رام بن //ایڈیشنل ضلع ترقیاتی کمشنر رام بن رویندر سادھو کی قیادت میں ضلع سطح کی جائزہ کمیٹی کے افسروں کا ایک اجلاس منعقد ہوا ، جس میں بینکنگ سیکٹر میں ڈیپازٹس اور ایڈوانسز کی حصولیابی پر مباحثہ منعقد ہوا۔اجلاس میں آر بی آئی کے اے جی ایم رام کمار،لیڈ ضلع منیجر ایم کے پنڈتا، ڈائریکٹر آر ایس ای ٹی آئی آر کے شرما ، جی ایم ڈی آئی سی ،اے ڈئیز، سی اے او ،سی ایچ او، و دیگر بینکروں اور لائن ڈیپارٹمنٹ کے افسروں نے شرکت کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ مارچ 2018تک 1196.72کروڑ روپے کی رقم ڈیپازٹ کی صورت میں درج کی گئی ہے اور 422.79 کروڑ روپے کی رقم ایڈوانس سیکٹر میں حاصل کی گئی ہے اور سی ڈی تناسب میں 0.37% کا اضافہ درج کیا گیا ہے،جس پر اے ڈی سی نے نا پسندیدگی کا اظہار کیا ۔مرکزی سپانسر شدہ سکیموں پر بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا،جس کے تحت استفادہ حاصل کرنے والوں کو آمدنی پیدا کرنے والے یونٹ پیدا کرنے کے لئے قرضہ فراہم کیا جاتا ہے۔اجلاس میں مزید خُلاصہ کیا گیا کہ ایسے بہت سے معاملات مختلف بینکوں کے اس التوا میں پڑے ہوئے ہیں، جس پر اے ڈی ڈی سی نے تمام بینک برانچوں کو ہدایت دی کہ وہ مُدرا،اٹل پنشن یوجنا، و دیگر مالی معاونت والی سکیموں کے تحت استفادہ حاصل کرنے والوں کو کاروباری یونٹ قائم کرنے کے لئے قرضہ فراہم کریں۔انہوں نے سی اے او کو ہدایت دی کہ وہ پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا کے تحت مالی سیکورٹی یقینی بنائیں اور بینکوں سے اگلی میٹنگ میں comparative statement پیش کرنے کی ہدایت دی۔انہوں نے بینکروں کو کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی سیکٹر خصوصاً تعلیم ،زراعت، باغبانی اور اینٹر پیرینور شعبہ میں اپنی ذمہ واری نبھانے کی تلقین کی۔لئیڈ ڈسٹرکٹ منیجر رام بن نے اجلاس میں طلاب کو تعلیمی قرضہ سے متعلق جانکاری بر وقت دینے کو کہا، تاکہ بیرون ریاستوں میں وہ پیشہ وارانہ کورسوں کیلئے داخلہ حاصل کر سکیں۔دریں اثنا ، رورل سیلف ایمپلائمنٹ ٹریننگ انسٹیچوٹ (RSETI)کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