عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//جموں و کشمیر کے ضلع راجوری کی تھنہ منڈی اسمبلی نشست سے آزاد رکنِ اسمبلی مظفر اقبال خان نے واضح طور پر کہا ہے کہ چناب ویلی اور پیر پنجال خطے کے عوام جموں کو علیحدہ ریاست بنانے کے مطالبے کی حمایت نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مطالبہ چند محدود اور حاشیے پر موجود عناصر کی جانب سے اٹھایا جا رہا ہے، جس کا زمینی حقائق اور عوامی خواہشات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ہفتہ کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مظفر اقبال خان نے کہا کہ اگر جموں کے لئے علیحدہ ریاست کے قیام کا مطالبہ مسلسل زور پکڑتا ہے تو پھر چناب ویلی اور پیر پنجال کے عوام بھی اپنے لئے الگ ریاستی درجہ کا مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چناب ویلی، جس میں ڈوڈہ، کشتواڑ اور رام بن اضلاع شامل ہیں، اور پیر پنجال خطہ، جس میں راجوری،ریاسی اور پونچھ اضلاع آتے ہیں، گزشتہ کئی دہائیوں سے ترقی، ادارہ جاتی تقسیم اور حکومتی توجہ کے معاملے میں مسلسل نظر انداز ہوتے آ رہے ہیں۔ایم ایل اے مظفر اقبال خان نے الزام عائد کیا کہ بڑے قومی اور ریاستی سطح کے ادارے اور اہم ترقیاتی منصوبے زیادہ تر جموں شہر یا اس کے آس پاس کے علاقوں کو دئیے جاتے ہیں، جبکہ پیر پنجال اور چناب ویلی کو ان سے محروم رکھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس)، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) اور دیگر بڑے تعلیمی و ترقیاتی ادارے جموں میں قائم کئے گئے، لیکن راجوری، پونچھ، ڈوڈہ، رام بن اور کشتواڑ جیسے پسماندہ اضلاع کو مسلسل نظر انداز کیا گیا۔مظفر اقبال خان نے کہا کہ اس غیر متوازن ترقی نے ان خطوں کے عوام میں شدید احساسِ محرومی کو جنم دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیر پنجال اور چناب ویلی نہ صرف جغرافیائی اعتبار سے مختلف ہیں بلکہ یہاں کے سماجی، معاشی اور ترقیاتی مسائل بھی منفرد نوعیت کے ہیں، جن کے لئے خصوصی توجہ اور الگ انتظامی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان علاقوں کو مرکزی اور ریاستی سطح پر منصوبہ بندی کے دوران بار بار نظر انداز کرنا ناانصافی کے مترادف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر جموں کو یہ حق دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی علیحدہ ریاست کا مطالبہ کرے، تو پھر پیر پنجال اور چناب ویلی کے عوام کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی شناخت، وسائل اور ضروریات کے مطابق الگ ریاستی یا انتظامی درجہ کا مطالبہ کریں‘۔ ان کے مطابق مسلسل عدم توازن اور ناانصافی نے علاقائی بے چینی کو بڑھایا ہے، جو مستقبل میں مزید پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے حساس معاملات پر علاقائی ہم آہنگی اور مساوی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے، تاکہ کسی ایک خطے کو ترجیح دے کر دوسرے خطوں کو مزید پسماندگی کی طرف نہ دھکیلا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ جموں و کشمیر کے تمام خطوں کو یکساں مواقع، وسائل اور ترقیاتی منصوبے فراہم کیے جانے چاہئیں تاکہ عوام میں اعتماد بحال ہو سکے۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مظفر اقبال خان پیشے کے اعتبار سے سابق جج رہ چکے ہیں، جنہوں نے عملی سیاست میں قدم رکھا اور 2024 کے اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار کو شکست دے کر تھنہ منڈی اسمبلی حلقے سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی۔ وہ 2024 سے جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن ہیں اور علاقائی مسائل پر کھل کر اپنی رائے رکھنے کیلئے جانے جاتے ہیں۔