یواین آئی
بنگلورو/سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف 200 سے زائد رنز کے ہدف کو محض 15.4 اوورز میں عبور کر لینا رائل چیلنجرز بنگلورو (آر سی بی) کے عزائم کا واضح اظہار تھا۔ لیکن اس جارحانہ کارکردگی کے پیچھے اصل کہانی اس خاموش محنت میں چھپی ہے جہاں کھلاڑیوں کی انفرادی نفسیات کو کارکردگی کی بنیاد بنایا گیا ہے ۔ اس تبدیلی کے مرکز میں آر سی بی کے بیٹنگ کوچ دنیش کارتک ہیں، جن کے تربیتی فلسفے نے ٹیم کے بیٹنگ یونٹ کی تیاری اور حکمت عملی کو ایک نئی جہت عطا کی ہے ۔ روایتی مشقوں اور عام گیم پلانز سے ہٹ کر، کارتک نے ہر کھلاڑی کے مزاج، کردار اور میچ کی صورتحال کے مطابق انفرادی نقطہ نظر اپنایا ہے ۔ کارتک کا کہنا ہے “ہماری ٹیم میں کھلاڑی اپنے کیریئر کے مختلف مراحل پر ہیں، اس لیے کوچنگ کا مقصد مہارت کے ساتھ ساتھ انسان کو سمجھنا بھی ہے ۔” یہ فلسفہ اب میدان میں کارکردگی کی صورت میں نظر آ رہا ہے ۔
فل سالٹ جیسے کھلاڑیوں کو نئی گیند اور ابتدائی سوئنگ کا سامنا کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے ، جبکہ روماریو شیفرڈ جیسے کھلاڑیوں کو میچ کے آخری لمحات میں پاور ہٹنگ اور صورتحال کے مطابق بیداری کی تربیت دی گئی ہے ۔ یہ طریقہ کار یکساں ہدایات کے بجائے ہر کھلاڑی کی مخصوص ضرورت کے مطابق ہے ۔ کارتک کی حکمت عملی میں ‘سمولیشن ٹریننگ’ (مصنوعی میچ حالات) کو خاص اہمیت حاصل ہے ، بالخصوص ٹم ڈیوڈ جیسے فنشرز کے لیے ، جہاں فیلڈ پلیسمنٹ اور دباؤ والے حالات کے مطابق مشقیں کرائی جاتی ہیں۔ ایک ایلیٹ کرکٹر اور کمنٹیٹر کے طور پر کارتک کے وسیع تجربے نے انہیں کھیل کی باریکیوں کو سادہ اور قابلِ عمل مشوروں میں بدلنے میں مدد دی ہے ۔ اس سیزن میں آر سی بی کا بیٹنگ انداز منظم ہونے کے ساتھ ساتھ جارحانہ اور لچکدار نظر آ رہا ہے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پوری ٹیم میں باہمی اعتماد کی فضا قائم ہے ، جہاں کھلاڑیوں کو میدان میں خود فیصلے کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے ۔ دنیش کارتک کا یہ اثر نہ صرف بنائے گئے رنز میں نظر آ رہا ہے ، بلکہ اس خود اعتمادی میں بھی جھلکتا ہے جو اب آر سی بی کے کھلاڑیوں کی ایک نئی پہچان بن چکی ہے ۔