عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//چھاتی کے امراض کا ہسپتال درگجن میں کئی اہم سہولیات اور مشینیں غیر فعال ہیں، جس سے مریضوں کو بنیادی تشخیص اور علاج کے لیے مشکلات کا سامنا ہے۔ہسپتال میں ’پلمونری فنکشن ٹیسٹ (PFT)، الرجی ٹیسٹنگ سسٹم، برونکوسکوپی اور اینڈوبرونکئیل الٹراساؤنڈ ‘جیسی جدید مشینیں مہینوں سے خراب پڑی ہیں، جس سے تحقیقات اور علاج بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔خبر رساں ایجنسی وی او آئی کے مطابق ہسپتال آنے والے بزرگ اور شدید سانس پھولنے والے مریضوں کیلئے کوئی لفٹ موجود نہیں۔ آکسیجن کا سہارا لے رہے مریضوں کو بھی سیڑھیاں چڑھنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، جس سے ان کی حالت مزید بگڑنے کا خطرہ لاحق رہتاہے۔ میڈیکل سپرانٹنڈنٹ ڈاکٹر سمینہ نے معاملہ ڈاکٹر خورشید احمد ڈار کی طرف موڑ دیا، جنہوں نے کہا کہ وہ انتظامی معاملات پر بات کرنے کے مجاز نہیں۔ہسپتال کے ایڈمنسٹریٹر محمد اشرف حکاک نے کہا کہ وہ دیگر ڈاکٹروں سے مشورہ کر کے جواب دے پائیں گے۔ مریضوں اور تیمارداروں نے ہسپتال کی حالت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال مریضوں کو نجی مراکز میں ٹیسٹ کروانے کیلئے کہا جا رہا ہے۔ہسپتال کے اندر موجود ہیلتھ ورکروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کئی مشینیں ’تاخیر سے خریداری، مدیکھ ریکھ کی کمی اور انتظامی غفلت‘ کے باعث خراب پڑی ہیں۔