زاہد بشیر
گول//دارالعلوم فریقیہ گول کی افتتاحی مجلس نہایت عقیدت کے ساتھ منعقد ہوئی، جس میں گول اور ملحقہ علاقوں سے عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مجلس کی صدارت مولانا نذیر احمد القاسمی نے کی اور مفتی جعفر اس موقعہ پر مہمان خصوصی کے طو رپر موجود تھے جبکہ مجلس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کے بعد نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی گئی۔افتتاحی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام نے دارالعلوم کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں جہاں سے ایمان، علم اور اخلاق کی روشنی پھیلتی ہے۔ مقررین نے اس موقع پر قرآنِ مجید کی عظمت بیان کرتے ہوئے کہا کہ قرآنِ کریم ہی انسانیت کی نجات کا واحد اور کامل ذریعہ ہے، جو فرد اور معاشرے دونوں کی اصلاح کرتا ہے۔علماء کرام نے اپنے خطابات میں موجودہ دور کے فتنوں، اخلاقی زوال اور دینی کمزوریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے قرآن و سنت کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیا تو تمام مسائل خود بخود حل ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کریں تاکہ ایک صالح اور باکردار نسل تیار ہوسکے۔تقریبات کے دوران علماء نے دارالعلوم فریدیہ گول کے قیام کو علاقے کے لئے ایک عظیم دینی نعمت قرار دیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ ادارہ آنے والے وقتوں میں علمِ دین کا مضبوط مرکز بنے گا، جہاں سے حافظِ قرآن، علماء اور مبلغین تیار ہوکر معاشرے کی اصلاح کا فریضہ انجام دیں گے۔آخر میں اجتماعی دعا کا اہتمام کیا گیا جس میں ملک و ملت، عالمِ اسلام، دارالعلوم کی ترقی، اساتذہ و طلبہ کی کامیابی اور علاقے کی خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔آخر پر دارے کے مہتمم مولانا جمال الدین نے تمام آئے ہوئے لوگوں و علماء کرام کا شکریہ ادا کیا ۔