کوہِ ماران پر کشمیر کے عظیم مرتبہ ولی کامل حضرت سلطان العارفین شیخ حمزہ مخدوم رحمتہ اللہ علیہ کا مزارِ اقدس ہے۔آپ کی درگاہ پچھلے پانچ سو سال سے زاید عرصے سے اہلِ کشمیر کے لئے روحانی عقیدت کا مرکزبنا ہوا ہےاورآج بھی لوگ خلوصِ دل سے آپؒ کی درگاہ میں حاضر ہوتےہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی تخلیق فرمائی اور انکی ہدایت و راہنمائی کےلئے وقتاً فووقتاً انبیاءومرسل علیہ الصلوة والسلام معبوث فرمائے ،جنہوں نے انسانیت کو اللہ وحدہٗ لاشریک کی بارگاہ میں سرنگوں کیا اور انکے ظاہر و باطن کو ہرطرح کی آلود گیوں سے پاک فرمایا ۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انسانیت کےلئے رحمت بناکر معبوث فرمایا۔ انبیائے علیہ الصلوة والسلام کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیم اجمعین اورپھر اولیا ئے کرامؒ خلق ِ خدا کی رہنمائی اور انکی اصلاح نفس کے کام سرانجام دیتے رہے ۔بزرگان ِدین نے تحریر و تقریر اور تبلیغ سے لوگوں کی اصلاح فرمائی۔اگرچہ بار ہا سیاسی طور پردین ِ اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوششیں ہوتی رہیں مگر مذہبی اعتبار سے اسلام مغلوب نہ ہو سکا۔ وجہ یہی تھی کہ صوفیائے کرام کی اصلاح نفس کی تحریک کے اثرات لوگوں کے دلوں میں موجود تھےاور وہ راہِ راست پر قائم رہے۔انہی بزرگان دین کی کا وشوں کا نتیجہ ہے کہ آج بھی گلشن اسلام ہر ابھرا ہے۔ ہمارا کشمیر بھی عرصہ دراز سے اولیا اللہ ، صوفیوں اور صاحب ِدلوں کا مسکن رہا ہے ۔آج جس ولی کامل کا تذکرہہم کررہے ہیں،اُنہیں پوری وادی حضرت شیخ حمزہ مخددم سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ حضرت سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ ایک باصفا صوفی اور پاکباز عارف اور صاحبِ نظر ولی تھے ، انکا طریق تصوف، مسلک درویشی اور مشرب عرفان ومعرفت تھا ۔ تصوف دراصل اعمال شریعت کو معیارمطلوب کے مطابق انجام دینے کانام ہے۔ اس طرح صوفی راہ سکوک کی منزلیں طے کرکے اس مقام پر پہنچتے ہیں ،جہاں وہ سراپا خیر بن جاتے ہیں، ان کاقلب آئینہ کی طرح شفاف ہوتا ہے اور تصوف انسان کے طبیعت کے اند موجود نفس کی کامل تزکیہ اور ظاہر کے حسنِ خُلق کا نام ہے ۔ باطن یہ ہے کہ نفس تمام عیوب سے پاک ہوجائے اور ظاہر یہ ہے کہ اخلاق اچھے ہوجائیں ،اس لئے صوفی ایسا شحض ہوتا ہے جو نہ صرف خوبیوں کامجموعہ عہ بن جاتا ہےبلکہ اس کی کیفیت ایسی ہوجاتی ہے کہ اگر برائیاں بھی اس سے منسوب کی جائیں تو وہ خوبیوں کے ساتھ ہی پیش آتا ہے۔ روحانیت اور تصوف کی دنیا میں ایسے عظیم المرتب شخصیات گزری ہیں،جنکے کارناموں کو حیات جاوداں بخشنے کےلئے اللہ تعالیٰ نے انکے اردگرد ایسے لوگ جمع کیے،جو صاحب علم کے ساتھ ساتھ صاحب قلم کے مالک بھی تھے، حضرت شیخ حمزہ مخددم ؒ اسی گراں قدر شان و عظمت کے مالک تھے ، آپؒ کے خدمت اقدس میں ایسے دانشور وں کی جماعت تھی،جو خود بھی آپ ؒ کے ارشادات سے فیض اُٹھاتی اور دوسروں کو بھی اس میں شریک کرتے رہے ۔ان عظیم المرتب ہستی میں حضرت میر حیدرؒ،حضرت بابا علی رینہ اور خاص کرحضرت بابا داؤد خاکی ؒ قابل ذکر ہیں، اسی تصوف پر حضرت جنیدؒفرماتے ،تصوف دراصل یہ ہے کی حق تعالیٰ تجھے تیری ذات کے ساتھ فناکردے اور اپنی ذات کے ساتھ زندرکھے۔
حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ غنیتہ الطالبین میں اہل مجاہد ہ ،اہل محاسبہ اور اہل قصدکی دس خصلتیں جو انہوں نے اپنے نفس پر آزمائی ہیں ۔اگر وہ راہ حق میں ثابت قدم رہے تو انھوں نے قصہ کا مقام حاصل کرلیا اور بزرگی کے مقام پر پہنچ گئے۔یہاں پر میں صرف دسویں خصلت جو تواضع پرہے، لکھتا ہوں۔ دسویں خصلت تواضع ہے ،جس سے عابد کامقام مضبوط ہوجاتاہے۔اللہ تعالےٰ اور لوگوں کے نزدیک اس کا درجہ کامل اور بلند ہوجاتاہے ،دنیا اور آخرت کے جن کاموں کی کوشش کرے ان پر قادر وتوانا ہوتاہے۔ یہ صفت ساری خصلتوں کی جڑ ہے بلکہ ساری عبادتوں کا شجرہے ،شاخ دین۔اس خصلت کے طفیل آدمی کو وہ مقام نصیب ہوتا ہے جو ہر حال میں راضی بہ رضائے حق رکھتا ہے۔یہ خصلت پرہیزگاری کا کمال ہے۔تواضع کے معنی ہیں کہ ہر آدمی کو ہر لحاظ سے اپنے سے بہتر سمجھا جائے اور دل میں یہ خیال کیا جائے کہ یہ شحض خدا کے نزدیک مجھ سے بہتر اور برتر ہے ،خواہ وہ اس سے کم ترہی کیوں نہ ہو ،وہ یہ سمجھے کہ اس نے خدا کی نافرمانی نہیں کی اور میں نے نافرمانی کی ہے ،اس لئے بلاشبہ یہ مجھ سے بہتر ہے۔اگر وہ شخص اس سے بڑا ہو تو یہ خیال کرے کہ اس نے عبادت واطاعت الٰہی کی ہے ،اگر عالم ہوتو اسکے بارے میں یہ خیال کرے کہ اُسے اللہ نے روشنی عطا فرمائی ہے اور میںخودباطن ہوں علم کی نعمت سے محردم ہوں، میرے افعال نادانستہ اور جاہلانہ ہیں اور اس شحض کے کام عاقلانہ اور عالمانہ ہیں۔اگر وہ جاہل ہو تویہ سمجھے یہ شحض توجہالت کے باعث نافرمانی کرتاہے مگر میں علم کے باوجود گناہ کرتا ہوں اور مجھے میرے انجام کاعلم نہیں۔ دراصل یہ خصلت شفقت اور ترس کا دروازہ ہے ،عاقبت کےلئے بہترین توشہ ہے ۔ایسی خصلت رکھنے والے کو اللہ تعالیٰ بلاؤں سے محفوظ رکھتا ہے ،وہ خدا کی مدد سے نصیحتوں کی منزلیں طے کرتا ہے، خدا کے برگزیدہ دوستوں میں شامل ہوجاتاہے۔