سہیل سالم
” وہ اس دھند میں چنار کے پتوں پر کچھ لکھا رہا تھا ۔ جہلم بھی اسے کنکھیوں سے دیکھ رہا تھا ۔کئی چنار اداسی اوڑھے ہوئے گم صُم نظر آرہے تھے ۔ایک چنار کا پتہ اس کے ہاتھوں سے نکل کر جہلم میں چھپ گیا۔پچھلے سات سال سے جہلم اپنے آپ کو ڈھونڈ رہا ہے۔”
“پھر جہلم نے اسے کہا…؟”
‘تمہارا یہ پتہ مجھ میں ڈوب گیا۔لیکن تمہاری فکر۔۔۔۔۔”
“جہلم کی یہ بات سن کر وہ اپنی فکر کے بارے میں سوچنے لگا۔….”
“میری فکر…. میری فکر کو کیا ہوا ہے ۔۔۔مجھے کس چیز کی فکر ہونی چاہیے ۔۔۔میری فکر کس دبستان کی تقلید کرے گی ۔”
“میری فکر آنے والی نئی نسل کے لئے بے شمار سوالات چھوڑ کے جائے گی ۔یہ میری فکر کا ہی قصور ہوگا۔”
“اپنی فکر اپنے سوالات میں دفن کروں یا نہیں ۔”
“جہلم کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جہلم نے اپنوں کے لئے اپنی شناخت بھی داؤ پر لگائی ۔”
جہلم کے لوگ اب جہلم کو سجدہ بھی کرتے رہے اور اس کی ہر ایک بات کو حرف آخر تصور کرتے تھے ۔جہلم کے لوگ جہلم کے لئے اپنے خوابوں کا نذرانہ بھی پیش کرتے تھے ۔جو یہ بھی نہ سمجھ پائے کہ جہلم ان کا خدا نہیں ہے۔پھر بھی وہ اس پر قربان ہونے کے لئے ہمیشہ تیار رہتے تھے ۔
“مگر اب کی بار جہلم نے نئی داستان رقم کر لی اور جہلم کے لوگوں کے لئے یہ مقدس کتاب بن گئی اور یہ سارے لوگ جہلم کے ماضی کو سولی پر چڑھا نا چاہتے تھے۔
وہ بھی جہلم کا ہی باشندہ تھا اور جہلم کی نئی تصویر دیکھ کر دنگ رہ گیا ۔اور اس نے ارادہ کر لیا کہ نئی نسل کے لئے پرانے جہلم کی تصویر چنار کے پتوں پر بناؤں جس میں محبت ،امن ،بھائی چارہ اور سکون کی خوشبو کو بھی محسوس کیا جائے ۔وہ یہ بھی سوچ رہا تھا کہ میں یہ نئی نسل کے لئے اچھا کام کر رہا ہوں۔جہلم کے مستقل کو سنوارنے کا سب سے مشکل کام یہی ہے۔اس نے اپنے آپ کو وقف کیا تھا اسی لئے کبھی کبھی اسے انا اپنی آغوش میں لیتی تھی ۔
“وہ یہ بھی تصور کرتا تھا کہ وہ جہلم کا نوح ہے اور یہ بھی سمجھتا تھا کہ وہی جہلم کا خدا بھی ہے”
“یہاں سے وہ ایک نئی فکر میں گرفتار ہوا۔”
جہلم ایک ایسا آئینہ ہے جہاں ہر ایک تصویر کا ماضی روشن نظر آتا ہے ۔مگر جہلم کا حال پچھلے کئی سالوں سے بے حالی میں کھوچکا ہے۔جہلم کے خوابوں کو ملیامیٹ کیا گیا ہے۔
جہلم کی بے قراری اور بے بسی دیکھ کر وہ ایک نئے سفر پر نکلا ۔
“سفر کہاں سے شروع ہوگا اور سفر کہاں پر ختم ہوگا وہ اس سے بھی نا آشنا تھا۔”
بستی کے ہونٹوں پر تالے چڑھائے گئے تھے ۔راستوں پر خاموشی حکومت کر رہی تھی ۔یہ ساری کیفیت دیکھ کر اسے جہلم کا ماضی یاد آگیا۔
“جہلم جو ایک آئینہ تھا ،ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوگیا۔”
“جہلم جو کل تک حقیقت تھی ،آج ایک خواب بن گیا۔”
وقت کہاں سے کہاں پہنچ گیا ،اسے محسوس نہیں ہوا۔ پھر وہ جہلم کے کنارے پر پہنچ گیا ۔وہ ایک بار پھر سے رویا۔چناروں کی بستیوں میں نفرت ،حسد ،اور فریب کی آگ بوئی گئی ہے ۔
“اب کی بار اس نے مصمم ارادہ کر لیا کہ وہ دسمبر کے سینے پر بھائی چارہ محبت ،وفا ،سکون اور امن کی تصویریں بنا کر جہلم کے گلے میں لٹکائے گا ۔۔۔۔۔۔”
“پھر یہاں سے خزاں کے موسم میں جہلم کی نئی کہانی شروع ہوگی ۔۔۔۔۔۔”
���
رعناواری سرینگر
موبائل نمبر؛9103930114