خالد بشیر تلگامی
شام ڈھلے بیٹی کا فون آیا۔ آواز میں ہلکی سی بے چینی تھی۔ وہ کہہ رہی تھی۔’’ابّا!۔۔۔۔کل میرا رزلٹ ہے۔۔۔ مجھے لینے آجائیں۔‘‘
میں گاڑی لے کر گیا۔ وہ راستے بھر کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔ سورج پہاڑی کے پیچھے غروب ہورہا تھا۔ میں خاموش رہا۔ دل میں بس یہی خیال تھا کہ کل خوشی کا دن ہوگا۔
دوسرے دن رزلٹ نکلا۔ وہ امتیازی نمبروں سے پاس تھی۔ موبائل فون کے اسکرین پر اعدادوشمار چمک رہے تھے۔ میرا دل خوشی سے پھولے نہ سما رہا تھا۔ میں نے آواز دے کر کہا۔’’بیٹا ، مبارک ہو!‘‘
اس نے بھی فون کا اسکرین دیکھا۔ ایک لمحے کو ٹھہری، پھر دھیمی آواز سے گویا ہوئی۔ ’’دو نمبر کم ہیں!‘‘
یہ کہہ کر وہ دوسرے کمرے میں چلی گئی۔وہ دوستوںکے رزلٹ دیکھ رہی تھی۔ کسی کا ایک نمبر زیادہ تھا تو کسی کے دو نمبر۔
وہ رونے لگی۔گھڑی کی سیکنڈ والی سوئی مسلسل ’ٹک ٹک‘کی آواز کے ساتھ رواں تھی۔ میں وہیں حیرت زدہ بیٹھا سوچتا رہا،یہ تو اچھے مارکس سے ساتھ کامیاب ہوئی ہے، پھر یہ آنسو کیوں؟
وہ کمرے سے باہر آئی۔ کھڑکی کے پاس رک گئی۔ باہر آسمان صاف تھا مگر نگاہیں دھند لی تھیں۔ میں نے کچھ نہیں کہا۔ وہ بھی خاموش رہی۔گھڑی کی مسلسل ’ٹک ٹک‘کی آواز سماعت سے ٹکرارہی تھی۔ اور دو نمبر وں کا فاصلہ کمرے کی فضامیں کسی بڑے امتحان کی طرح ایستادہ تھا۔
اور میں خاموش رہا ،دو نمبروں کے درمیان چھپے کسی راز کی پرچھائیںکو دیکھتے ہوئے۔
���
تلگام، پٹن، بارہمولہ، کشمیر
موبائل نمبر؛9797711122