ڈاکٹر عبدالمجید بھدرواہی
عمران کا تعلق ایک متوسط خاندان سے تھا۔ وہ کاروبار کے سلسلے میں دبئی چلا گیا تھا، اور آج تقریباً چھ سال بعد چند دنوں کے لئے گھر لوٹا تھا، کیونکہ گھر کے کچھ معاملات نمٹانے تھے۔
ایک دن وہ محلے کی دکان سے سودا سلف خریدنے کے لئے گیا۔ جوں ہی وہ دکان کے اندر داخل ہوا تو اس نے وہاں نہایت دل پسند خوشبو محسوس کی۔ جب سامان اور بقایا رقم لے کر دکان سے باہر نکلنے ہی والا تھا تو ٹھٹک کر رہ گیا، کیونکہ اسے خریدے ہوئے سودے اور باقی رقم میں بھی وہی خوشبو محسوس ہوئی۔ اس نے پلٹ کر دکاندار سے پوچھا:
’’بھائی صاحب! یہ دل کو چھو لینے والی خوشبو کہاں سے آئی ہوئی ہے؟‘‘
دکاندار مسکرایا۔
’’جی، آپ سے پہلے بھی چند گاہک یہی سوال پوچھ کر گئے، مگر میں نے سب کو نظر انداز کیا۔ پتہ نہیں اس خوشبو میں کیا بات ہے کہ ہر کوئی یہی پوچھتا ہے۔‘‘
عمران نے انکساری سے کہا:
’’دراصل میں پچھلے کئی سالوں سے دبئی میں رہ رہا ہوں۔ وہاں کے ماحول کی وجہ سے مجھے خوشبو لگانے کی عادت ہو گئی ہے اور الحمدللہ خوشبو کی اچھی پہچان بھی ہو گئی ہے۔ میں اس قدر خوشبو کا عادی ہو چکا ہوں کہ کبھی کھانا پینا کم کر سکتا ہوں، مگر اچھی خوشبو ضرور لگا لیتا ہوں۔ میرے اندازے کے مطابق یہ نہایت معیاری اور مہنگی خوشبو ہے۔ اگر معلوم ہو جائے کہ یہ کہاں سے مل سکتی ہے تو میں بھی لینا چاہوں گا، کیونکہ مجھے چند دن اور یہیں گزارنے ہیں۔ اور جو خوشبو میں لایا تھا وہ ختم ہو گئی ہے۔‘‘
عمران کا تجسس دیکھ کر دکاندار نے کہا:
’’جناب، ابھی تھوڑی دیر پہلے ایک محترمہ آئی تھیں۔ یہ انہی کے پرفیوم کی خوشبو ہے۔‘‘
یہ سن کر عمران کے دل میں تجسس بڑھ گیا۔ اس نے محترمہ کا پتہ پوچھا اور خوشبو کے تعاقب میں نکل پڑا۔
وہ کالونی کے ایک گھر کے سامنے پہنچا اور دروازے پر دستک دی۔
’’کون؟‘‘ اندر سے نسوانی آواز آئی۔
’’السلام علیکم محترمہ، میں آپ سے ایک دو منٹ ایک ضروری بات پوچھنا چاہتا ہوں۔ کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟‘‘
چند لمحوں کے توقف کے بعد دروازہ کھلا۔ سامنے ایک باپردہ خاتون کھڑی تھیں، جن کا نام بعد میں معلوم ہوا کہ روبینہ ہے۔
اندر آنے سے پہلے ہی عمران نے پوچھا، ’’گھر میں اور کون ہے؟‘‘
روبینہ نے نرمی سے جواب دیا،
’’میں ہوں اور میری خادمہ ہے۔‘‘
پھر اس نے پوچھا، ’’آپ کون ہیں اور مجھ سے کیا بات پوچھنا چاہتے ہیں؟‘‘
عمران نے جواب دیا، ’’میں اسی محلے کا رہنے والا ہوں۔ پچھلے کئی سالوں سے دبئی میں ملازمت کر رہا ہوں۔ آج کل چھٹی لے کر آیا ہوں۔ میں فلاں دکان پر سودا خریدنے گیا تھا، وہیں سے آپ کا پتہ پوچھ کر آیا ہوں۔ میں خوشبو کا دلدادہ ہوں، یہ شوق مجھے وہیں سے لگا۔ یہ خوشبو آپ نے کہاں سے خریدی ہے، یہی پوچھنے کے لیے آپ کو تکلیف دے رہا ہوں۔‘‘
