یوسف میر
(یہ کہانی ایک ایسی بستی کی عکاسی کرتی ہے جو قدرتی حسن سے مالا مال تو ہے لیکن بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہے۔ اس میں سورج کی زندگی کا ایک واقعہ اس تلخ حقیقت کو سامنے لاتا ہے کہ زندگی گزارنے کے لیے محض خوبصورتی کافی نہیں بلکہ بنیادی سہولیات کا میسر ہونا بھی ضروری ہے۔)
سورج اپنے گاؤں کا ایک ہونہار اور باصلاحیت نوجوان تھا، جس نے اپنی قابلیت اور خوش اخلاقی کے باعث لوگوں کے دلوں میں ایک خاص مقام بنا لیا تھا۔ اس کا گاؤں بلند و بالا پہاڑوں کی آغوش میں بسا ہوا تھا، چاروں طرف گھنے سرسبز جنگلات پھیلے ہوئے تھے اور ایک دلکش آبشار کی مدھم آواز فضا میں رس گھولتی رہتی تھی۔ دور دراز علاقوں سے لوگ یہاں کا رخ کرتے تاکہ فطرت کے حسن اور سکون کے ان لمحات کو محسوس کر سکیں۔
اپریل کے مہینے کی ایک اتوار کی صبح، روزمرہ کی سیر کے دوران سورج کی ملاقات روہی نامی ایک شہری لڑکی سے ہوئی۔ وہ بظاہر پراعتماد اور سلیقہ مند تھی، مگر اس کی آنکھوں میں ایک انجانی سی اُداسی ٹھہری ہوئی تھی۔ چند رسمی جملوں سے شروع ہونے والی گفتگو آہستہ آہستہ ایک بامعنی مکالمے میں ڈھل گئی، جہاں زندگی، خوابوں اور ان خاموش جدوجہدوں کا ذکر ہوا جو اکثر مسکراتے چہروں کے پیچھے چھپی ہوتی ہیں۔
روہی نے بتایا کہ اس کے پاس زندگی کی ہر آسائش موجود ہے، کامیابی، دولت اور پہچان، مگر اس کے باوجود دل کے کسی کونے میں ایک خلا باقی ہے۔ سورج نے خاموشی سے اس کی بات سنی اور نہایت سادہ مگر سچی باتوں سے جواب دیا۔ اس کے لہجے میں ایک ایسی سچائی تھی جو سیدھی دل میں اترتی محسوس ہوتی تھی۔
رخصت ہونے سے پہلے روہی نے سورج کو شہر آ کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی دعوت دی، جہاں بہتر مواقع اور سہولیات میسر تھیں۔ سورج نے کچھ تذبذب کے بعد یہ پیشکش قبول کر لی۔
وقت گزرتا گیا۔ روہی کی رہنمائی اور اپنی محنت کے بل پر سورج نے انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ مکمل کی اور ایک معزز تعلیمی ادارے میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر تعینات ہو گیا۔ اسی دوران دونوں کے درمیان تعلق مضبوط ہوا اور بالآخر انہوں نے شادی کر لی۔ ایک سال بعد ان کے ہاں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی۔ شہر کی مصروف زندگی کے باوجود وہ کبھی کبھار گاؤں کا رخ کرتے اور روہی کو وہاں کی سادگی اور فطری ماحول بے حد پسند تھا۔
ایک ایسے ہی سفر کے دوران ان کے بچے کو راستے میں بخار ہو گیا۔ سورج نے قریبی مقامی ہسپتال کا رخ کیا، مگر وہاں کی حالت تسلی بخش نہ تھی۔ ڈاکٹر نے بغیر مناسب معائنہ کئے دوا تجویز کر دی۔
“ڈاکٹر صاحب، آپ نے بچے کا معائنہ تک نہیں کیا، پھر دوا کیسے دے سکتے ہیں؟” سورج نے سوال کیا۔
“کیا آپ ڈاکٹر ہیں؟”سرد لہجے میں جواب ملا۔
سورج خاموش ہو گیا اور نسخے پر عمل کیا۔
گھر پہنچتے پہنچتے بچے کی حالت بگڑ گئی اور وہ بے حس ہو گیا۔ گھبراہٹ میں اہل خانہ اسے فوری طور پر بڑے ہسپتال لے گئے، جہاں سے اسے ایک جدید طبی مرکز منتقل کیا گیا۔ وہاں ڈاکٹروں نے اس کی حالت دیکھ کر تشویش کا اظہار کیا۔
“یہ دوا کیوں دی گئی؟” انہوں نے سوال اٹھایا۔
تفصیلی معائنے کے بعد بچے کا علاج شروع کیا گیا، مگر اب اسے طویل عرصے تک علاج اور مسلسل نگرانی کی ضرورت تھی۔
سورج بے بسی سے کھڑا تھا، ایک پروفیسر کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے باپ کے طور پر جو اندر ہی اندر ٹوٹ چکا تھا۔
وہ دن اس کی زندگی کا رخ بدل گیا۔ وہ پھر کبھی اپنے گاؤں واپس نہ گیا۔ اس لئے نہیں کہ وہاں کی خوبصورتی ماند پڑ گئی تھی، بلکہ اس لئے کہ اس کے پیچھے چھپی ایک تلخ حقیقت اس پر آشکار ہو چکی تھی۔
زندگی گزارنے کے لیے محض خوبصورتی کافی نہیں ہے بلکہ بنیادی سہولیات کا میسر ہونا بھی ضروری ہے۔