.زخمی علاج معالجہ کیلئے ہسپتالوں میں داخل ،پولیس نے تحقیقاتی عمل شروع کر دیا
سمت بھارگو
راجوری/پونچھ//جموں۔راجوری پونچھ قومی شاہراہ ایک بار پھر المناک سڑک حادثات کی زد میں آ گئی، جہاں مختلف مقامات پر پیش آئے حادثات میں دو افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ ایک طالب علم سمیت کئی دیگر افراد شدید زخمی ہو گئے۔ ان حادثات نے ایک مرتبہ پھر پہاڑی علاقوں میں تیز رفتاری اور لاپرواہ ڈرائیونگ پر سوالیہ نشان کھڑے کر دئیے ہیں۔پہلا افسوسناک حادثہ منگل کی دیر شام پونچھ ضلع کے مینڈھر سب ڈویژن کے کلر علاقے میں پیش آیا، جہاں ایک ایکو گاڑی (رجسٹریشن نمبر JK12C-2724) بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری۔ اس حادثے میں گاڑی میں سوار دونوں افراد شدید زخمی ہو گئے۔ مقامی لوگوں اور پولیس کی مدد سے زخمیوں کو فوری طور پر سب ڈسٹرکٹ ہسپتال سرنکوٹ منتقل کیا گیا، جہاں سے ان کی نازک حالت کے پیش نظر انہیں گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) راجوری ریفر کر دیا گیاتاہم زخمیوں میں شامل 20 سالہ محمد آصف ولد محمد رشید، سکنہ جڑانوالی گلی، جی ایم سی راجوری لے جاتے وقت راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ دوسرے زخمی کی شناخت 25 سالہ صابر حسین ولد محمد یاسر،سکنہ جڑانوالی گلی کے طور پر ہوئی ہے، جو اس وقت جی ایم سی راجوری میں زیر علاج ہے۔ پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔دوسرا حادثہ بدھ کی شام راجوری قصبہ کے قریب ٹھنڈی کسی علاقے میں پیش آیا، جہاں ایک موٹر سائیکل اور منی بس کے درمیان زور دار ٹکر ہو گئی۔ اس حادثے میں 21 سالہ نوجوان ابرار احمد ولد عبدالرزاق، سکنہ ٹھنڈاپانی شدید زخمی ہو گیا۔ زخمی نوجوان کو فوری طور پر گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری منتقل کیا گیا، تاہم اس کی تشویشناک حالت کو دیکھتے ہوئے بعد ازاں اسے خصوصی علاج کے لئے جی ایم سی جموں ریفر کر دیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق حادثے کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لئے تفتیش جاری ہے۔تیسرا اور سب سے دل دہلا دینے والا حادثہ بدھ کی دوپہر منجاکوٹ کے ککوڑہ علاقے میں جموں۔راجوری۔پونچھ قومی شاہراہ پر پیش آیا، جہاں ایک موٹر سائیکل پر سوار تین اسکولی طلبہ ایک لائٹ گڈز کیریئر سے ٹکرا گئے۔ حادثے میں تینوں طلبہ شدید زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر جی ایم سی راجوری منتقل کیا گیا۔زخمی طلبہ کی شناخت 19 سالہ شفیق خان ولد علی شان،سکنہ ککوڑہ منجاکوٹ، 14 سالہ ثاقب خان اور 15 سالہ عاقب خان سکنہ منجاکوٹ کے طور پر ہوئی ہے تاہم 15 سالہ عاقب خان ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا، جبکہ دیگر دو زخمی طلبہ کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے اور وہ جی ایم سی راجوری میں زیر علاج ہیں۔ان مسلسل حادثات کے بعد مقامی لوگوں نے شاہراہ پر حفاظتی اقدامات بڑھانے، رفتار پر کنٹرول اور ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس نے تمام معاملات میں کیس درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