بات چیت کے دوران عمران کی نظر روبینہ کے ماتھے پر پڑی۔ وہاں گہرا زخم تھا۔
’’یہ زخم کیسا ہے؟‘‘ عمران نے پوچھا۔
روبینہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ دھیمی آواز میں بولی، ’’آپ یہ بات چھوڑ دیں۔ آپ جس مقصد کے لئے آئے ہیں، وہی پوچھیں۔ باقی جو میری قسمت میں لکھا ہے، وہ بھگت رہی ہوں۔‘‘
عمران نے نرمی سے کہا، ’’مجھے اپنا ہمدرد سمجھ کر بتا دیجئے۔ ہو سکتا ہے میں آپ کی کچھ مدد کر سکوں۔‘‘
روبینہ نے آہ بھر کر کہنا شروع کیا:
’’میری اور اسماعیل کی شادی صرف والدین کی خوشنودی کے لئے ہوئی تھی، جس میں ہماری مرضی شامل نہیں تھی۔ یہ رشتہ ابتدا ہی سے بے رنگ تھا۔ وقت گزرتا گیا مگر دل نہ مل سکے۔ پہلے پہل ان کے مزاج میں صرف چڑچڑاپن تھا، مگر پھر یہ سلسلہ گالی گلوچ سے آگے بڑھ کر ہاتھ اٹھانے تک پہنچ گیا۔ میں صبر سے کام لیتی تھی، کبھی اُف تک نہ کیا۔ روز بلا وجہ جھگڑے ہوتے رہے۔ وہ ہر بات میں نقص نکالتے، گالی گلوچ کرتے، کبھی دیر سے آتے اور کبھی آتے ہی نہیں۔
وہ روز صبح آٹھ بجے دفتر کے لئے نکلتے اور شام آٹھ یا سوا آٹھ بجے واپس آتے۔ کل رات وہ قریب ساڑھے دس بجے گھر آئے۔ میں نے صرف اتنا پوچھا کہ آج آپ اتنی دیر سے آئے، خیریت تو ہے؟ مجھے بہت فکر لگ رہی تھی۔ بس میرا اتنا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا، ‘تو کون ہوتی ہے پوچھنے والی؟ میں جب چاہوں آؤں اور جب چاہوں جاؤں۔’ اسی بات پر مجھ پر ہاتھ اٹھایا، بالوں سے پکڑ کر ادھر سے ادھر گھسیٹا اور میرا سر دیوار سے دے مارا، جس سے میرا ماتھا زخمی ہو گیا۔
ہماری شادی کو پانچ سال ہو گئے، مگر نہ محبت پیدا ہوئی، نہ تعلقات بہتر ہوئے اور نہ اولاد کی خوشی نصیب ہوئی۔ تلخیاں اس قدر بڑھ گئیں کہ ہمارے جھگڑے پوری کالونی میں زبان زدِ عام ہو گئے۔‘‘
روبینہ باپردہ بیٹھی تھی۔ اس کے قریب مصلّیٰ بچھا تھا اور بات بات پر اس کی زبان سے شکر اور صبر کے الفاظ ادا ہو رہے تھے۔ عمران کو اندازہ ہوا کہ وہ نہایت صابر، عبادت گزار اور نرم مزاج خاتون ہے۔
عمران نے پوچھا، ’’اس لاتعلقی کی اصل وجہ کیا ہے؟‘‘
روبینہ بولی، ’’دراصل اسماعیل سخت مزاج ہیں۔ کھانے سے لے کر کپڑوں تک نقص نکالتے ہیں۔ گالی گلوچ اور مار پیٹ معمول بن چکا ہے۔ کل رات میرے پوچھنے پر وہ آپے سے باہر ہو گئے اور مجھے زخمی کر دیا۔‘‘
مزید بتایا کہ ہمسائے کی ایک خاتون اسے مقامی مولانا صاحب کے پاس لے گئیں۔ مولانا صاحب نے ساری داستان سن کر دعا کی اور اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی عطر کی شیشی نکال کر دیتے ہوئے کہا:
