتی ۔
ہم جب بھی ا سکول جاتے ہوئے وہاں سے گزرتے تو وہ قریب آکے کھڑی ہوجاتی اور کوئی نہ کوئی سوال پوچھتی ۔ ہم بھی اسے دیکھ کر مسکراتے اورآگے بڑھ جاتے۔ اکثر وہ وقت کا اندازہ کر کے پہلے ہی ہمارے راستے میں کھڑی ہوکر ہمارا انتظار کرتی اور اگر کبھی وہ مویشیوں کے ساتھ دوسری سمت بھی ہوتی تو دوڑ کر ہمارے قریب آ جاتی۔ میں سمجھتا تھا کہ شاید ہمیںا سکول جاتے دیکھ کر اس کا دل بھی پڑھنے کے لئے مچلتا ہے لیکن ایسا نہیں تھا۔ دراصل ایک روز میں اکیلا اسکول جا رہا تھا۔ دیر بھی ہو چکی تھی اور میں تیز قدموں سے چل رہا تھا۔ اچانک رجو گوالن سامنے آ کھڑی ہوئی۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی اور لبوں پر میرا نام لرز اں تھا۔
” شبیرمیں کب سے تمہارا انتظار کر رہی تھی۔ مجھے لگا کہ شایدتم آج آؤ گے ہی نہیں۔ تمہیں دیکھے بغیر میرے دل کو چین ہی نہیں ملتا ۔‘‘
میں سکتے میں آگیا۔ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھتا رہا۔ وہ کہے جا رہی تھی اور میںا سکول کی فکر میں گھل رہا تھا۔ میں نے جلدی میں کہا،
“دیر ہو رہی ہے، جرمانہ ہوگا اور مار بھی پڑ ے گی۔”
’’ ھاھاھاااا ۔۔۔۔ ابھی بھی تمہیں ا سکول میں مار پڑتی ہے؟ تم تو بڑے ہو گئے ہو‘‘ وہ قہقہہ مار کر ہنس پڑی،
یہ دن تھا کہ مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ لڑکی جتنی معصوم دکھائی دیتی ہے اتنی ہے نہیں ۔ جانے یہ کب کیا کر بیٹھے گی۔ میں اُس سے دور دور رہنے کی کوشش کرتا اور اس راستے پر اکیلا جانے سے بھی کتراتاتھا حالانکہ وہ میرے لئے کبھی پنیر کبھی دہی اور کبھی پھل لاتی۔ میں ہچکچاتا لیکن میرے دوست وہ چیزیں لے لیتے ، بے فکری کے ساتھ بانٹ کر کھا تے اور مجھے بھی کھلاتے۔ اس کی یہ حرکتیں مجھے بہت بری لگتی تھیں لیکن رجو گوالن کے لئے یہ بہت بڑی حقیقت تھی۔ وہ کبھی اپنے گائوں پوشون جاتی تو وہاں سے بھی میرے لئے کچھ نہ کچھ لے آتی۔ میرا انکار، میرا سرد رویہ، یہ سب دیکھ کر بھی وہ برداشت کرتی لیکن امید کا دامن نہیں چھوڑتی ۔
ایک سال گزرتے ہی میں نے شہر میں کالج جوائن کیا اور وہیں ہوسٹل میں رہنے لگا۔ اب کم ہی گائوں آتا تھا ۔ ویسے بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے گائوں تک سڑک بن گئی اور پرانی پگڈنڈی قصہ پارینہ ہو گئی۔ایک دن گائوں آکر میں دوستوں کے ساتھ میدان میں پہنچ گیا جہاں اب ا سٹیڈیم بن رہا تھا۔ یہاں ہی سننے میں آیا کہ رجو گوالن کا نانا مر گیا اور وہ واپس اپنے گائوں پوشون چلی گئی۔ میں تو پڑھائی اور اپنی دنیا میں گم رہا، لیکن رجو گوالن کبھی نہ کبھی بنا پوچھے ہی خیالوں میں چلی آتی تھی۔ کبھی مسکراتی تو کبھی اداس ۔
