رام بن//سماجی مفاد کے لئے کام کر رہی بعض غیر سرکاری انجمنوں نے پہاڑی و پسماندہ ضلع رام بن میں محکمہ صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے محکمہ صحت میں منااسب انفراسٹریکچر مہیا نہ کرنے پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔اُنہوں نے مبینہ الزام لگایا ہے کہا کہ تبادلوں کے احکامات کی مناسب عمل آوری اور ان احکامات پر ترامیم سے محکمہ کے تمام طبی اداروں بشمول ضلع ہسپتال اور سب ۔ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کا کام و کاج پر بُری طرح متاثر ہو رہا ہے، کیونکہ ان میں عملہ کی کمی سے بُحران جیسے حالات ہیں۔انہوں نے کہا ضلع کے تمام طبی اداروں میںڈاکٹرں خصوصاًاسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی کمی ہے جسکی وجہ سے ضلع کا ہیلتھ شعبہ کی کارکردگی بد سے بد ترین ہورہی ہے۔مقامی لوگوں کا مبینہ الزام ہے کہانہیں طبی اداروں سے تسلی بخش خدمات میسر نہیں ہو رہی ہیں۔انہوں نے یہ بھی مبینہ الزام لگایا ہے کہ ضلع ہسپتال سے ڈاکٹروں کے تبادلے پر مناسب طریقہ اور وضع اصولوں کے تحت عمل نہیں ہو رہی ہے،جسکی وجہ سے سسٹم متاثر ہو رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ تبادلوں کے بعد بیشتر ڈاکٹر ضلع م،یں نئی تعیناتی کی جگہوں پر اپنی ڈیوٹی جوائن نہیں کرتے ہیں اوربعد میں ان احکامات کی ترمیم کر رہے ہیں۔سسٹم میں مداخلت کرنے کی ضرورت ہے اور ڈاکٹروں کی خالی اسامیوں کی جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہے ،جس نے ضلع میں محکمہ کی کارکردگی متاثر کی ہے۔انہوںنے کہا کہ ضلع ہسپتال میں میڈیکل افسروں کی تین اسامیاں ،سرجن اسپیشلسٹ کی ایک اسامی،ایک اینستھیسیائسٹ،ایک ماہر امراض خواتین ، ایک آرتھو پیڈیشن،ایک کنسلٹینٹ، ایک ڈرمیٹالوجسٹ اور ایک چائلڈ اسیشلسٹ کی اسا میاں خالی ہیں۔اسی طرح سے سب۔ڈسٹرکٹ ہسپتال بانہال اور گول میں بھی ڈاکٹروں ایک درجن سے زائد اسامیاں خالی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ضلع ہسپتال میں ایک سی ٹی سکین مشین نصب کی گئی ہے،تاہم اسے فعال نہیں بنایا گیا ہے ،کیونکہ محکمہ ابھی تک اس سلسلہ میں سٹاف کی منظوری دینے میں ناکام رہا ہے۔ضلع کے 151پرائمری ہیلتھ مراکز اور 2 سب۔ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے کی کافی تعداد نہیں ہے، جس سے عیاں ہے کہ محکمہ مریضوں کی پریشنایوں کو کم کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہا ہے۔