’’اسے استعمال کرو اور اپنے شوہر کے قریب رہو، شاید محبت کی کوئی رمق جاگ اٹھے۔ یہ عطر میں عمرہ کے دوران مدینہ منورہ سے لایا تھا۔ اللہ اس کی برکت سے تمہارا مسئلہ حل کر دے گا، ان شاء اللہ۔‘‘
روبینہ یہی خوشبو لگا کر دکان سے سودا لینے گئی تھی، جہاں سے عمران تک اس کی مہک پہنچی۔
اسی اثنا میں اسماعیل کے اچانک گھر آنے کی آواز آئی۔ روبینہ نے ڈرتے ڈرتے کہا، “اللہ خیر کرے، شاید میرے شوہر آ گئے ہیں۔”
عمران پچھلے دروازے سے باہر نکل گیا۔ کچھ دیر بعد اس نے سوچا کہ شاید اس کی مداخلت سے معاملہ سنور جائے، چنانچہ وہ دوبارہ اندر داخل ہوا۔
اندر آکر وہ حیران رہ گیا۔ اسماعیل اس کا پرانا دوست تھا۔ دونوں بغلگیر ہوئے۔
’’ارے یار، کب آئے ہو؟‘‘
’’چند دن پہلے ہی آیا ہوں۔ باہر سے گزر رہا تھا، شور سنائی دیا تو اندر آ گیا۔‘‘
عمران نے کہا، ’’اسماعیل! تم نے شادی بھی کی اور مجھے بلایا ہی نہیں؟ بھابھی سے نہیں ملواؤ گے؟‘‘
اسماعیل نے روبینہ کو بلایا اور تعارف کروایا۔
عمران نے پوچھا، ’’کیسی گزر رہی ہے شادی شدہ زندگی؟ اور بھابھی کے ماتھے پر یہ زخم کیسا ہے؟‘‘
اسماعیل نے کہا، ’’کل رات کسی بات پر جھگڑا ہوا، میری ہی وجہ سے یہ زخم آیا۔ پانچ سال ہو گئے شادی کو، مگر لڑائی جھگڑے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ کبھی سوچتا ہوں خودکشی کر لوں، کیونکہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔‘‘
عمران نے سنجیدگی سے کہا، ’’اگر پانچ سال میں آپ دونوں ایک دوسرے کو سمجھ نہ سکے تو خودکشی حل نہیں۔ اسلام میں اس کا حل موجود ہے۔ اگر نباہ ممکن نہ ہو تو طلاق ایک جائز راستہ ہے۔ آپ دونوں اپنی مرضی سے دوسری جگہ شادی کر کے زندگی گزار سکتے ہیں، مگر صبر و تحمل سے ٹھنڈے دماغ سے فیصلہ کرنا چاہیے۔‘‘
اسماعیل نے اعتراف کیا، ’’روبینہ صوم و صلوٰۃ کی پابند، صابر اور گھریلو عورت ہے۔ اسے تو درجنوں رشتے مل جائیں گے، مگر مجھے کون اپنی بیٹی دے گا؟ میں تو بدنام ہو چکا ہوں۔‘‘
یہ پہلا موقع تھا جب اسماعیل نے روبینہ کو احترام کی نظر سے دیکھا۔ اس نے دھیمی آواز میں کہا، ’’روبینہ، میں آج تمہیں آزاد کرتا ہوں۔ شاید یہی میرا کفارہ ہے۔‘‘
پھر عمران کی طرف دیکھ کر بولا، ’’اگر تم چاہو تو اس سے نکاح کر سکتے ہو۔‘‘
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ عمران نے نظریں اٹھا کر دونوں کو دیکھا اور کہا، ’’اگر یہ راضی ہوں تو میں انہیں عزت کے ساتھ قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘
روبینہ نے سر جھکا دیا۔ یہی اس کی رضامندی تھی۔
یوں ایک زبردستی کا رشتہ ختم ہوا اور ایک نئی زندگی کی بنیاد رکھی گئی۔
خوشبو نے اپنا سفر مکمل کر لیا تھا۔
���
ہمہامہ، سرینگر، کشمیر
موبائل نمبر؛ 8825051001