رحیم رہبرؔ
اُس گوجر بستی میں لال الدین ایک ایسا امیر شخص تھا جس نے بھینسوں کو پالنے کے لئے نوکر رکھا تھا۔ قمر الدین پچھلے دس سالوں سے لال الدین کے گھرمیں کام کرتا تھا۔ قمر الدین اب جوان تھا۔ اُس نے اپنی دیانت، محنت اور خوش اخلاقی سے اپنے مالک کے دل میں جگہ بنائی تھی۔ مالک بھی قمر الدین پہ بھروسہ کرتا تھا۔
ایک دن لال الدین نے قمر الدین کو اپنی بیٹھک میں بلایا۔ اور اُس سے گویا ہوا۔
’’قمر! اب تم شادی کروگے۔‘‘
قمرالدین حیا کے مارے کچھ نہ کہہ پایا۔
’’خاموش کیوں ہوئے۔۔۔ کچھ تو بولو۔‘‘ لال الدین نے قمر کے کندھے پہ اپنا دایاں ہاتھ رکھ کر پیار سے کہا۔
’’صاحب! میری اوقات ہی کیا ہے۔۔ میرے ساتھ کون لڑکی شادی کرنے پہ آمادہ ہوگی؟‘‘
’’بیٹا ! کس نے کہا تم غریب ہو۔ غریب وہ ہے جو کام کرنے کے اہل نہیں ہو۔۔۔ جس کے ہاتھ پیر نہیں ہوں۔ مجھے تم جیسے امانت دار، جفا کش اور خوبصورت جوان پہ فخر ہے۔ تم صرف اتنا بتائو تمہاری نگاہوں میں اگر کوئی لڑکی ہے؟ میں اُس کا ہاتھ مانگنے کے لئے خود اُس کے گھر جائوں گا۔۔۔ اُس کے باپ سے ملوں گا۔‘‘
قمر الدین شرم کی وجہ سے پسینوں میں بھیگ گیا۔ اس لئے چُپ رہا۔
’’قمر! تم چپ ہوگئے۔ بتائو تو صحیح۔۔۔ اس میں شرمانے کی کیا بات ہے۔ تم تو میرے بیٹے جیسے ہو۔‘‘
’’جی صاحب! کریما مجھے اچھی طرح جانتی ہے۔ ہم دو سال شیر خان کے کارخانے میں اکھٹے کام کرتے تھے۔ تب یہاں قالین کی صنعت عروج پہ تھی۔ قالین بافی میں کریما کا ایک منفر مقام تھا۔ وہ نہ صرف قالین بافی کے بارے میں پڑھائی کرتی بلکہ وہ نقشہ بھی بناتی تھی۔‘‘
’’اچھا وہی کریما، تاج الدین کی بیٹی۔!؟‘‘
’’صاحب! آپ تاج الدین کو کیسے جانتے ہیں؟‘‘
’’تاج الدین میرے بینڈسا (لکڑی کے کارخانے) میں آٹھ سال کام کرتا تھا۔ تم گھوڑے کو تیار کرو گے میں تب تک کپڑے چینج کروں گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے صاحب۔‘‘ قمر اصطبل میں چلا گیا۔
کچھ دیر بعد لال الدین تیار ہوکر دالان پہ آگیا۔قمر سواری کے ساتھ لال الدین کے قریب آگیا۔ لال الدین سفید رنگ کے گھوڑے پہ سوار ہوا۔ قمر نے مالک کے ہاتھ میں لگام تھما دی۔ قمر الدین اپنے مالک کو تکتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ اسکی آنکھوں سے اوجھل ہوا۔
لال الدین کو اپنے گھر میں اس طرح اچانک دیکھ کر تاج الدین ششدر رہ گیا۔
’’جی۔۔۔جی جناب اس طرح اچانک میرے غریب خانے میں کیسے آنا ہوا۔؟‘‘
’’تاج الدین! بیٹھنے کے لئے نہیں کہو گے؟‘‘
’’جناب ایسا مت کہیے۔ آپ کے لئے میری جان حاضر ہے۔‘‘
’’میں کریما کا ہاتھ مانگنے آیا ہوں‘‘۔
’’کیا جناب!؟‘‘ تاج الدین نے بڑے ہی انہماک سے پوچھا
’’ہاں۔۔۔ہاں ہاں تاج الدین تم نے صحیح سُنا۔‘‘
’’لیکن صاحب آپ نے اپنے اکلوتے بیٹے اکبر خان کی شادی تین سال قبل انجام دی۔‘‘
’’میرے دو بیٹے ہیں۔‘‘
’’جناب دوسرا کون ہے؟‘‘ تاج الدین چونک گیا۔
’’قمر۔۔۔۔قمرالدین‘‘
’’لیکن جناب وہ آپ کا نوکر ہے!‘‘
’’میں نے اس کو بیٹا بنایا ہے۔‘‘
’’صاحب ٹھیک ہے مجھے بیٹی کریما سے پوچھنا پڑے گا۔ مجھے دو دن کی مہلت دیجئے گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے تاج الدین مجھے چار دن کے بعد بتائو۔‘‘
لال الدین گھر پہنچے۔ اس نے قمر کو آواز دی۔
’’جی۔۔جی صاحب‘‘
’’تمہاری شادی کریما سے ہوگی‘‘ لال الدین مسکراتے ہوئے بولے۔
اتوار کا دن تھا صبح سویرے تاج الدین لال الدین کی بیٹھک میں تشریف آور ہوئے۔
’’خوشخبری سنائو تاج الدین‘‘ لال الدین آج بہت خوش تھا
تاج الدین کی آنکھیں نم ہوئیں۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا۔
’’کیا ہوا تاج الدین تم روتے کیوں ہو؟َ‘‘ لال الدین تعجب سے بولے۔
تاج الدین نے آنسو پونچھ لئے اور ہاتھ جوڑ کر لال الدین سے کہا۔
’’صاحب! کریما شیر خان کی مقروض ہے!!‘‘
���
آزاد کالونی پیٹھ کانہامہ ماگام، کشمیر
موبائل نمبر؛9906534724