یو این آئی
نئی دہلی// وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز اپنی انتظامیہ کے پالیسی ایجنڈے کو بھرپور طریقے سے جاری رکھنے کا اشارہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ہر ہندوستانی شہری کے لیے گذر بسر میں آسانی کو بہتر بنانے کے مشن پر ثابت قدم ہے۔حال ہی میں نظم و نسق کے سلسلے میں حاصل ہونے والے اہم سنگ میل پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اب تک ہونے والی پیش رفت محض ایک زیادہ گہری اصلاحاتی سمت کا آغاز ہے۔انہوں نے ایک تفصیلی رپورٹ پر اپنا ردل عمل ظاہر کیا جس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی تھی کہ کس طرح 2025 انتظامی تبدیلیوں کے لیے ایک اہم سال ثابت ہوا ہے۔وزیر اعظم مودی نے اپنے ’ایکس‘ہینڈل پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’ہماری حکومت ’گذر بسر میں آسانی‘ کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ ہماری اصلاحات کا سلسلہ آنے والے وقتوں میں مزید جوش و خروش کے ساتھ جاری رہے گا۔‘‘حکومت کی حالیہ’’گذر بسر میں آسانی‘‘ مہم کئی ساختی تبدیلیوں پر مبنی ہے جن کا مقصد حکمرانی کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔ان اقدامات میں پیچیدہ ٹیکس قوانین کی اصلاح شامل ہے تاکہ متوسط طبقے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایس ای) پر تعمیل کا بوجھ کم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ تکنیکی طریقہ ٔکار کی کوتاہیوں کو مجرمانہ فعل کے بجائے دیوانی معاملات کے طور پر دیکھنا تاکہ کاروباری افراد کے لیے اعتماد کا ماحول پیدا ہو، قانونی کاموں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال اور پرانے لیبر قوانین کو جدید کوڈز میں تبدیل کرنا شامل ہے تاکہ مزدوروں کے حقوق کا تحفظ ہو اور صنعتوں کو ترقی کے مواقع مل سکیں۔ انتظامیہ کا موجودہ فلسفہ اس خیال پر مرکوز ہے کہ پالیسی کی کامیابی کا اندازہ پاس کیے گئے قوانین کی تعداد سے نہیں، بلکہ عوام کے لیے روزمرہ کی رکاوٹوں میں کمی سے لگایا جانا چاہیے۔’مائی گو انڈیا‘کے ترجمان نے کہا کہ 2025 ایک ’’واضح تبدیلی‘‘ کا سال رہا، جہاں اصلاحات کو جان بوجھ کر نتائج پر مبنی بنایا گیا ہے۔ ’’سادہ قوانین اور تیز رفتار نتائج‘‘ کو ترجیح دے کر حکومت کا مقصد ریاست اور فرد کے درمیان تعامل کو مزید ہموار بنانا ہے۔