یو این آئی
نئی دہلی//تیار شدہ مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے دسمبر 2025میں تھوک قیمت پر مبنی افراط زر کی شرح بڑھ کر 0.83فیصد ہوگئی۔ستمبر 2025کے بعد تین ماہ میں یہ پہلا موقع ہے جب تھوک مہنگائی کی شرح صفر سے اوپر رہی ہے۔ اس سے پہلے، نومبر میں یہ منفی 0.32فیصد تھی۔ وہیں دسمبر 2024میں 2.57فیصد تھی۔دسمبر میں اشیائے خوردونوش کی تھوک مہنگائی کی شرح صفر رہی۔ یہ نومبر میں منفی 2.6 فیصد تھی۔ آلو، پیاز اور دالوں کی قیمتوں میں دسمبر میں سالانہ بنیادوں پر نمایاں کمی دیکھی گئی۔ پیاز 54.4 فیصد، آلو 38.21فیصد اور دالیں 13.88 فیصد سستی ہوئیں۔ سبزیوں کی قیمتوں میں بھی 3.5فیصد کمی ہوئی۔دودھ کی قیمتوں میں 3.23فیصد جبکہ انڈے، گوشت اور مچھلی کی قیمتوں میں 1.14فیصد اضافہ ہوا۔ تیار شدہ خوراک کی قیمتوں میں بھی 0.90فیصد اضافہ ہوا۔ تیل کے بیجوں کی قیمتوں میں 14.82فیصد اور معدنیات میں 11.86 فیصد کا زبردست اضافہ ہوا۔خام تیل اور قدرتی گیس کے زمرے میں مہنگائی کی شرح منفی 5.99فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اس میں بنیادی طور پرخام تیل 10فیصد سستا ہوا۔ایندھن اور بجلی کے زمرے میں ایک سال پہلے کے مقابلے میں کھانا پکانے کی گیس 14فیصد، پیٹرول 1.88 فیصد اور ڈیزل 2.07فیصد سستا ہوا ہے۔اس سے قبل، 12جنوری کو جاری کردہ اعداد و شمار میں دسمبر 2025میں صارف قیمت انڈیکس پر مبنی خوردہ افراط زر کی شرح 1.33 فیصد پر نرم رہی۔