عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//حکومت کی جانب سے سونے پر درآمدی ڈیوٹی میں نمایاں اضافے کے بعد ملک بھر میں سونے کی مانگ میں تقریباً 70 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ زیورات کے کاروبار سے وابستہ اداروں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں اور عوامی خریداری کی کمزور صلاحیت نے سونے کی فروخت کو شدید متاثر کیا ہے۔صنعتی ذرائع کے مطابق 27 مئی کو ختم ہونے والے پندرہ روزہ عرصے میں سونے کی طلب تقریباً 7.5 ٹن رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران یہ طلب تقریباً 25 ٹن تھی۔ حکومت نے 13 مئی سے سونے پر درآمدی ڈیوٹی 6 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دی ہے، جس کے نتیجے میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ انڈیا بلین اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے قومی سیکریٹری سریندر مہتا نے کہا کہ ملک بھر کے جیولرز سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ڈیوٹی میں اضافے کے بعد سونے کی مانگ میں تقریباً 70 فیصد کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق غیر منظم شعبہ، جو سونے کی تجارت کا بڑا حصہ ہے، سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف درآمدی ڈیوٹی میں اضافہ ہی نہیں بلکہ پٹرول، ڈیزل اور اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے بھی صارفین کی قوت خرید کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث لوگ سونے کی خریداری سے گریز کر رہے ہیں۔ زیورات کے شعبے سے وابستہ تاجروں کے مطابق خریدار اب بھاری اور مہنگے زیورات کے بجائے ہلکے وزن اور کم قیمت والے زیورات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ بعض بڑے ریٹیل فروشوں نے بھی فروخت میں نمایاں کمی کی تصدیق کی ہے۔ دریں اثنا، والرڈ گولڈ کونسل نے پیش گوئی کی ہے کہ درآمدی ڈیوٹی میں اضافے کے باعث سال 2026 کے دوران بھارت میں سونے کی مجموعی طلب میں 50 سے 60 ٹن تک کمی آ سکتی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 10 فیصد کم ہوگی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر قیمتوں میں اضافہ اور درآمدی پابندیاں برقرار رہیں تو آنے والے مہینوں میں سونے کی طلب مزید کم ہو سکتی ہے، جس کے اثرات زیورات کی صنعت اور متعلقہ کاروباروں پر بھی مرتب ہوں گے۔