دعوت کے لفظی معنی بلانے کے ہوتے ہیں اور اصلاح کے معنی ہوتے ہیں سیدھا کرنا، ٹیڑھے پن کو دور کرنایا دوسرے لفظوں میں بگاڑ کو درست کرنا۔ اللہ تعالی نے اس دنیا میں انسان کی آمد کے ساتھ ہی اس بات کا انتظام کیا کہ اس کائنات سے انسان اپنی صلاحیتوں کو کام میں لا کر اپنے لیے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرے۔ اس کائنات میں انسان کے لئے کامیابی بھی اللہ نے اس عمل میں رکھی ہے کہ انسان اپنے آپ کو اس کے احکامات کے تابع کر دے اور زندگی اُس طرح گزارے جس طرح ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی گزاری ہے۔زمانہ گواہ ہے جب تک انسانی سماج نے اپنے آپ کو خدائی احکامات کے تابع رکھا اور اپنے وقت کے نبیؑ کی شریعت کی پیروی کی، اُس سماج میںہر طرح کی بھلائی اور خیر میں رہی، زمین نے برکتوں کے دہانے کھول دیے اور آسمانی نوازشوں سے قوم لطف اندوز ہوتی رہی۔
لیکن اس کائنات نے یہ منظر بار بار دیکھا ہے کہ انسانی سماج اپنے پیدا کرنے والے سے بے رخ ہوئی اور اپنے نفس کے تقاضوں کو ہی اس نے معبود بنایا ،توانسانی نفوس نے بگاڑ کی صورت اختیار کی۔ اس بگڑی صورت میں نفس نے جیسا تقاضا کیا ،انسان نے اپنی ساری صلاحیت کو اس تقاضے کو پورا کرنے میں جھونک دیا۔ انسانی نفوس نے اپنے تمام خودساختہ عزائم کا تجربہ کرلیا ۔ لیکن خدا کی اس دنیا میں انسانی نفوس کو تسکین اس کا نعم البدل نہیں دے سکا ۔ انسانی نفوس کے بگاڑ کی وجہ سے انسانی سماج دو گروہوں میں منقسم ہوگیا ۔ اللہ تعالی نے ایک گروہ کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں راستے سے بھٹکا ہوا قرار دیا اور دوسرے گروہوں کو موجبِ لعنت قرار دیا ۔
اُمتِ مسلمہ کو انبیاء کے بعد معاشرہ میں فساد اور بگاڑ درست کرنے کے لئے اس زمین پر مبعوث کیا گیا ہے۔ اے مسلمانو! تم بہترین گروہ ہو، تمہیں ساری انسانیت کی بھلائی کے لیے نکالا گیا ہے ۔تم انسانی برادری میں بھلائی کو فروغ دینے والے ہو اور برائیوں سے روکنے والے ہو اور تم اللہ پر ایمان رکھنے والے ہو۔
لیکن ہم اب اپنے زمانے میں دیکھ رہے ہیں کہ ایمان رکھنے کے باوجود آج کے مسلمانوں میں بھی ہر سطح پر بگاڑ پایا جاتا ہے۔چاہے انفرادی زندگیوں کی بات کی جائے یا اجتماعی زندگیوں کی بات کی جائے، ہر سطح پر مسلمان زوال پذیر ہے اور قرآن مجید اور سنت نبویؐ ہونے کے باوجود بھی آج ہم اس پر عمل پیرا نہیں ہو پاتے ہیں۔مسلمان جن کو دعوت اسلام کی تعلیم دی گئی تھی، آج اس منصب کو بھول چکے ہیں اور زندگی میں اپنے نفس کے تابع رہ کر شیطانی زندگی بسر کر رہے ہیں۔جو بُرائیاں مکہ کے ابتدائی دورِ جہالت میں پائی جاتی تھی، آج وہی برائیاں ہمارے سماج میں بھی من وعن پائی جاتی ہے لیکن کوئی مسلمان ان برائیوں کو سماج میں سے نکالنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ہمارے پاس مکمل ضابطہ حیات ہونے کے باوجود بھی قرآن کی اُن احکامات کی پیروی نہیں ہو پاتی ہےجوکہ ہم پر بالکل لازم قرار پائے گئے ہیں۔ آج کے نوجوان کو داعی الی اللہ کا کردار نبھانا ضروری ہے ،تب جا کے دنیا میں وہ کامیاب ہو سکتا ہے اور آخرت میں بھی کامیابی پا سکتا ہے ورنہ جو مسلم ممالک اور مسلم نوجوانوں کا کردار ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے چاہے ،انفرادی ہو یا اجتماعی سطح کا ہو، وہ انتہائی قابل افسوس ہے۔
اول الذکر جماعت جو ایمان سے محروم ہے، اس میں دعوت ایمان کے عنوان سے ہم مسلمانوں کو کام کرنا چاہیے اور آخر الذکر بگڑے مسلم سماج میں سدھار لانے کے لئے دعوت اعمال کے عنوان سے کام کرنا چاہیے اور دونوں امر کی نشاندہی قرآن کرتا ہے۔ دعوت ایمان کے بارے میں اللہ تعالی کہتا ہے کہ اے نبی! آپ ڈرایئے ان لوگوں کو، جن کے باپ دادا کو بھی نہیں ڈرایا گیا ہے ، اس وجہ سے کہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔چونکہ ختمِ رسالت کی وجہ سے نبیؐ کے ساتھ اُمت ِ مسلمہ کو بھی شریک کیا گیا ہے ۔ارشاد ہے اے نبیؐ! کہہ دو، یہی میرا راستہ ہے، انسانوں کو اللہ کی طرف بلانا ،سمجھ بوجھ کے ساتھ ۔ سدھار لانے کے لئے اللہ نے کام کرنے کی جو نصیحت دی وہ یوں ہے کہ اے نبیؐ! آپ ایمان لانے والوں میں تذکیر کرتے رہیں کیونکہ اس تذکیر سے مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔
دعوت واصلاح لازم و ملزوم ہے، کسی ایک کے بغیر انسانی سماج متوازن نہیں رہ سکتا ہے۔ وہ گروہ جو اللہ کے حدود پر قائم ہے اور وہ گروہ جو ابھی اللہ کی حدود سے باہر ہے۔ ایک پانی کے جہاز میں بیٹھے ہیں۔اگر نادان لوگوں کو سمجھا بجھا کر منت سماجت کرکے حدود کا پابند نہیں بنایا گیا تو انسانی گروہ اچھے اور بُرے دونوںہی ہلاکت وبربادی سے اس زمین پر بچ نہیں پائیں گے اور اگر دعوتی و اصلاحی کوششوں سے انسانی گروہ اچھائیوں اور برائیوں سے مزیِّن کر لیا تو سابقہ زمانے کی طرح اللہ کا وعدہ ہے، زمین اپنی برکتوں کے دہانے کھول دے گی اور آسمان سے خدائی نوازشوں کے دہانے کھلیں گے۔ فیصلہ ہمارے اور آپ کے ارادوں پر ہے۔
(طالب علم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی)