بانڈی پورہ//بانڈی پورہ کے ایک مضافاتی جنگل میں10روز بعد دوبارہ مسلح جھڑپ ہوئی جس میں ایک غیر ملکی جنگجو جاں بحق ہوا۔ مذکورہ جنگجو شوکھ بابا جنگل میں 10روز قبل ہوئی جھڑپ میں زخمی ہوا تھا۔اس سے قبل یہاں 3جنگجو جاں بحق ہوئے تھے۔اس طرح اس گروپ میں شامل جاں بحق جنگجوئوں کی تعداد 4تک پہنچ گئی ہے۔ادھر پولیس نے وادی میں کئی برسوں سے سرگرم 10جنگجوئوں کی نئی فہرست جاری کردی ہے۔ ادھر خانیار علاقہ میں منگل کی سہ پہر شیرازچوک کے نزدیک مشتبہ جنگجوئوں نے پولیس پارٹی کونشانہ بنانے کیلئے فائرنگ کی ۔
جھڑپ
ڈی جی پی دلباغ سنگھ اورآئی جی پی کشمیر وجے کمار نے بتایاکہ سملربانڈی پورہ کے مضافات میں شوکھ بابا جنگل میں 23اور24جولائی کوشروع کئے گئے جنگجومخالف آپریشن کے دوران ابتک 4جنگجومارے گئے ،جن میں سے ایک جنگجوکومنگل کی صبح چھانہ دجی جنگلی علاقے میں جاں بحق کیاگیا ۔انہوں نے بتایاکہ بابر علی نامی پاکستانی جنگجو24جولائی کو تین ساتھیوںکی ہلاکت کے دوران فرارہونے میں کامیاب ہواتھا۔زخمی حالت میں فرار جنگجو کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ اور26آسام ریجمنٹ نے دردگنڈ چھانہ دجی بانڈی پورہ کا محاصرہ کیا، جہاں لشکر طیبہ سے وابستہ جنگجو بابر علی ساکن اکاڑا پنجاب پاکستان چھپا بیٹھا تھا۔منگل کی صبح بستی کا محاصرہ کرکے تمام راستوں کوبندکردیا گیا ۔ جس کے دوران یہاں فائرنگ کا تبادلہ ہواجس میں مذکورہ جنگجو جاں بحق ہوا۔پولیس کے مطابق بابر علی اسی گروپ کا حصہ تھا جو 10روز قبل24جولائی کو جھڑپ میں جاں بحق ہوا تھا۔پولیس کے مطابق یہ گروپ حال ہی میں گریز کے راستے دراندازی کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔اس گروپ میں بانڈی پورہ کا شارق بابا نامی نوجوان بھی شامل ہے جو 2018میں پاسپورٹ پر واگہ سرحد کے ذریعے پاکستان گیا تھا۔ ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے بتایاکہ 24جولائی کو شوکھ باباسملربانڈی پورہ میں تین خطرناک جنگجومارے گئے تھے تاہم ان کاایک پاکستانی ساتھی جائے جھڑپ سے فرارہونے میں کامیاب ہوگیاتھا۔ دلباغ سنگھ نے کہاکہ منگل کی صبح مصدقہ اطلاع ملتے ہی کارروائی عمل میں لائی گئی ،جس دوران شوکھ باباجنگل سے فرارہونے والاپاکستانی جنگجو بابرعلی ماراگیا۔خیال رہے سملر بانڈی پورہ کے مضافاتی شوکھ باباجنگل میں سال2018میں ایک خونین معرکے کے دوران لشکر طیبہ سے وابستہ 5جنگجومارے گئے تھے ،اوریہ چار سال بعداس علاقہ میں دوسرا بڑا جنگجو مخالف آپریشن ہے ۔
10جنگجو
جموں وکشمیر پولیس نے 10، مطلوب ترین جنگجوئوں کی فہرست جاری کردی ہے ،جس میں 3نئے سرگرم جنگجوئوں ثاقب منظور، عمر مصطفی کھانڈے اور وکیل شاہ کے نام بھی شامل ہیں ۔خیال رہے مارچ میں جن 10مطلوب جنگجوئوںکی لسٹ جاری کی گئی تھی ،اُن میں سے بیشتر جھڑپوں کے دوران مارے گئے ہیں ۔ انسپکٹر جنرل پولیس وجے کمار نے کہاکہ کشمیر میں10،انتہائی مطلوب جنگجوسیکورٹی فورسز کے نشانے پر ہیں۔پولیس کے مطابق سلیم پرے، یوسف کانٹرو، عباس شیخ، ریاض شیٹر گنڈ ، فاروق نلی، زبیر وانی اور اشرف مولوی مطلوب جنگجو کمانڈر ہیں جو وادی میں گذشتہ چند برسوں سے سرگرم ہیں۔پولیس نے3 نئے سرگرم جنگجوئوں کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ثاقب منظور، عمر مصطفی کھانڈے اور وکیل شاہ بھی 10مطلوب ترین جنگجوئوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ وجے کمار نے کہا کہ کشمیر میں سرگرم 10، انتہائی مطلوب جنگجواورکمانڈرسیکورٹی فورسز کے نشانے پر ہیں۔ گذشتہ ماہ پولیس،فورسزاورفوج نے الگ الگ کارروائیوں میں تقریباً 30 جنگجوئوں کو جاں بحق کیا۔
خانیار فائرنگ
خانیار علاقہ میں منگل کی سہ پہر شیرازچوک کے نزدیک مشتبہ جنگجوئوں نے پولیس پارٹی کونشانہ بنانے کیلئے فائرنگ کی ۔اس واقعہ میں ایک پولیس اہلکاراورایک عام شہری زخمی ہوگئے۔شیراز چوک خانیار کے قریب سہ پہر سوا 6 بجے مشتبہ جنگجوئوںنے پولیس کی ایک پارٹی پرگولیاں چلائیں ۔اچانک ہوئی اس فائرنگ کی زدمیں آکر ایک پولیس اہلکار اورایک نجی گاڑی میں سفر کررہا ایک عام شہری زخمی ہوگئے،جنہیںفوری طورپر اسپتال منتقل کیاگیا۔پولیس کے مطابق زخمی پولیس کانسٹیبل عبدالوحید خانیار پولیس سٹیشن میں تعینات ہے،کے پیٹ میں گولی پیوست ہوئی ،تاہم صدراسپتال میں پولیس اہلکار اور شہری اشتیاق احمد بزاز ولد غلام محمد بزاز ساکن نوشہرہ سرینگرسمیت دونوں زخمیوںکی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔پولیس نے ایک ٹویٹ میں ایک اہلکار اورایک شہری کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ یہ حملہ جنگجوئوں نے کیا ،جن کیخلاف تلاشی کارروائی شروع کی گئی ہے ۔پولیس نے بتایاکہ فائرنگ کاواقعہ رونماآنے کے بعدپولیس وفورسزنے پورے علاقے کومحاصرے میں لیکر حملہ آوروں کی تلا ش شروع کردی۔