عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے بدھ کے روز حکمراں نیشنل کانفرنس کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ اپنی گزشتہ دو برس کی ”ناکامیوں” سے توجہ ہٹانے کیلئے مذہبی معاملات کو سیاست میں استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ قرآن جیسے مقدس صحیفے کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا انتہائی نامناسب ہے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا”خدا کے لیے قرآن کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔ نیشنل کانفرنس ایسا اس لیے کر رہی ہے تاکہ اپنی کارکردگی کی ناکامیوں کو چھپا سکے۔ عوام ان سے مایوس ہو چکے ہیں۔’
انہوں نے یہ ردعمل نیشنل کانفرنس کے رہنما تنویرصادق کے اس بیان پر دیا جس میں انہوں نے پی ڈی پی سربراہ اور ان کے اراکین اسمبلی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ قرآن پر حلف لے کر واضح کریں کہ انہوں نے گزشتہ سال جموں و کشمیر میں راجیہ سبھا انتخابات کے دوران بی جے پی کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔انہوں نے موجودہ حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ”منشیات کے خلاف کارروائی کے نام پر لوگوں کے مکانات مسمار کیے جا رہے ہیں، جبکہ اس سے قبل ملی ٹینسی کے نام پر بھی اسی طرح کے اقدامات دیکھنے کو ملے۔انہوں نے کہا سرکاری ملازمین کو اچانک برطرف کیا جا رہا ہے اور اوپن میرٹ کے طلبہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔محبوبہ مفتی کے مطابق حکومت نے اب تک عوامی فلاح کیلئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا اور محض تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے حقیقی مسائل، جیسے بے روزگاری، تعلیم اور بنیادی سہولیات، پس پشت ڈال دیے گئے ہیں۔