جموں/نیشنل کانفرنس وومن ونگ کی صوبائی صدر ستونت کورڈوگرہ نے کہاہے کہ دفعہ 35اے مہاراجہ ہری سنگھ کی فہم وفراست اور دوراندیشی کاعکاس ہے جس کی وجہ سے ریاست جموں وکشمیرکوسٹیٹ سبجیکٹ لاء کے تحت خصوصی شناخت ملی۔انہوں نے کہاکہ 1927 میں متعارف کیے گئے اس قانون کی وجہ سے ریاست کے لوگوں کے کلچراورثقافت کاتحفظ یقینی بنا۔انہوں نے کہاکہ مہاراجہ ہری سنگھ نے ڈوگرہ پرتی ندھی سبھااورکشمیری پنڈت سبھاکی گذارش پر عمل کیاتاکہ جموں ،کشمیراورلداخ کے لوگوں پرباہرکے لوگ غلبہ نہ جمالیں۔ستونت کور بلاک صدر،وومن ونگ لیلادیوی کی جانب سے بلاک جگانو،ادہم پورکی جانب سے منعقدہ پارٹی ورکروں کی میٹنگ سے خطاب کررہی تھیں۔اس دوران ان کے ہمراہ ضلع صدرجموں (آر) دلجیت شرما ،ضلع صدرادہم پور راما گپتا، ضلع نائب صدراہم پور سرشٹھاجرال اوربلاک صدرجموں (بی) لتاشرمابھی تھے۔ستونت کورڈوگرہ نے پی ڈی پی۔بی جے پی مخلوط حکومت کی جانب سے اس معاملے کوسپریم کورٹ میں دھکیلنے پربھی تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ آج تک کوئی بھی بیان حلفی سپریم کورٹ میں نہ مرکزی اورنہ ہی ریاستی حکومت نے جمع کیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس قانون سے ریاست کے تینوں خطوں کے تحفظ اورمفادات حاصل ہیں جس پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیاجاسکتاہے۔ انہوں نے دفعہ کومنسوخ کرنے کی مبینہ سازشوں پرتشویش ظاہرکی اورتوقع کی کہ سپریم کورٹ دفعہ 35اے کوچیلنج کرنے والی پٹیشن کوردکرکے عوام جموں وکشمیرکے مفادات کاتحفظ یقینی بنائے گی۔اس دوران ضلع صدر نیشنل کانفرنس سنیل ورمانے پروگرام کی صدارت کی اوردفعہ 35اے کے خلاف سازشوں کی مذمت کی ۔انہوں نے کہاکہ نیشنل کانفرنس اس دفعہ کے تحفظ کیلئے جدوجہدکرے گی۔دلجیت شرما، رما گپتا، سرشٹھاجرال، لیلادیوی اورلتاشرمانے بھی متحدہوکرریاست کے تشخص کوبرقراررکھنے پرزوردیا۔اس موقعہ پر بلاک صدرجگانوموہن لال شرما،وکی دھنوچ ، بلاک سیکریٹری کیلاشودیوی، جگدیش اج اورجان ولسن نے بھی خیالات کااظہارکیا۔