پونچھ+راجوری //کووڈ کے پھیلائو کو دیکھتے ہوئے دیگر اضلاع کی ہی طرح خطہ پیر پنچال میں عائد پابندوں کے پہلے دن ہی سڑکیں سنسان رہی جبکہ خطہ میں تمام چھوٹے بڑے قصبوں میں دکانیں بھی بند رکھی گئیں جبکہ انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ وہ بغیر کسی ایمر جنسی کے گھروں سے باہر نہ آئیں تاکہ وائرس کے پھیلا ئو کو کم کیاجاسکے ۔کورونا لاک ڈائون کے پہلے روزضلع پونچھ کی تمام تحصیلوں میں عام زندگی متاثر رہی۔اس دوران تمام بازار مقفل رہے جس کے نتیجے میں ہر طرف ہو کا ماحول دیکھنے کو ملا۔ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ غائب رہا۔گلی ، کوچوں ، چوراہوں پر پولیس کی جانب سے خاردار تاریں بچھا کر بندشیں عائد کی گئی تھی۔اس دوران پولیس لاک ڈائون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرتی نظر آئی۔دیگر ریاستوں کی طرح جموں کشمیر کے پونچھ ضلع میںکورونا وائرس سے اموات اور متاثرین کی تعداد میںاضافہ نہ ہو اس کے لئے تحصیل مینڈھر، تحصیل حویلی، تحصیل سرنکوٹ اور تحصیل منڈی میں ہر طرف سختی کے ساتھ لاک ڈاون نافذ کیا گیا۔پورے ضلع میں پولیس اور دیگر حفاظتی عملوں کی جانب سے سڑکوں اوربازاروں میںجگہ جگہ خاردارتاریں لگا کررکائوٹیں کھڑی کی گئی تھی جبکہ پولیس گاڑی پر اعلا ن کر کے لوگوں کو گھروں کے اندر ہی رہنے کی تلقین کرتی رہی۔اس دوران حویلی سمیت تمام تحصیلوں میںصبح چھ بجے سے دس بجے تک اشیائے خوردنی بالخصوص سبزیاں اورمیوہ جات کی دکانوںکوکھولنے کی اجازت دی گئی۔60گھنٹوں تک نافذرہنے والے لاک ڈائون کے دوران اے ایس پی خالد امین چوہدری نے تمام مساجدکے امام صاحبان ،اور دیگر مذاہب کے قائدین سے اپیل کی کہ و ہ مذہبی مقامات پر اجتماعات بالکل نہ کریں انہوں نے لوگوں کو گھروں میں نماز پڑھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم محتاط رہی ورنہ ہم کو بھی بہت نقصان اٹھانا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ضلع پونچھ ایک دور دراز علاقہ ہیں یہاں اگر وائرس دہلی اور دیگر ریاستوں کی طرح پھیل جاتا ہے تو ہمارے پاس کوئی سہولت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس اور ضلع انتظامیہ کی کوشش ہے کہ ضلع میں کوڈ19کا مزید پھیلائوں نہ ہو اس کے لئے وہ کسی کو احتیاطی تدابیر کی خلاف ورزی کی اجزت نہیں دیں گے۔اس دوران پورے ضلع میںبازار اور سڑکیں سنسان رہیں۔پونچھ قصبہ میں تعلیمی ادارے تو پہلے سے ہی بند تھے سنیچر وار کو کرفیو کی وجہ سے کوچنگ سینٹر کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی خاموشی چھائی رہی۔پورے علاقہ میں بہت کم تعدادمیں لوگ گھروں سے نکلے۔تحصیلدار تھنہ منڈی محمود ریاض خان نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں جبکہ بغیر ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں۔یاد رہے کہ ضلع راجوری میں کورونا وائرس کے کیس اور اس بیماری سے مرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں جمعہ کو عام لوگوں کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کیں ان پابندیوں کا اطلاق پیر کی صبح تک رہے گا۔ البتہ لازمی خدمات کو پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق روزبروز متعدد افراد کرونا مثبت آنے لگے ہیں۔ جو ایک تشویش ناک صورتحال ہے۔اس سلسلے میں تحصیل انتظامیہ نے عوام سے لاک ڈاؤن کو کامیاب بنانے کی اپیل کی ہے۔ انتظامیہ نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے اپنے حلقے میں لوگوں کو اس بیماری کی تباہ کاریوں سے آگاہ کریں اور لاک ڈاؤن کو کامیاب بنانے کے لیے انتظامیہ کو تعاون فراہم کریں۔اس دوران ایس ایچ او تھنہ منڈی فرید احمد چوہدری نے بھی تمام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گورنمنٹ کی ہدایات کو مانتے ہوئے اپنے گھروں میں ہی رہیں اور سخت ضرورت پڑنے پر احتیاطی تدابیر پر عمل کریں ماسک پہنیں ، سماجی دوری بنائے رکھیں، سینیٹائزرز کا استعمال کریں اور بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ رہنما خطوط کی پاسداری کریں تاکہ کورونا کی زنجیر کو توڑا جا سکے۔ دریں اثناء قصبہ تھنہ منڈی میں سختی سے کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا جا رہا ہے۔ تمام داخلی و خارجی راستے بند کئے گئے ہیں جبکہ میڈیکل اور دوسرے ایمرجنسی حالات کے پیش نظر بیماروں اور دیگر افراد کو جانچ پڑتال کے بعد آنے جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔ بازار ، کاروباری ادارے مکمل بند اور سڑکیں سنسان نظر آ رہی ہیں۔اسی طرح نوشہرہ سب ڈویژن میں بھی لوگ گھروں میں رہی محصور رہے جبکہ پولیس اہلکار سڑکوں پر گشت کرتے رہے ۔انتظامیہ نے لوگوں کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہاکہ وہ گھروں میں ہی رہیں جبکہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ وائرس کے پھیلائو کو کم کیاجاسکے ۔