گریجویشن کے بعد میں نے شہر میں ہی ایک دوست کے ساتھ کاروبار شروع کیا ۔ تھوڑی مدت کے بعد دوستی ٹوٹ گئی اور کاروبار بھی الگ الگ ہوگیا۔ میں نے دن رات محنت کی اور اپنے کاروبارکو خود سنبھالنے لگا۔ میرے ماں باپ گائوں میں رہتے تھے۔میرے پاس شہر کم ہی آتے البتہ میں اکثر گائوں چلا جاتا۔ ایک دن دوستوں کے ساتھ میں پہلگام گھومنے کے لئے چلا گیا ۔ پہلگام کے بازار میں اچانک کسی نے میرا بازو تھاما۔ مڑ کر دیکھا تو رجو گوالن تھی۔وہ اب جوان ہوچکی تھی۔ اس کی آنکھوں میں برسوں کا انتظار تھا۔ اس کے سر پر دودھ کا خالی گڑھا رکھا تھا۔
“میری دعا قبول ہوگئی… میں کب سے تمہارے دیدار کو ترس رہی تھی۔ دیکھو، ابھی تک میں نے شادی نہیں کی۔”
اس کا پیار امڈ آیا تھا۔ لب لرز رہے تھے اور آنکھوں سے آبشار بہہ رہا تھا۔ وہ سب کے سامنے میرے گلے لگ کر رو رہی تھی۔ مجھے پوشون آنے کے لئے التجا کر رہی تھی ۔ میں بڑی شرمندگی محسوس کر رہا تھا لیکن دوستوں کے اصرار پر میں شش و پنج میں پڑ گیا۔ ہم اس کے گاؤں پہنچ گئے۔ وہاں اس کی خوشی دیدنی تھی۔ لوگ اسے چھیڑتے اورسہیلیاں کہتیں
“یہ تو شبیر کے نام پر ہی جی رہی ہے۔” اور میں شرم سے پانی پانی ہورہا تھا۔
حالات تیزی کے ساتھ بدل رہے تھے۔ میرا کار وبار اچھا چل نکلا۔ میرے والدین کو میری شادی کی فکر لاحق ہوگئی اور میں بھی سوچ رہا تھا کہ جب شادی کرنی ہی ہے تو پھر بلا وجہ دیری کیوں کرنی۔ میرے ماں باپ صاحب ثروت گھراور اچھی لڑکی کی تلاش میں جٹ گئے کہ اچانک پوری دنیا پر قہر نازل ہوا۔ کورونا نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس وباء میں میں نے اپناسب کچھ کھو دیا۔ ماں باپ کی موت، کاروبار کی بربادی، گھر کی نیلامی… اور میں پائی پائی کا محتاج ہو گیا۔ پھر سے کچھ کرنے کی چاہ میں بہت ہاتھ پائوں مارے لیکن میں سنبھل نہیں پا یا تھا ۔ کوئی ڈھنگ کا کام کرنے کے لائق بھی نہ رہا لیکن زندہ رہنے کے لئے کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا ۔۔۔ مزدوری ۔۔۔ ہاں اب بس یہی ایک کام بچا تھا جو مجھے دو وقت کی روٹی دے سکتا تھا۔ میرے گائوں کے لوگ ٹورسٹ سیزن میں مزدوری کرنے کے لئے پہلگام جاتے تھے۔ میں بھی ان کے ساتھ پہلگام پہنچ گیا۔ یہاں آکر مجھے ایک دکاندار کے پاس کام مل گیا اور سخت مزدوری کرنے سے بچ گیا۔ اس کام میں کھانے پینے کے بعد کچھ پیسے بچ بھی جاتے تھے۔ ایک دن دکان پر پوشون گائوں کا ایک آدمی آیا جس نے مجھے بتایا،
