امن مذاکرات پر ٹرمپ کے بدلتے بیان کا شاخسانہ
نئی دہلی//پیر کو عالمی تیل مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی۔ برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں دو فیصد کا زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس تیزی کے پیچھے بنیادی محرک امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حال ہی میں مجوزہ امن مذاکرات میں ناکامی کے بعد دوسرے مرحلے کی بات چیت میں ہورہی تاخیر ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امن مذاکرات سے متعلق ہر دن بدلتے بیان بھی اس کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ حالانکہ تازہ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں بہت جلد امریکہ اور ایران کے بیچ بات چیت کا عمل دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔ تاہم فی الحال بات چیت سے متعلق کسی بھی جانب سے کسی ٹھوس بیان کی کمی نے خلیجی خطے میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا دیا ہے۔پیر کو بینچ مارک آئی سی ای برینٹ کروڈ فیوچر بین الاقوامی مارکیٹ میں تقریباً دو فیصد بڑھ کر 107.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ دریں اثنا، یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) بھی 1.5 فیصد اضافے کے ساتھ 95.78 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر کشیدگی موجودہ سطح پر برقرار رہی تو تیل کی قیمتیں جلد ہی 110 ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔حالانکہ موجودہ حالات مذاکرات کے لیے سازگار نظر آرہے ہیں۔
دونوں جانب سے مثبت بیان سامنے آرہے ہیں۔ تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سے ہر دن بدلتے بیان عالمی تیل مارکیٹ کو بے چین کیے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ نے ایک بیان دیا تھا کہ، وفد بھیجنے کے بجائے امریکہ اب صرف ٹیلی فون کے ذریعے براہ راست بات چیت کے لیے تیار ہے۔تیل کی قیمتوں میں اس اضافے کا ایک اہم عنصر آبنائے ہرمز کے اندر رکاوٹوں کا امکان ہے جو دنیا کا سب سے اہم تیل کی ترسیل کا راستہ ہے۔ ایران کے امریکی گھیراؤ اور ایران کی جوابی دھمکیوں کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں خلل پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو تقریباً مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے عمان اور روس کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران دباؤ میں آکر کوئی معاہدہ نہیں کرے گا۔ امریکی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تہران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔موجودہ صورتحال نے عالمی معیشت کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ ہندوستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے، خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا براہ راست اثر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ افراط زر پر بھی پڑ سکتا ہے۔ دنیا کی نظریں اب اس بات پر لگی ہوئی ہیں کہ آیا دونوں ممالک سفارتی راستہ اختیار کریں گے یا یہ کشیدگی بڑھ کر فوجی تصادم کی شکل اختیار کر لے گی۔