یہ خصلت رحمت کا دروازہ ہے اگر راہ تکبر کو طے کرکے رشتہ کو کاٹ دے اور جاہ وجلال کا خیال دل سے نکال دے تو یہی عابددں اور زاہدوں کی بزرگی ہے۔ جب تک یہ خصلت حاصل نہ ہوجائے یعنی کینہ ،نافرمانی اور تکبر کو دل سے نکال دے،ظاہر وباطن اور ہرحال میں اس کی زبان یک طرفہ ہو ۔ظاہروباطن میں اس کا قصد بھی ایک ہی ہو، کسی کو نصحیت کرنے والانہ ہو ۔ اگر لوگوں میں سے کسی کو کسی کی برائی کرتا سُنے یا اس کے ساتھ خود بھی بُرائی کرنے میں شریک ہو یا کسی کی بُرائی سن کر اس کا دل خوش ہوتویہ امر عابددںاورزاہددں کی سعادت کو ختم کردیتا ہے ۔جن لوگوں کو خدانے توفیق دی ہے کہ وہ اپنی زبان کو نگاہ میں رکھتے ہیں اور اپنی رحمت سے خدانے اُنکے دل منور کردیئے ہیں ۔ حضرت مولانا رومیؒ نے کیا خوب کہا ہے: صحبت صالح ترا صالح کند۔ صحبت طالح تر ا طالح کُند۔اچھے لوگوں کے ساتھ میل جول رکھ، اگر اچھے کام کرنے کی خواہش رکھتے ہو۔عارف رومیؒ نیک لوگوں کی صحبت میں ہم ان کے کام دیکھتے ہیں اور ہمیں شوق ہوتا ہے کہ ہم بھی ایسے ہی کام کریں ، اگر ہم نیک کام کرنے والے کی صحبت اختیار کرینگے تو ہمارے سامنے نمونہ ٔ مثال ہے اور ہم اس پر عمل کرنا چاہتے ہیں اور یہ بھی ظاہر ہے کہ صحبت نیک سے بُری خصلت مغلوب ہوجاتی ہے۔
ہمارے کشمیر کے دوعظیم شخصیات اپنے منفرد ، مخصوص اور معتبر مقام کی بدولت باشندگانِ کشمیر کے قلب وجگر کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ ایک حضرت شیخ العالم رحمتہ اللہ علیہ اوردوسراحضرت محبوب العالم رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔ اس کا مل مردِ خدا اور شریعت ومعرفت کے بے بدل رہنما حضرت سلطان العارفینؒ کی ولادت۹۰۰ ہجری میں تجر نامی گاؤں جو سوپور سے ۵۱ کلومیڑ دور ہے۔ ایک نیک گھرانے میں ہوئی ۔آپؒ تجرسے سرینگر تشریف لائے اورکوہِ ماران کے دامن میں سکونت پذیر ہوکر لوگوں کی جس قدرتربیت کی ،وہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور حضرت رسول رحمت ؐ کی اطاعت اور آخرت کی سرخروئی کے لئےکی تھی۔
آئے آفتاب خوش ضیایکہ پرتو آنگن مرا۔ مردہ دلم زندہ نما یاشیخ حمزہ ؒ پیرےماہ یہ عظیم المرتب ولی کامل، شریعت کے علمبردار طریقت ومعرفت کے رہبر، مجلس روحا نی کے سردار 85سال کی عمر پاکر 24 ماہ صفر المظفر984 ھجری میں واصل بحق ہوئے۔
آخر پر ہماری یہی دعا ہےکہ اللہ تعالیٰ اپنے اس مقدس بندہ اور راہ حق کے عظیم مجاہدکے فیوض حیات بخش کو تا قیامت جاری رکھےاوروادی کشمیر کے تمام لوگوں کو پریشانیوںاور مصیبتوں سے آزاد کردےاور ہمیں توحید و سنت رسول رحمتﷺ کےساتھ ساتھ صالحین واولیاءکاملین کی اتباع کی توفیق عنایت فرمائے۔
( اوم پورہ بڈگام9419500008()