طبی سہولیات نہ ملنے سے درجنوں دیہات متاثر ،بانا کھیتر سے راجوٹ تک سڑک کی تعمیر کا مطالبہ
محمد بشارت
کوٹرنکہ //ضلع راجوری کے دور افتادہ بلاک خواص کے دور دراز علاقوں میں آج بھی بنیادی سہولیات کی شدید کمی کے باعث عوام کو ناقابلِ بیان مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سڑک جیسی بنیادی سہولت میسر نہ ہونے کے سبب وہ آج بھی زمانہ قدیم کی طرز پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جہاں نہ مناسب آمد و رفت کے ذرائع ہیں اور نہ ہی بروقت طبی سہولیات تک رسائی ممکن ہے۔علاقہ مکینوں کے مطابق اگر کسی شخص کی طبیعت خراب ہو جائے تو اسے آج بھی چارپائی یا کندھوں پر اٹھا کر دس کلو میٹر یا اس سے زائد فاصلہ طے کر کے مین سڑک تک پہنچانا پڑتا ہے۔ اس کے بعد کہیں جا کر کسی پرائمری ہیلتھ سینٹر یا کمیونٹی ہیلتھ سینٹر تک پہنچنا ممکن ہو پاتا ہے۔ مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے اب تک درجنوں افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، مگر اس کے باوجود متعلقہ حکام نے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔لوگوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے بعد سے لے کر آج تک ان کے حالات میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں آئی اور پسماندگی ہی ان کا مقدر بن کر رہ گئی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سیاسی نمائندوں نے ہمیشہ انہیں صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا، مگر انتخابات کے بعد ان کے بنیادی مسائل کو نظر انداز کر دیا گیا۔مقامی آبادی نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ بانا کھیتر سے راجوٹ تک سڑک کی تعمیر کا کام فوری طور پر شروع کیا جائے تاکہ علاقے کو باقی ضلع سے جوڑا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ سڑک کی تعمیر سے نہ صرف آمد و رفت آسان ہو گی بلکہ تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جس سے علاقے کی مجموعی ترقی ممکن ہو سکے گی۔علاقہ مکینوں نے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ، لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور ایم ایل اے بدھل جاوید اقبال چوہدری سے اپیل کی ہے کہ وہ ذاتی طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیں اور خواص بلاک کے عوام کو اس دیرینہ محرومی سے نجات دلائیں۔ لوگوں نے خبردار کیا کہ اگر اس بار بھی ان کے مطالبات کو نظر انداز کیا گیا تو عوام میں شدید مایوسی اور بے اعتمادی مزید گہری ہو جائے گی۔مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وعدوں کے بجائے عملی اقدامات کئے جائیں تاکہ خواص بلاک کے عوام کو بھی ترقی اور سہولیات کا حق مل سکے اور وہ باعزت اور محفوظ زندگی گزار سکیں۔