” پچھلے ایک سال سے رجو بیمار ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ دق کی مریضہ ہے، بستر پر پڑی ہے لیکن اپناعلاج نہیں کرنے دیتی ۔ اگر تم اسے مل کر آئو تو شاید اس کی زندگی بچ جائے۔”
میں نے سنا لیکن کچھ محسوس نہیں کیا لیکن شام کے وقت جانے دل کیوں اداس ہوا۔ رات بھر سوچتا رہا ۔ نیند بھی کوسوں دور تھی ۔ پر میں کیا کرتا اب میری اتنی حثیت بھی نہ تھی کہ روزی(رجو) کی مدد کرتا لیکن پھر بھی میں نے فیصلہ کر لیا۔ بوجھل دل کے ساتھ میں پوشون گائوں چلا گیا۔ ر جونے مجھے دیکھا تو اس کی آنکھوں کے باندھ ٹوٹ گئے۔ اسے دیکھ کے میرے دل میں کسک سی اٹھی میں نے اس کا ہاتھ تھام کر کہا۔
” بس روزی، اب بس ۔ دیکھو میں آگیا ہوں ۔۔۔ تمہارے پاس آگیا ہوں۔”
اس کی آنکھوں میں جینے کی کشش اور لبوں پر مسکراہٹ لوٹ آئی، روزی کے گھر والوں کے اسرار پرمیں کچھ دن وہیں رک گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی حالت میں کافی سدھار آگیا۔ روزی کی سہیلیاں کہتی تھیں کہ یہ کرشمہ میرے پیار کی وجہ سے ہوگیا ہے۔ لیکن میں خود سے شرمندہ تھا کیونکہ مجھے روزی سے کبھی پیار تھا ہی نہیں۔ اب چونکہ میرا بھی کوئی ٹھکانہ نہ تھا تو روزی کا سہارا لینا کیا برا تھا۔ میں نے ایک دن سرگوشی میں روزی سے شادی کی بات کی تو اس نے روکتے ہوئے کہا۔
“نہیں شبیر… اب نہیں۔ یہ سچ ہے کہ میں نے تمہیں دل سے چاہا ہے، لیکن شادی نہیں کر سکتی۔” مجھے زور کا جھٹکا لگا اور میں نے اصرار کیا، “کیوں روزی؟ آخر کیوں؟”
“شاید ہمارا ملن ہمارے نصیب نہیں ہے” وہ بس اتنا ہی کہہ پائی تو اس کی آنکھوں بھر آئیں۔ اس نے اپنا چہرا دوسری طرف پھیر لیا۔
روزی کے ٹھیک ہونے کی خوش فہمی بہت جلد ختم ہوگئی اور وہ پھر بیمار پڑگئی۔وہ کچھ دن ٹھیک رہتی پھر اس کی حالت بگڑ جاتی ۔ اس کی سہیلیاں اور گھروالے سمجھتے تھے کہ اگر اس کی شادی میرے ساتھ کر دی جائے تو وہ ٹھیک ہوجائے گی۔ میں تو چاہتا ہی تھا کہ ایسا کچھ ہوجائے تاکہ میں پھر سے سنبھل پائوں ، شاید وہ بھی بھانپ گئی تھی۔اس کی سہیلیوں اور گھروالو ںکی کوششوں سے اس نے شادی کے لئے ہاں کر دی۔
آخر وہ دن آ ہی گیا ۔ ہماری شادی میں پورا گاؤں شریک تھا۔ اس کے باپ نے پورے علاقے کی دعوت کی تھی۔ باراتی، سازندے ۔ چاروں اور رونق لگی تھی ۔
شادی کے بعد روزی بس ایک سال میرے ساتھ رہی ۔ وہ ماں بننے والی تھی۔ گھر کے سبھی افراد خانہ خوش تھے۔ جب سب لوگ خوشیاں بانٹنے میں مصروف تھے، روزی چکر کھا کر گر گئی۔ ایک کہرام سا مچ گیا۔ سارے گائوں میں ماتم بچھ گیا۔ ہم روزی کو لیکر اسپتال پہنچ گئے۔ یہاں وہ تین دن زندگی اور موت کی کشمکش میں تڑپتی رہی ۔۔ ڈاکٹر ہماری نوزائیدہ بیٹی کو بچانے میں کامیاب تو ہوگئے لیکن روزی زندگی کی جنگ ہار گئی۔
