سرینگر//جموںو کشمیر کے لیفٹینٹ گورنر منوج سنہا نے کہا جموںو کشمیر میں کسی بھی قبائلی بچے کو تعلیم کے نور سے آرستہ کئے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا ۔انہوں نے کہا سال رواں میں گزشتہ سال کے نسبت 42ہزار طلباء کو وظائف فراہم کئے گئے ۔انہوں نے بتایا رواں ماہ 40کروڑ روپے کی لاگت سے 2سو قبائلی گائوں میں سمارٹ سکول کھولیں جائیں گے ۔ کے این ایس کے مطابق لیفٹیننٹ گو منوج سنہا نے ’’جنجاتیہ گورو دیوس‘‘ کی اختتامی تقریب کے موقعے پر خطاب کرتے ہوئے کہا نئی پود کو بہتر تعلیم فراہم کرنے کے لئے 1581 جنرل ،مائیگرٹری روپ اور رہائشی سکول کھولے گئے ہیں اورساتویں اور آٹھویں جماعت کے قبائلی بچوں کے لئے سہولیات تیار کی گئیں ہیں ۔ انہوں نے کہا ضرورت پڑنے پر مزید اس طرح کے اداروں کو قائم کیا جا سکتا ہے ۔ منوج سنہا نے کہا سیزنل سکولوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے جموں و کشمیر انتظامیہ نے اُن اساتذہ کی تنخواہ 4000 سے بڑھاکر10ہزار روپے کردی گئی ہے ۔انہوںنے کہا قبائلی امور پر ریسرچ اور کام کرنے والے ٹرائبل ریسرچ سنٹر بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا اوٹ ریچ اورتمدنی سرگرمیوں کے لئے بھی بجٹ کو مختص رکھا گیا ہے ۔انہوں نے کہا جموںو کشمیر میں گوجر بکروالوں کو ایک بڑا مسئلہ تھا کہ انہیں فارسٹ رائٹ ایکٹ یہاں لاگوں کیا گیا ہے جس کی وجہ سے اُن کی پریشانیاں دور ہوئیں ہیں ۔لیفٹینٹ گورنرنے اپنی تقریر میں بتایا کہ سرکار نے قبائیلی لوگوں کی تعلیم کے لئے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔ قبائلی ثقافتی ورثے کا تحفظ اور فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ثقافت نہ صرف فرد کی زندگی کو تقویت بخشتی ہے بلکہ معاشرے کو بھی مضبوط کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ طبی ایمرجنسی کے لیے قبائلی آبادی کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر تعینات کیا جائے گا۔ اس سے ضرورت مند مریضوں کی بروقت تشخیص اور علاج میں مدد ملے گی۔ہم جموں و کشمیر کی قبائلی آبادی کی مجموعی ترقی کے لیے پرعزم ہیں۔ انتظامیہ نے قبائلیوں کی روزی روٹی کومدددینے اور انہیںبااختیار بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی ٹرانزٹ رہائش، قبائلی صحت اسکیم اور سمارٹ اسکول یقینی طور پر معیار زندگی کو بہتر بنائیں گے۔