سرینگر//جموں کشمیرمیں صرف 2 فیصد اساتذہ ،ذہنی اور نفسیاتی معاونت(سی ڈبلیو ایس این) کے حامل خصوصی ضرورت مند بچوں کو معیاری تعلیم سے روشناس کرنے کیلئے تربیت یافتہ ہیں۔ ان بچوں کو آن لائن طریقہ کار سے حصول تعلیم میں بھی بڑی دشواریوں کا سامنا ہے۔سرکاری اعداد و شمار میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ جموں و کشمیر میں محکمہ اسکول ایجوکیشن کے صرف 1.07 فیصد اور تسلیم شدہ نجی اسکولوں کے 1.27 فیصد اساتذہ کو گزشتہ تدریسی سال کے دوران خصوصی ضرورت کے حامل بچوں (سی ڈبلیو ایس این) کو پڑھانے کے لئے تربیت دی گئی ۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سی ڈبلیو ایس این کے لئے تربیت یافتہ اساتذہ 7.41 غیر تسلیم شدہ تعلیمی اداروں سے اور 0.65 فیصد وقف بورڈ سے تسلیم شدہ مدرسوں میں ہیں۔محکمہ تعلیم کے اعدادوشمار کے مطابق ، تعلیمی سال 2018-19کے دوران جموں و کشمیر کے18اضلاع میںخصوصی ضرورت مند بچوں) سی ڈبلیو ایس این (کے لئے صرف 2030 تربیت یافتہ اساتذہ موجود تھے۔ ظفر احمد نامی ایک والد کا کہنا تھا کہ’’ سی ڈبلیو ایس این‘‘ کے لئے خصوصی سرکاری اور نجی اسکولوں کی عدم فراہمی کی وجہ سے ، اس نے اپنی بچی ا یک ممتاز نجی اسکول میں داخل کرایا تھا جس میں اسے2سال سے زیادہ عرصہ ہوا مگر اس نے کچھ بھی نہیں سیکھا ۔
انہوں نے کہا’’میری بیٹی ذہنی طور مفلوج ہے اور یہاں تک کہ وہ کچھ نہیں بول سکتی اور کچھ سال قبل اسے ایک نجی اسکول میں داخل کرایا، لیکن بدقسمتی سے وہ وہاں سے کچھ نہیں سیکھ نہیں پائی۔‘‘ظفر نے کہا کہ نجی اسکول جو طبی،ذہنی اور نفسیاتی معاونت(سی ڈبلیو ایس این) والے خصوصی ضرورت مند بچوں کو تعلیم دلانے کا دعوی کرتے ہیں، وہ صرف والدین کو ٹکسال سمجھتے ہیں۔ شبیر احمد نامی ایک اور والدنے کہا ’’ستم ظریفی یہ ہے کہ خصوصی ضرورت مند بچوں (سی ڈبلیو ایس این )کے لئے کوئی سرکاری اسکول نہیں ہے اور مجھے لگتا ہے کہ حکومت کو ایسے اسکولوں کا قیام عمل میںلانا چاہئے جس میں خصوصی تربیت یافتہ اساتذہ ان بچوں کو پڑھائیں ‘‘۔محکمہ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں 171 اساتذہ کو طبی،ذہنی اور نفسیاتی معاونت والے بچوں کوتعلیم دینے کی تربیت دی گئی ہے جس میں سرکاری اسکوں کے 96 اور غیر تسلیم شدہ نجی اداروں کے 75 اساتذہ شامل ہیں۔سمگرا شیکشا ابھیان(ایس ایس اے) کے افسراں نے بتایا کہ محکمہ کی طرف سے ہنر مند افراد کی خدمات حاصل کی جاتی ہے جن کے ذریعہ’’ سی ڈبلیو ایس این‘‘ بچوں کو سنبھالا اور پڑھایا جاتا ہے اور وہ مستقل طور پر انہیں نگرانی میں رکھنے کے علاوہ معیاری تعلیم مہیا کرتے ہیں۔ اعدادوشمار میں لکھا گیا ہے کہ’’ سی ڈبلیو ایس این ‘‘کیلئے تربیت یافتہ اساتذہ میں ، 1163 محکمہ اسکول ایجوکیشن سے ، 10 کیندریہ ودھیالہ سے ، ایک جواہر نودھالیہ اسکول سے ، ایک سرکاری مدد یافتہ اسکول سے ، 859 تسلیم شدہ غیر مدد یافتہ اداروں سے چار غیر تسلیم شدہ اداروں سے ، ایک وقف مدرسہ سے اور دو غیر تسلیم شدہ مدرسہ سے۔
وادی میں جسمانی و ذہنی طور معذور طلاب کیلئے کام کرنے والے ہیومنٹی ویلفیئر آرگنائزیشن ہیلپ لائن کے سربراہ جاوید احمد ٹاک کا ماننا ہے کہ جموں کشمیر میں قریب ایک لاکھ20ہزار بچے معذور ہیں،جن میں 40ہزار سے زائد طلاب کا اندراج وادی کے تعلیمی اداروں میں ہوا ہے،اور ان میں سے بھی بیشتر بچے مالی طور پر کمزور کنبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ سرکار نے ان بچوں کیلئے مرکزی معاونت والی اسکیم کے تحت58ہنر مند انسانی وسائل کاروں کی خدمات حاصل کی تھی،تاہم ان میں سے بھی بیشتر نے اپنی خدمات کو بند کیا اور دیگر محکموں میں کام کرنے کو ترجیج دی کیونکہ انہیں بہت کم مشاہرہ دیا جاتا تھا۔ کورونا وائرس اور اس سے قبل حالات کے نتیجے میں گزشتہ18ماہ سے وادی کے تعلیمی ادارے بند ہیں،اور طلاب کو آن لائن طریقہ کار سے تعلیم فراہم کی جاتی ہے،تاہم طبی،ذہنی اور نفسیاتی معاونت کے حامل خصوصی ضرورت مند بچوں کی تعلیم پر اس سے بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں،کیونکہ آن لائن طریقہ کار سے وہ پڑنے سے قاصر ہیں۔ معذوروں کی فلاح کیلئے کام کرنے والی غیر سرکاری رضاکار تنظیم سوبھمان(عزت نفس) کے حالیہ جائیزے میں کہا گیا ہے کہ جموں کشمیر سمیت دیگر ریاستوں میں43فیصد یہ خصوصی بچے اسکولوں کو چھوڑنے کا من بنا رہے ہیں کیونکہ آن لائن طریقہ کار تعلیم حاصل کرنا انکی سمجھ سے باہر ہے۔