محمد تسکین
بانہال // بانہال سے تعلق رکھنے والی ایک ہونہار طالبہ صبحت وحید نے دسویں جماعت کے امتحان میں شاندار 99.2فیصد نمبرات حاصل کر کے نہ صرف اپنے والدین بلکہ پورے ضلع رام بن کا نام روشن کیا ہے۔ صبحت وحید نے جموں صوبہ کے ونٹر زون میں دوسری پوزیشن حاصل کر کے ایک نمایاں کامیابی اپنے نام کی۔جبکہ ضلع رام بن میں وہ اول نمبر پر ہے۔ صبحت وحید کا تعلق بانہال کے گاؤں کسکوٹ سے ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی اور مڈل تعلیم شاہ اسرار سکول کسکوٹ میں جماعت اول سے آٹھویں تک حاصل کی، جبکہ جماعت نویں اور دسویں کی تعلیم گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول بانہال سے مکمل کی، جہاں انہوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔خاندانی ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ صبحت کی تعلیمی کامیابی میں ان کی والدہ کا کلیدی کردار رہا ہے ، جنہوں نے ابتدائی جماعتوں سے ہی اپنی بچیوں کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی اور ایک مضبوط تعلیمی بنیاد فراہم کی۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ صبحت وحید نے کسی بھی قسم کی پرائیویٹ ٹیوشن حاصل نہیں کی بلکہ مکمل طور پر سکول کی تدریس پر انحصار کیا اور روزانہ دو سے تین گھنٹے باقاعدہ مطالعہ کو اپنا معمول بنایا، جو ان کی کامیابی کا اہم سبب بنا۔ہائیر سیکنڈری سکول گرلز بانہال کی انتظامیہ نے اس کامیابی کو مثبت تعلیمی ماحول کا نتیجہ قرار دیا یے جو پرنسپل شبیر احمد تانترے کی نگرانی میں قائم کیا گیا اور ان کی قیادت میں نصاب کی بروقت تکمیل، اساتذہ کی مؤثر رہنمائی اور طلبہ پر خصوصی توجہ دی گئی، جس سے تعلیمی معیار میں نمایاں بہتری آئی۔صبحت کے والد عارف وحید صحافی ہیں،جنہوں نے اپنی بیٹی کی کامیابی کو اس کی مسلسل محنت، لگن ، والدین ، اساتذہ و دیگر اہل ِخانہ کے تعاون کا نتیجہ قرار دیا ۔
ایک مضمون میں ناکامی کاصدمہ | بدھل میں طالبہ کی خودکشی، علاقہ سوگوار
محمد بشارت
کوٹرنکہ //ضلع راجوری کے بدھل علاقے کی پنچایت حلقہ شاہپور سے تعلق رکھنے والی گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول بدھل کی طالبہ صائمہ کوثر دختر محمد رفیق، عمر تقریباً 16 برس، نے گزشتہ روز دسویں جماعت کے نتائج کے اعلان کے دوران ایک مضمون میں ناکامی کے صدمے سے دل برداشتہ ہو کر مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ اس افسوسناک واقعہ کے بعد پورے علاقے میں غم و اندوہ کی فضا قائم ہو گئی ہے۔ذرائع کے مطابق نتائج سامنے آنے کے بعد صائمہ کوثر شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئی تھیں۔ اسی دوران انہوں نے اپنے گھر کے ایک کمرے میں تنہائی اختیار کی جہاں بعد میں انہیں بے ہوش حالت میں پایا گیا۔ اہلِ خانہ نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس موقع پر پہنچی اور ضروری قانونی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کیلئے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر کنڈی کوٹرنکہ منتقل کیا گیا۔پوسٹ مارٹم کے بعد میت کو ورثا کے حوالے کر دیا گیا، جبکہ پولیس نے اس واقعہ کے سلسلے میں مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے تاکہ تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ تعلیمی دباؤ سے جڑا ہوا محسوس ہوتا ہے، تاہم اصل وجوہات جاننے کے لیے ہر ممکن پہلو کی جانچ کی جا رہی ہے۔اس دلخراش واقعے کے بعد مقامی لوگوں، اساتذہ اور سماجی کارکنوں نے طلبہ پر بڑھتے ہوئے تعلیمی دباؤ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ بچوں کی ذہنی صحت پر خصوصی توجہ دی جائے اور انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ امتحانی ناکامی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ سیکھنے اور آگے بڑھنے کا ایک مرحلہ ہوتی ہے۔ماہرینِ نفسیات کا بھی کہنا ہے کہ نوجوانوں کو مشکلات کے وقت جذباتی سہارا اور رہنمائی کی اشد ضرورت ہوتی ہے تاکہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