پرویز احمد
سرینگر //وادی میں موسم سرما خاص کر خشک موسم کے دوران الرجی کی وجہ سے متاثرہ افراد کی تعداد میں ہر سال 30فیصد اضافہ ہوتا ہے۔عام طور پر وادی کشمیر میں نومبر اور دسمبر کے مہینوں میں سرد اور خشک موسم کی وجہ سے زکام، کھانسی اور بخار وائرل ہوتے یں اور ایسا کوئی گھر نہیں ہوتا جہاں کسی کو بخار، زکام یا کھانسی نہ آتی ہوگی۔بخار، زخام اور کھانسیء وائرل ہونے سے سب سے زیادہ عمر رسیدہ افراد اور بچے متاثر ہوجاتے ہیں۔ماہرین امراض چھاتی کا کہنا ہے کہ سخت سردی اور خشکی کا موسم وائرس سے پیدا ہونے والی چھاتی کی بیماریوں کیلئے موزون وقت ہوتا ہے اور اسلئے لوگوں کو صبح و شام کے وقت گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہئے۔سرد اور خشک موسم کی وجہ سے ہوا میںموجود وائرس سے متاثر ہونے کا زیادہ خطرہ رہتا ہے اور اسی وجہ سے ان دنوںایسے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔وادی کے واحد امراض چھاتی ہسپتال درگجن ڈلگیٹ میںاو پی ڈی میں آنے والوں کی تعداد میں 30فیصد اضافہ ہوا ہے ۔پہلے کے برسوں میں یہ تعداد 15سے 20فیصد ہوتی تھی لیکن اس سال طویل خشکی اور قبل از وقت ٹھنڈ پڑنے کی وجہ سے تعداد میں30سے 40فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سکمز صورہ میںآنے والوں کی تعداد میں 30فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ موسم سرما میں ایسے 120مریض روزانہ آتے تھے لیکن امسال بہت اضافہ ہوا ہے۔شعبہ امراض چھاتی کے پروفیسر ڈاکٹر مدثر قادری نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’اس سال خشک سردی کی وجہ سے مریضوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے اور لوگ گلے ، ناک اور چھاتی میں انفکیشن کی شکایت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ انفیکشن موسمی ہے اور اسلئے اس کا علاج کرنے کیلئے اینٹی بائیوٹکس کی ضرورت نہیں بلکہ معمولی دوائیوں سے یہ ٹھیک ہوتا ہے۔ ڈاکٹر مدثر نے بتایا کہ یہ موسم وائرس کے پھیلائو کیلئے موزون ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسم سرما میں سردی کی وجہ سے قوت مدافعت کمزور ہوجاتی ہے ،اس لئے دمہ، ،گرووں اورسرطان کے مریضوں کے علاوہ دیگر لوگوں کو ویکسین لگانا چاہئے۔