روزی کا جنازہ اٹھا، سفید کفن میں وہ کوہ کاف کی پری جیسی لگ رہی تھی۔ ہم نے نم آنکھوں سے اس کو سپرد خ خاک کیا۔ وہ خود تو منوں من مٹی کے نیچے سو گئی لیکن مجھے تنہا کرکے چھوڑ گئی۔ میرے سامنے اندھیرا پھیلتا جا رہا تھا اور اب میں اس اندھیرے سے بھاگنا چاہتا تھا۔یہ روزی کے مرنے کا پندراواں دن تھا تو میں نے یہاں سے جانے کا فیصلہ کر لیا۔ میری زندگی کا اب ایک ہی مقصدرہ گیا تھا کہ اپنی بیٹی کائنات کی پرورش ، جو مشکل تو نظر آرہی تھا لیکن میرا عزم مستحکم تھا۔ میں اپنی ہمت اور اپنے کپڑے سمیٹ رہا تھا کہ روزی کے باپ نے اندر آ کرمجھ سے کہا۔
“بیٹا تم ایسے مت جائو۔معصوم کائنات کو لیکر کہاں کہاں پھرتے رہو گے۔ اب یہ تمہارا اپنا گھر ہے۔ رجو جانتی تھی کہ وہ زیادہ دن زندہ نہیںرہ پائے گی لیکن اسے ڈر تھا کہ اس کے مرنے کے بعد تم پھر غربت کی دلدل میں نہ پھنس جائو ۔ اس نے میری منت سماجت کی تھی کہ میں اپنی زندگی میں ہی ساری جائیداد تمہارے نام کر دوں۔اس لئے کاغذات تمہارے نام کرنے تک وہ ہر روز میرے ساتھ کبھی عدالت تو کبھی تحصیل آفس کے چکر لگاتی رہی ۔ بیٹا رجوکے جانے کے بعد اب یہ سب کچھ تمہارا ہے۔ کائنات کے بہتر مستقبل کے لئے یہیں رک جائو۔ یہاں اس کے نانا نانی ہیں ،رشتہ دار ہیں اور سب سے بڑھ کر رجو کی سیہلیاں ہیں۔ تم پربوجھ نہیں پڑے گا۔”
یہ سن کر میں سن ہوکر رہ گیا۔ میری نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔ ایک غریب چرواہے کی نواسی، جس نے ساری زندگی محرومی میں گزاری، اپنے محبوب کو بربادی سے بچانے کے لئے اپنا سب کچھ اس کے نام کر کے گئی تھی۔
اب میرا شمار پوشون کے امیر اور باشعور لوگوں میں ہوتا ہے۔ میری بیٹی کائنات شہر کی بڑی یونیورسٹی میں پڑھتی ہے۔ لیکن روزی کی یادیں میرے ساتھ ساتھ سانس لے رہی ہیں۔ اس کے باپ کی مدد سے میں نے پھر سے کاروبار شروع کیا اور کامیاب رہا ۔ پہلگام کی فضاؤں میں اگر آپ کو کبھی آنا ہوا تو “رجو ریزورٹس” Ruje Resorts پر ضرور آئیے گا یہاںکے در و دیوار آپ کو رجو کی کہانیاں یاد دلائیں گے کہ پہاڑوں کی چراگاہوں میں رہ رہی ایک لڑکی نے اپنی محبت کو موت کے بعد بھی کس طرح سے زندہ رکھا ہوا ہے۔ محبت شہر میں جوان ہوئی ہو یا کسی دور کے دیہات میں پلی بڑی ہو محبت کا کوئی بدل نہیں ہوتا۔
���
اننت ناگ، کشمیر
موبائل نمبر؛9419734234