سمت بھارگو
ریاسی //ضلع ریاسی کے رانسو علاقے میں شیو کھوڑی یاترا کے اوقات کار میں توسیع کے مطالبے کو لے کر گزشتہ کئی دنوں سے احتجاج جاری ہے۔ پیر کے روز بھی مقامی باشندوں اور تاجروں نے اپنا دھرنا جاری رکھا اور حکام سے فوری مداخلت کی اپیل کی۔احتجاج میں شامل افراد، جن میں مقامی تاجر برادری کی بڑی تعداد شامل ہے، کا کہنا ہے کہ 2024 کے حملے کے بعد یاترا کے اوقات کو محدود کر کے صرف چند گھنٹوں تک محدود کر دیا گیا تھا، اور اس کے بعد سے اب تک ان اوقات میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں کی گئی۔
مظاہرین کے مطابق ان محدود اوقات کی وجہ سے نہ صرف یاتریوں کی آمد میں کمی آئی ہے بلکہ اس کا براہ راست اثر علاقے کی معیشت پر بھی پڑا ہے۔مقامی تاجروں نے بتایا کہ رنسو اور اس کے آس پاس کے علاقوں کی معیشت کا بڑا دار و مدار یاتریوں کی آمد پر ہے۔ یاترا کے محدود اوقات کے باعث یاتریوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’کم وقت کے باعث یاتری کم آ رہے ہیں، جس سے ہماری آمدنی میں زبردست کمی آئی ہے اور روزمرہ کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے‘۔مظاہرین نے مزید کہا کہ علاقے کی بڑی آبادی کا ذریعہ معاش اسی یاترا سے جڑا ہوا ہے اور موجودہ صورتحال میں ان کے لیے اپنے خاندانوں کی کفالت کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے حکام اور سیکورٹی ایجنسیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے کی سیکورٹی صورتحال کا از سر نو جائزہ لیا جائے اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یاترا کے اوقات کو دوبارہ پورے دن کے لیے بحال کیا جائے۔احتجاجی مظاہرین نے امید ظاہر کی کہ انتظامیہ ان کے مسائل کو سنجیدگی سے لے گی اور جلد از جلد کوئی مثبت فیصلہ کرے گی تاکہ علاقے میں معاشی سرگرمیوں کو بحال کیا جا سکے اور مقامی لوگوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