انقرہ//ترکی کے صدر طیب اردگان کی حکومت کا تختہ الٹنے میں2016میں مبینہ ماسٹر مائینڈ فتح اللہ گولن کی مدد کرنے کے الزام پر امریکی قونصل خانے کے ملازم کو عدالت نے 9سال قید کی سزا سنائی ہے۔ استنبول کی ایک عدالت میں ملزم متین توپوز کیخلاف جاسوسی اور فوجی بغاوت میں سہولت کاری کے الزامات پر سماعت ہوئی، عدالت نے شواہد کی روشنی میں ملزم کو 9 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ متین توپوز ترکی کے شہری ہیں اور انہوں نے سماعت کے دوران الزامات کو مسترد کردیا تھا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی قونصل خانے کے ملازم متین توپوز پر 2016 میں صدر طیب اردگان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے فوجی بغاوت کے دوران مبینہ ماسٹر مائنڈ فتح اللہ گولن کی مدد کرنے کا الزام تھا جس پر متین توپوز کو 2017 میں حراست میں لیا گیا تھا۔دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ترکی میں امریکی قونصل خانے کے ملازم کو قید کی سزا پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بغیر ثبوت اور شواہد کے قونصل خانے کے ملازم کو سزا دونوں ممالک کے تعلقات سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