نئی دہلی // دہلی میں لاک ڈاؤن کے پہلے دن منگل کومصروف ترین بازار سنسان رہے اور ریلوے اسٹیشنوں اور بس اڈوں پرمہاجر مزدوروں کی بھیڑ دیکھی گئی ۔ پیر کے روز لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعدہی مہاجر مزدوروں کی بھاری بھیڑ آنند وہار بس اسٹیشن ، ریلوے اسٹیشن اور بین ریاستی بس اڈے پر دیکھی گئی جو مسلسل بڑھتی ہی جارہی ہے ۔ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر بھی بڑی تعداد میں مزدور اپنی اپنی ریاستوں کو واپس جانے کے لئے جمع ہوئے تھے ۔دہلی میں کورونا کیسز میں اضافے کے بعد کیجریوال نے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل سے میٹنگ کے بعد پیر کی صبح 5بجے تک کے لئے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا اور مزدوروں سے اپنے گھروں کو واپس نہ جانے کی اپیل کی تھی ۔وزیر اعلیٰ کے لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد آنندوہار، کوشمبی بس اڈے اور میں لوگوں کی بھاری بھیڑ جمع ہو گئی اور کووڈ کے ضابطوں پر بھی عمل نہیں کیا جا رہا تھا ۔ زیادہ تر لوگوں کا کہا تھا کہ کورونا وبا پر قابو کے بعد ہی وہ سبھی دہلی لوٹیں گے ۔ کچھ فیکٹریوں کے بند ہونے کے بعد مزدور واپس اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے ۔دارالحکومت کے مصروف ترین کناٹ پلیس میں بھی آج دکانیں بند رہیں اور سڑکیں سنسان رہی ۔ جگہ جگہ پر سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی دیکھی گئی ۔ جو آنے جانے والے لوگوں کی چیکنگ کر رہے تھے ۔ کئی کاروباری تنظیموں نے خود ہی بند کا اعلان کیا ہے ۔جن میں پرانی دہلی کا چاندنی چوک ، کھاری باولی ، صدر بازار اور گاندھی نگر وغیرہ شامل ہیں ۔ قومی دارالحکومت میں پبلک ٹرانسپورٹ اور میٹرو خدمات جاری ہیں ، لیکن ان میں محدود تعداد میں لوگوں کو آنے جانے کی اجازت ہے ۔دہلی میں لاک ڈاؤن کے دوران لازمی خدمات میں اشیائے خوردنی اور طبی خدمات کو مستثنیٰ رکھا گیا ہے ۔ اس دوران مرکزی حکومت کے دفاتر کھلے رہیں گے ۔