ماریا بشیر
دس برس بعد عدیل لندن سے لوٹ کر گیٹ کافی دیر کھٹکھٹاتا رہا مگر کوئی جواب نہیں ملا۔ کافی دیر یونہی گیٹ پر اپنے دو بیگ لئے وہ انتظار کرتا رہا کہ سلطان چاچا نے چابی اسے بنا کچھ کہے تھما دی اور وہاں سے چلا گیا ۔ عدیل اندر داخل ہوا تو آنگن پر سناٹا چھایا تھا۔ مکان بوسیدہ اور ویران یعنی عمر رسیدہ ہوچکا تھا۔ عدیل کے ذہن میں بچپن کی وہ یادوں کی ویڈیو پھر سے چلنے لگی جس میں یہ آنگن، یہ مکان خوب آباد تھا۔ کھیل ، کھلونے ، مٹی ، دھول اور بچپن۔ وہ آنگن میں بت بنا اس ویرانگی کو دیکھ کر رہا اور اسکے ذہن میں بچپن کی ویڈیو دیر تک چلتی رہی۔ گاؤں کی بڑی مسجد کے میناروں سے اذان کی آواز نے اسے واپس حال میں لایا۔
“پچھلے برس ہی تو ابا سے فون پر بات ہوئی تھی” وہ من ہی من سوچ رہا تھا۔
یہی سوچ اور اضطراب لئے جب وہ اس خستہ اور قبر نما گھر میں داخل ہوا۔ وہ اپنے ابا کو آواز دیتا رہا ۔
” ابا ۔۔۔۔ ابا ”
لیکن اس خالی مکان میں صرف خاموشی تھی اور کوئی جواب واپس نہیں ملا۔ اس کے مہنگے جوتوں کی چاپ اور باہر بارش کی بوندیں اس خاموشی میں خلل ڈال رہی تھی۔
عدیل جب ابا کے کمرے میں داخل ہوا تو چھت ٹپک رہی تھی۔ اس نے جلدی سے والد صاحب کی میز پر رکھے کاغذات کو سمیٹنا شروع کیا۔ ان کاغذات میں اس کی نظر ایک خط پر پڑی جس پر اس کا نام لکھا تھا۔
اس نے جلدی سے خط کھول کر پڑھنا شروع کیا:
“بیٹا عدیل ۔۔ تم اب لوٹ آئے ہو ۔ لیکن میں پچھلے کئی برس سے تمہارے آنے کا بالکل اسی طرح انتظار کرتا رہا جس طرح سوکھی مٹی بارش کا انتظار کرتی ہے ۔ لیکن تم نہیں لوٹے اور میری آنکھیں انتظار کرتے کرتے پہلی سوکھ گئیں اور پھر بنجر ہوگئیں ”
عدیل کی آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب برسنے لگا۔ اس کی آواز سسکیوں میں تبدیل ہوگئی اور سسکیاں چھٹ سے ٹپکنے والی بوندوں کی آواز میں گھل گئی اور عدیل کاغذ کا ٹکڑا دیر تک سینے سے لگا کر روتے روتے چھت سے برستی بوندوں کو دیکھتا رہا۔
���
مائی نیو اسکول درگمولہ کپوارہ
[email protected]