واشنگٹن / ریو ڈی جنیرو / نئی دہلی،13 دسمبر// جان لیوا اور مہلک ترین عالمی وبا کورونا وائرس کووڈ19سے دنیا بھر میں 7.17 کروڑ سے زیادہ افراد متاثر جب کہ 16 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔جان ہاپکنز یونیورسٹی کے سائنس اینڈ انجینئرنگ سنٹر (سی ایس ایس ای) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے 192 ممالک میں 7.17 کروڑ سے زیادہ افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں ، جبکہ 16 لاکھ 04 ہزار 516 مریض اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر امریکہ میں اب تک 1.60 کروڑ سے زیادہ افراد متاثر ہوچکے ہیں ، جبکہ تقریبا2.98 لاکھ مریض لقمہ اجل بن چکے ہیں۔کورونا متاثرین کے معاملہ میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہندوستان ہے جہاں متاثرین کی تعداد 98.57 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے ۔ جبکہ اب تک 93.57 لاکھ سے زیادہ شفایاب ہوچکے ہیں۔ صحت مند افراد کی تعداد نئے کیسز سے زیادہ ہونے سے فعال کیسز کم ہوکر 3.56 لاکھ رہ گئے ،جب کہ مرنے والوں کی تعداد 1 لاکھ 43 ہزار 90 ہوگئی ہے ۔برازیل میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 68.80 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے اور 1.81 لاکھ سے زیادہ مریض دم توڑ چکے ہیں۔ روس میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 26 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ اب تک 45923 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ فرانس میں 24.05 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر اور57671 مریض فوت ہوچکے ہیں۔جان لیواوبا سے متاثرین کے معاملے میں برطانیہ نے ایک بار پھر اٹلی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اوراس ملک میں اب تک 18.36 لاکھ سے زیادہ افراد وائرس کا شکار ہوچکے ہیں اور 64123 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری جانب اٹلی میں اب تک 18.25 لاکھ سے زیادہ افراد اس وائرس سے متاثر اور 64036 مریض ہلاک ہوچکے ہیں۔ ترکی میں اب تک 18.10 لاکھ سے زائد افراد کووڈ ۔19 سے متاثر ہوئے اور 16199 مریضوں کی موت ہوچکی ہے ۔ اسپین میں اس وبا کی زد میں آنے سے اب تک 17.30 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر اور 47624 مریض لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ارجنٹائنا میں کووڈ 19 سے 14.94 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر اور 40668 مریض لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ کولمبیا میں اب تک لگ بھگ 14.17 لاکھ افراد اس جان لیوا وائرس سے متاثر اور 38866 مریض اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ جرمنی میں 13.20 لاکھ افراد اس وائرس سے متاثر اور 21900 مریض ہلاک ہوچکے ہیں۔میکسیکو میں اب تک 12.41 لاکھ سے زیادہ افراد کورونا سے متاثر اور تقریبا 1.14 لاکھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پولینڈ میں کورونا کے 11.26 لاکھ سے زیادہ کیسز ہوچکے ہیں اور 22676 مریض لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ایران میں اب تک 11 لاکھ سے زیادہ افراد اس وبا سے متاثر اور 51949 مریض لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ پیرو میں اب تک 9.81 لاکھ سے زیادہ افراد اس وائرس سے متاثر اور 36544 مریض ہلاک ہوچکے ہیں۔یوکرین میں تقریبا 9.09 لاکھ افراد اس وائرس سے متاثر جبکہ 15528 مریض ہلاک ہوچکے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں 8.53 لاکھ سے زیادہ افراد متاثراور23106 مریض ہلاک ہوئے ہیں۔ ہالینڈ میں کورونا وئارس سے 6.13 لاکھ سے زیادہ افراد متاثراور 10104 مریض لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ انڈونیشیا میں کورونا متاثرین کی تعداد 6.11 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد 18653 ہوگئی ہے ۔ بیلجیئم میں 6.03 لاکھ سے زیادہ افراد کورونا سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ 17792 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔جمہوریہ چیک میں کورونا سے اب تک 5.95 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں اور 9450 مریض لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
کوروناکاقہر | جرمنی میں دسمبر کے وسط سے پابندیاںبڑھانے کا امکان
ماسکو //جرمنی کی حکومت 20 دسمبر سے کورونا وائرس سے متعلق قرنطین اقدامات میں اضافہ کر سکتی ہے ۔’دی بزنس انسائڈر ‘کے مطابق نئے قرنطین اقدامات 16 دسمبر سے پہلے نافذ کردیئے جائیں گے اور 10 جنوری تک جاری رہیں گے ۔ اس سلسلے میں حتمی فیصلہ اتوار کو لیا جائے گا۔اس سے قبل ہفتے کے روز برلن کے میئر مائیکل مولر نے کہا تھا کہ جرمنی کی حکومت 20 دسمبر سے کورونا وائرس سے متعلق قرنطین اقدامات بڑھا سکتی ہے ۔ مولر نے جے ڈی ایف کو بتایا’’ہم نے دیگر ریاستوں کے اپنے شراکت داروں سے بات چیت میں غور کیا کہ 20 دسمبر سے قرنطین سے متعلق اہم پابندیاں عائد کردی جائیں گی ، تاکہ ہم یہ کہہ سکیں کہ خوردہ شعبہ یقینی طور پر بند رہے گا۔جرمنی کے’بلڈ‘اخبار نے 27 دسمبر سے کورونا وائرس سے متعلق قرنطین میں اضافہ کی اطلاع دی ہے ۔اس دوران روزمرہ کی اشیائے ضروریہ اور دواخانوں کے علاوہ تمام دکانیں بند رہیں گی۔ توقع ہے کہ اسکول بھی بند رہیں گے۔عالمی وباکورونا وائرس نے دنیا بھر میں 7 کروڑ سے زائد افراد کو متاثر کیا ہے ۔ جرمنی میں کورونا وائرس کی وجہ سے اب تک 21600 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
فیڈیکس کو فائزر- بایو انٹیک سے ویکسین ملنا شروع
واشنگٹن//ملٹی نیشنل ڈلیوری سروسز کمپنی فیڈ یکس کو’فائزر۔بایو انٹیک‘سے کووڈ -19 اینٹی ویکسین ملنا شروع ہوگیا ہے ۔’کمرشیل اپیئل‘ اخبار نے اپنی رپورٹ میں یہ اطلاع دی ہے ۔فیڈ یکس کے نمائندے بونی ہیریسن نے کہا کہ یہ ویکسین ہمارے نیٹ ورک تک پہنچنا شروع ہوگئی ہے ۔امریکہ میں ویکسین کی فراہمی کے لئے ‘آپریشن وارپ اسپیڈ کے ایک افسر جنرل گستاؤ پیرنا نے بتایا کہ امریکی ریاستوں کو پیر سے فائزر بایو انیٹک کی ویکسین مل سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا امید ہے کہ پیر کی صبح پہلی کھیپ آئے گی ۔ ہم نے ویکسین کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی اور مقامی لا انفورسمنٹ ایجنسیوں سمیت ’فازئر‘،’میک کیسن‘ ،’یو پی ایس‘ اور’فیڈ ایکس‘ کے ساتھ حکمت عملی بنائی ہے ۔ بغیر کسی غلطی کے فی الحال سپلائی کا کام شروع ہوچکا ہے ۔